ہفتہ 4 جولائی 2026 - 18:53
یہ دن، تاریخِ اسلام، تاریخِ مقاومت اور ملتِ اسلامیہ کے لیے رنج و الم اور صبر و استقامت کا دن

حوزہ/ رہبرِ انقلاب کی شہادت صرف ملتِ ایران کا غم نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ، جملہ آزاد انسانوں اور ہر اس دل کا سانحہ ہے جو عزت، آزادی، حق گوئی اور ظلم کے خلاف قیام کی قدر جانتا ہے۔ رہبرِ شہید نے اپنے کردار، اخلاص، حکمت اور بے مثال قیادت کے ذریعے ثابت کیا کہ ایمان و استقامت کی قوت دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتوں کو بھی شکست دے سکتی ہے۔

تحریر: مولانا عارف اعظمی

حوزہ نیوز ایجنسی|

بسم الله الرحمٰن الرحیم
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

آج کا دن تاریخِ اسلام، تاریخِ مقاومت اور ملتِ اسلامیہ کے لیے انتہائی رنج و الم، حزن و ملال اور صبر و استقامت کا دن ہے۔ آج ہم اس عظیم ہستی کو سپردِ خاک کر رہے ہیں جس نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی، قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے فروغ، مظلوموں کی حمایت، امتِ مسلمہ کی وحدت اور استکبارِ عالم کے مقابل ڈٹ جانے کے عظیم مشن کے لیے وقف کر دی۔ رہبرِ کبیر، عالمِ ربانی، فقیہِ دوراں، مجاہدِ بے بدل، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ‌ای رحمۃ اللہ علیہ اگرچہ آج اپنے جسمانی وجود کے ساتھ ہم سے رخصت ہو رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے مردانِ خدا کبھی فنا نہیں ہوتے۔ ان کا فکر، ان کا پیغام، ان کی بصیرت، ان کی شجاعت، ان کی استقامت اور ان کی لازوال قربانیاں رہتی دنیا تک زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتی رہیں گی۔
ان کی رحلت صرف ملتِ ایران کا غم نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ، جملہ آزاد انسانوں اور ہر اس دل کا سانحہ ہے جو عزت، آزادی، حق گوئی اور ظلم کے خلاف قیام کی قدر جانتا ہے۔ رہبرِ شہید نے اپنے کردار، اخلاص، حکمت اور بے مثال قیادت کے ذریعے ثابت کیا کہ ایمان و استقامت کی قوت دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتوں کو بھی شکست دے سکتی ہے۔ انہوں نے ہر مظلوم کو حوصلہ، ہر مجاہد کو عزم، ہر عالم کو بصیرت اور ہر آزاد انسان کو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیا۔
اس غم انگیز اور تاریخی موقع پر میں اپنی جانب سے ملتِ ایران، عالمِ اسلام، خانوادۂ معظم، مراجعِ عظام، علمائے کرام، مجاہدینِ راہِ حق اور دنیا بھر کے تمام محبانِ اہلِ بیتؑ کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عظیم شہید کو اپنے مقرب بندوں، انبیاء، صدیقین، صالحین اور شہداء کے اعلیٰ ترین درجات میں جگہ عطا فرمائے، ان کی نورانی قبر کو اپنی رحمتوں سے بھر دے، ان کے پسماندگان، چاہنے والوں اور پوری امت کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور ہمیں ان کے مقدس مشن، ان کے افکار، ان کی راہِ استقامت اور ان کے بلند مقاصد پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
آئیے! اس تاریخی لمحے کو محض اشک بہانے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے دلوں میں یہ عہد تازہ کریں کہ ہم شہداء کے پاکیزہ خون کی حرمت کی حفاظت کریں گے، اسلامی اقدار کے فروغ، مظلوموں کی نصرت، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور رہبرِ شہید کے افکار و تعلیمات کی ترویج کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں گے۔ یہی ان عظیم ہستیوں سے حقیقی وفاداری اور ان کے مشن سے سچی وابستگی کا تقاضا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha