ہفتہ 4 جولائی 2026 - 22:27
تمہاری فرقت و جدائی نے دل کا سکون چھین لیا

حوزہ/ آج جب کہ رہبر معظم قائد شہید حضرت ایت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای طاب ثراہ کی مصلائے تہران میں تشییع کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور دنیا بھر کے مہمانوں کا  سیلِ رواں حضرت آقا کے جنازے کے دیدار کے لئے صف در صف والہانہ چلا آتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی|

دلم قرار نمی گیرد از فغان بی تو
سپندوار ز کف داده ام عنان بی تو

معنی شعر (تمہاری فرقت و جدائی نے دل کا سکون چھین لیا ہے
اور ہاتھ سے خود اپنا اختیار جاتا رہا)

شہید آقای خامنہ ای کی غزل کا یہ شعر ذہن پر چھایا ہوا ہے
امین تخلص فرماتے تھے۔
آپ گویا امین مظلومین عالم امین مستضعفین جہان امین ایران اسلامی وتمام آزادی پسند انسانوں کے قائد ورھبرعظیم الشان کا یہ شعر خراج وتحسین حاصل کررہا ہے۔۔‌۔
تو اب یہ چند سطریں ملاحظہ فرمالیں ۔

آج جب کہ رہبر معظم قائد شہید حضرت ایت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای طاب ثراہ کی مصلاۓتہران میں تشیع کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور دنیا بھر کے مہمانوں کا سیلِ رواں حضرت آقا کے جنازے کے دیدار کے لئے صف در صف والہانہ چلا آتا ہے ۔
تو ہم جیسے قافلہ عشق سے بچھڑ جانے والے ایران عزیز سے دور اپنے سینے میں طوفان غم دبائے ہوئےچشم بہاراں سے دل کو ہلکا کر رہے ہیں اے کاش ہم بھی اس پر شکوہ تشیع جنازہ میں شریک ہوتے اور اپنے قائد شہید کے تابوت کو کاندھا دیتے کس قدر اشتیاق کس قدرعشق ہے آنے والے زائرین میں !
کیوں نہ ہونائب امام زمانہ کا جنازہ ہے ایک شہید حسینی کا جنازہ ہے۔۔۔
دلوں پر حکومت اسی کو کہتے ہیں۔
آئیں دنیا کے سلاطین وامرا اوراپنی حیثیت کا اندازہ لگائیں!! جابرانہ نظام چلانے والے بندوق کی نال کی نوک پر تسلط قائم کرنے والے دنیا بھر میں کیڑے مکوڑوں سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتے
مر جاتے ہیں تو بہت زیادہ اپنے ہی فوجیوں کے دستوں کی بناوٹی بھیڑ کی دو چار چیخ و پکار اور باروت کے اُٹھتے ہوئے دھوئیں میں غبار الود ہو کر بے خبری کے عالم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پیوند زمیں ہو کر ذہنوں سے محو ہو جاتے ہیں ۔۔۔
مگر ایسے شہیدِ والا مقام مظلومین عالم کے پیشوا ظلم و استبداد کے خلاف اپنا سب کچھ قربان کرنے والے قائد ورھبر شہید ایت اللہ خامنہ ای ہوں یا آپ کے مقلدِ عزیز رہبر مقاومت شہید سیدحسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالی علیہما تاریخ کے ماتھے پرتارخ رقم کرجاتے ہیں یہ دونوں نام جاوداں ہو گئے اورتاریخ انسانیت کا استعارہ بن گئے اور ایثار و قربانی کی علامت بن کر دنیا پر چھا گئے ہیں اوراپنے جد حسین ابن علی کی طرح اپنی مظلومانہ شہادت سے وقت کے ڈکٹیٹروں اور دنیا کے تاناشاہوں کی پوری بساط الٹ دی ہے ۔۔۔
ایسے عظیم تھے یہ قائدین کہ جس قدر زندگی میں عزت و عظمت کے حامل تھے اب اس سے کہیں زیادہ شہادت کے بعد عزت و عظمت کے مالک ہیں ۔

عاش سعیدا و مات مغفورا

آپ ہی کے شعر سے آپ کی خدمت میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں

دلم قرار نمی گیرد از فغان بی تو

سپند وار ز کف دادہ ام عنان بی تو

خداوند آپ کی شفاعت ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین

مولانا سید مشاہد عالم رضوی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha