ترجمہ و ترتیب: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
حوزہ نیوز ایجنسی|
ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہای(رہ) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔
پہلی خصوصیت: جانبازی اور شہادت
ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہای(رہ) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔
فرض کریں کہ انسان کسی بہت بڑے بازار میں جائے، کبھی وہ ایک سونے کا سکہ خرچ کرے تو اسی کے برابر پاتا ہے، اور کبھی اگر ہزار سونے کے سکے چاہے تو اسے ہزار سونے کے سکے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔یہ جملے انہوں نے تیر ۱۳۶۰ میں شدید زخمی حالت میں، ہسپتال کے بستر پر کہے، اور اسی طرح شہید بہشتی کے مقام پر رشک کیا اور اس سوداگری کا ذکر کیا جو ایک مؤمن اپنے خدا کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ وہ لمحات تھے جب وہ اپنے عقیدے کی قیمت اپنے جسم اور جان سے ادا کر رہے تھے... جانبازی اس بات کی سند تھی کہ وہ اپنے منتخب راستے پر سچے تھے۔
اور پھرامام خمینی (رہ) کا پیغام:میں آپ عزیز خامنہای کو مبارک دیتا ہوں کہ آپ نے محاذِ جنگ میں سپاہی کے لباس میں اور پشتِ محاذ روحانی کے لباس میں اس مظلوم قوم کی خدمت کی۔ ان کے استاد کے سادہ مگر گہرے اور دوراندیش جملے:میں خداوندِ متعال سے آپ کی صحت کی دعا کرتا ہوں تاکہ آپ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت جاری رکھ سکیں۔
ایسے بے قرار اور عاشق وجود کی خدمت کا جاری رہنا ضروری ہے۔ آخرکار ان کا وقت بھی آئے گا۔ ہمیں خدا کے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ دنیا میں ایک نظام اور قانون ہے جو شاید ہم سے پوشیدہ ہو۔ یہ کہ کیسے سید علی خامنہای(ره) اُس لمحے میں، جب وہ "موت کو سامنے" محسوس کر رہے تھے اور خود کو "عالمِ برزخ" میں دیکھ رہے تھے، دوبارہ زندگی میں لوٹ آئے، اور تین ماہ سے بھی کم عرصے میں ایران کے صدر بنے اور ایک دہائی سے بھی کم وقت میں اپنے استاد کے جانشین بن گئے۔
ہم نہیں جانتے کہ وہ راتوں کی تاریکی اور سحر کی دعاؤں میں اپنے رب سے کیا دعا کرتے تھے۔ مگر آخری منظر بہت کچھ ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ منظر صرف ۱۳۶۰ کے واقعے سے آگے ہے۔ ایسے منظر کی ترتیب اور انجام ایک ایسے انسان کے بغیر ممکن نہیں جو موت کی حقیقت سے آگاہ ہو اور شعوری طور پر حالات کو دیکھ رہا ہو۔ وہی ہے جو معادلات طے کرتا ہے، راستہ دکھاتا ہے اور خود سب سے پہلے اور زیادہ شوق سے اس راہ پر قدم رکھتا ہے۔ ایرانی اساطیر اور حماسی داستانوں میں موت کے لمحات فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ عاشورا کے لیے ہماری عقیدت بھی یہی دکھاتی ہے کہ جان کا نذرانہ مستقبل کا چراغ بن سکتا ہے۔قائد شہید سید علی خامنہای(رہ)کے مولا سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے بارے میں عربی شاعر کہتا ہے: اگر دین اسلام میری شہادت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، "تو اے تلوارو! آؤ مجھ پر ٹوٹ پڑو۔"
شہادت اور استقامت صرف انہی تک محدود نہیں، لیکن اس کے حیرت انگیز جزئیات ان کی ذات سے خاص ہیں؛ یہ غیرمعمولی رہبر سخت ترین اور خطرناک ترین لمحات میں بھی اپنے خاندان کے ساتھ اپنے عقیدے پر ڈٹے رہے۔ یعنی ان کا خاندان اور ان کے بہادر فرزندان بھی شعوری طور پر اسی راستے کو اختیار کر کے اپنے پیشوا کے ساتھ کھڑے رہے، اور قربان ہوتے رہے تاکہ باقی رہیں اور ہمیں باقی رکھیں۔ اس طرح کا انجام ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں منفرد ہے اور صرف سید علی خامنہای(رہ) سے منسوب کیا جاتا ہے۔نصف صدی کی مکمل جانفشانی اور بالآخر ایک خانوادگی شہادت، ایک سالہ شیرخوار سے لے کر ۸۶ سالہ امام تک۔









آپ کا تبصرہ