اتوار 26 جولائی 2026 - 11:59
رہبرِ انقلاب شہید سید علی خامنہ ای (رح) کی منفرد خصوصیات (قسط7)

حوزہ/ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہ‌ای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔

ترتیب وترجمہ: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری

حوزہ نیوز ایجنسی|

ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہ‌ای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔

ساتویں خصوصیت:سادہ زیستی اور زہد

رہبرِ شہید نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ اسلامی حکومت کا ذمہ دار عوام کا خادم ہوتا ہے، ان کا مالک نہیں۔ یہی فکر ان کی پوری زندگی میں نمایاں رہی۔ ان کی رہائش، لباس، خوراک، اہلِ خانہ کی زندگی اور بیت المال کے بارے میں ان کی حساسیت اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ انہوں نے قیادت کو کبھی ذاتی آسائش یا خاندانی اقتدار کا ذریعہ نہیں بنایا۔

ان کی رہائش گاہ کئی دہائیوں تک تہران کے ایک سادہ علاقے میں قائم رہی۔ مختلف ممالک سے آنے والے مہمانوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ وہ ایک عظیم ملک کے رہبر کے گھر کی سادگی دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہاں نہ شاہی محلات کی چمک تھی، نہ قیمتی آرائش، بلکہ ایک عام ایرانی گھرانے کی سادگی نمایاں تھی۔

انقلاب کے ابتدائی برسوں میں ان کے گھر میں بنیادی گھریلو سہولیات بھی دیر سے فراہم ہوئیں۔ ان کے قریبی افراد بیان کرتے ہیں کہ ایک عرصے تک ان کے گھر میں ریفریجریٹر بھی موجود نہیں تھا، حالانکہ وہ ملک کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔

ان کے لباس کی سادگی بھی ایک مثال تھی۔ آقای فرید حداد عادل، جو آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی شہید زوجہ کے بھائی ہیں، ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دن دیکھا آقای سید مجتبیٰ خامنہ ای اپنی قبا کے بٹن بڑی مشکل سے بند کر رہے ہیں۔ بعد میں انہوں نے اپنی بہن سے کہا کہ معلوم ہوتا ہے یہ لباس ان کے ناپ کا نہیں۔

ان کی بہن نے جواب دیا: "یہ لباس دراصل آقا (رہبرِ شہید) کا ہے۔ آقا اپنے لباس کو اس قدر استعمال کرتے ہیں کہ آستینیں گھس جاتی ہیں یا کہیں سے پھٹ جاتی ہیں، پھر وہ اسے رفو کروا کر دوبارہ پہننا چاہتے ہیں۔ سید مجتبیٰ اصرار کرتے ہیں کہ یہ لباس اب آپ نہ پہنیں، مجھے دے دیجیے۔ وہ خود وہی پرانا لباس پہن لیتے ہیں تاکہ آقا نئے لباس کا آرڈر دینے پر آمادہ ہو جائیں۔"

یہ واقعہ اس زہد اور قناعت کی ایک دل نشین جھلک پیش کرتا ہے جو رہبرِ شہید کی پوری زندگی پر محیط تھی۔

ان کے بارے میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ بیت المال کے استعمال میں وہ غیر معمولی احتیاط برتتے تھے اور سرکاری وسائل کو ذاتی ضروریات کے لیے استعمال کرنے سے سخت اجتناب کرتے تھے۔ وہ حکومتی ذمہ داروں کو بھی مسلسل یہی نصیحت کرتے تھے کہ عوام کے مال کو امانت سمجھیں۔

ان کے اہلِ خانہ نے بھی اپنے منصب کو کبھی ذاتی مراعات کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ علاج معالجے کے لیے بھی عام طبی مراکز سے رجوع کیا گیا اور خصوصی پروٹوکول یا امتیازی سہولتوں سے گریز کیا گیا۔

ان کی شہیدہ بہو نے برسوں تک ایک محروم علاقے میں بطور معلمہ خدمات انجام دیں۔ رہبرِ شہید کے خاندان نے ہمیشہ عام شہریوں کی طرح معاشرتی ذمہ داریاں ادا کیں اور کبھی اقتدار کی وجہ سے خصوصی حیثیت اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی۔

رہبرِ شہید کے فرزند بھی طویل عرصۂ قیادت کے باوجود کسی وزارت، گورنری، پارلیمانی قیادت یا دیگر اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز نہیں رہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں، جہاں اکثر حکمرانوں کے خاندان اقتدار کے مراکز پر قابض نظر آتے ہیں، یہ طرزِ عمل ایک نمایاں امتیاز سمجھا جاتا ہے۔

ان کی شہادت کے بعد بہت سے لوگوں نے پہلی مرتبہ ان کے فرزندوں کو قریب سے دیکھا۔ اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوئی کہ وہ عوامی زندگی سے دور، خاموشی کے ساتھ اپنی ذاتی اور علمی مصروفیات میں مشغول رہے اور رہبرِ شہید نے اپنے خاندان کو اقتدار کا حصہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

ان کے حامی یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ان کی شہادت کے بعد ان کی ذاتی زندگی اور اثاثوں کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات میں کسی وسیع کاروباری سلطنت، شاہانہ محل، فارم ہاؤس، قیمتی گاڑیوں یا بیرونِ ملک ذاتی دولت کا کوئی نمایاں ذکر نہیں تھا۔ ان کے نزدیک یہ طرزِ زندگی اس بات کی دلیل تھا کہ رہبرِ شہید نے اقتدار کو دولت جمع کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا۔

ایران کی معاصر تاریخ میں اگر قاجار اور پہلوی ادوار کے شاہی محلات، پرتعیش اخراجات اور خاندانی اقتدار کا تقابل رہبرِ شہید کی زندگی سے کیا جائے تو ایک نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ ایک طرف اقتدار وراثت اور شاہانہ زندگی کی علامت تھا، جبکہ دوسری طرف رہبرِ شہید نے سادگی،زہد، قناعت اور خدمت کو اسلامی حکمرانی کا معیار بنا کر پیش کیا۔

رہبرِ شہید کی سادہ زیستی اور زاہدانہ زندگی محض ان کی ذاتی عادت نہیں تھی بلکہ اسلامی حکمرانی کا ایک عملی نمونہ تھی۔ ان کی زندگی تمام اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے لیے یہ پیغام رکھتی ہے کہ اقتدار کی حقیقی عظمت محلات، دولت، خاندان پروری اور تشریفات میں نہیں بلکہ امانت، قناعت، بیت المال کی حفاظت اور عوام کے ساتھ عملی وابستگی میں ہے۔ یہی وہ میراث ہے جو ایک اسلامی رہنما کو تاریخ میں زندہ رکھتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha