اتوار 9 اگست 2026 - 15:01
رہبرِ انقلاب شہید سید علی خامنہ ای (رح) کی منفرد خصوصیات (قسط11)

حوزہ/شہید رہبرِ معظم انقلاب سید علی خامنہ‌ای (رح) کی شخصیت کا ایک نہایت ممتاز پہلو کتاب سے غیر معمولی اُنس اور مطالعے کا شوق تھا۔ ان کے نزدیک مطالعہ محض معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی تعمیر کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کتاب کے ساتھ ایسا تعلق قائم رکھا جو اہلِ علم، محققین اور نوجوان نسل کے لیے ایک مثالی نمونہ بن گیا۔

ترتیب وترجمہ:ڈاکٹر محمد لطیف مطہری

حوزہ نیوز ایجنسی|

ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہ‌ای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔

گیارہویں خصوصیت: کتاب سے گہرا اُنس اور وسیع مطالعہ

شہید رہبرِ معظم انقلاب سید علی خامنہ‌ای (رح) کی شخصیت کا ایک نہایت ممتاز پہلو کتاب سے غیر معمولی اُنس اور مطالعے کا شوق تھا۔ ان کے نزدیک مطالعہ محض معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی تعمیر کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کتاب کے ساتھ ایسا تعلق قائم رکھا جو اہلِ علم، محققین اور نوجوان نسل کے لیے ایک مثالی نمونہ بن گیا۔

شہید رہبر معظم نے نوجوانی ہی سے درسی کتابوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تاریخ، ادب، شاعری، حدیث، افسانے اور ناولوں کا وسیع مطالعہ کیا۔ کم عمری ہی میں دنیا کے بہت سے معروف ناول اور ادبی شاہکار ان کی نظر سے گزر چکے تھے۔ شعر و ادب سے انہیں غیر معمولی شغف تھا، اور عربی زبان میں مہارت حاصل کرنے کے بعد حدیث، تفسیر اور اسلامی معارف کے مطالعے میں بھی ان کی دلچسپی روز افزوں ہوتی گئی۔

مشہد میں ان کے والدِ محترم کی ذاتی لائبریری ان کے لیے علم کا ایک قیمتی خزانہ تھی۔ اس کے علاوہ وہ کتابیں خریدتے بھی تھے اور کرائے پر بھی حاصل کرتے تھے۔ آستانِ قدس رضوی کی عظیم لائبریری ان کی پسندیدہ علمی پناہ گاہ تھی، جہاں وہ گھنٹوں مطالعے میں اس قدر محو رہتے کہ کبھی اذان کی آواز بھی ان کی توجہ اپنی طرف مبذول نہ کرا پاتی۔ یہ کیفیت اس حقیقت کی غماز ہے کہ کتاب سے ان کا تعلق محض ایک عادت نہیں بلکہ عشق، معرفت اور فکری ریاضت کا تعلق تھا۔

رہبرِ معظم انقلاب نے زندگی بھر اس ذوق کو برقرار رکھا۔ وہ فقہی، علمی اور تخصصی کتابوں کے ساتھ ساتھ تاریخ، ناول، سوانح اور بالخصوص دفاعِ مقدس اور مدافعانِ حرم کے شہداء کی یادداشتوں کا نہایت شوق سے مطالعہ کرتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ یادداشتیں کتاب نویسی کی ایک نئی، مؤثر اور قیمتی صنف ہیں، کیونکہ ان میں ایمان، ایثار، اخلاص، استقامت اور قربانی کے حقیقی نقوش محفوظ ہیں، اور ہر نئی کتاب انسان کے لیے معرفت و بصیرت کے نئے دریچے وا کرتی ہے۔

ان کی علمی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ صرف دینی اور تخصصی علوم تک محدود نہیں تھے بلکہ عالمی ادب کے بہترین شاہکاروں سے بھی گہری واقفیت رکھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ حقیقی فن اور اعلیٰ اخلاق ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکمیل کنندہ ہیں۔ اسی لیے وہ رومن رولان سے منسوب اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ ایک عظیم فن پارہ صرف اخلاق یا صرف فن کا نام نہیں، بلکہ سو فیصد فن اور سو فیصد اخلاق کا حسین امتزاج ہوتا ہے؛ یعنی وہ فنی اعتبار سے بھی اعلیٰ ترین معیار رکھتا ہو اور انسان کو اخلاق، فضیلت، معرفت اور ارتقا کی راہ بھی دکھاتا ہو۔

اسی فکری ذوق کی بنا پر انہوں نے نوجوانی ہی میں دنیا کے متعدد نامور ادیبوں اور ناول نگاروں کا مطالعہ کیا۔ معروف فرانسیسی ناول نگار میشل زواکو کے بیشتر ناول انہوں نے اسی دور میں پڑھے۔ وکٹر ہیوگو کا شہرۂ آفاق ناول "بینوایاں" انہوں نے پہلی مرتبہ آستانِ قدس رضوی کی لائبریری سے حاصل کیا۔ اگرچہ ابتدا میں مکمل نہ پڑھ سکے، لیکن بعد کے برسوں میں اسے کئی مرتبہ مکمل پڑھا اور ہر بار اس سے نئے ادبی، فکری اور انسانی نکات اخذ کیے۔

شہید رہبر نے یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے ولیم شیکسپیئر کی بیشتر تصانیف کا مطالعہ کیا ہے اور ان کے ادبی کمال سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ان کی عظمت کا اعتراف بھی کیا ہے۔ اسی طرح امریکی ناول نگار ہاورڈ فاسٹ کی متعدد کتابیں ان کے زیرِ مطالعہ رہیں، جنہیں وہ ایک نہایت توانا اور صاحبِ اسلوب ناول نگار قرار دیتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مطالعہ کسی خاص زبان، خطے یا تہذیب تک محدود نہ تھا، بلکہ وہ انسانی فکر کے ہر مفید سرچشمے سے استفادہ کرنے کے قائل تھے۔

شہید رہبرِ معظم انقلاب کا مطالعہ محض معلومات جمع کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ وہ ہر کتاب کو تنقیدی، فکری اور تمدنی زاویے سے پڑھتے تھے۔ ان کے نزدیک کتاب ایک ایسی قوت ہے جو انسان کی شخصیت کو سنوارتی، قوموں کی فکری سمت متعین کرتی اور تہذیبوں کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی بنا پر وہ ہمیشہ نوجوانوں، طلبہ، اساتذہ اور اہلِ قلم کو کتاب سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تلقین کرتے تھے اور معاشرے میں کتاب خوانی کے فروغ کو ایک قومی اور تمدنی ضرورت قرار دیتے تھے۔

ان کی تقاریر، تحریروں اور فکری آثار کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ان کی علمی وسعت کا راز ان کا مسلسل اور منظم مطالعہ تھا۔ قرآن و حدیث، فقہ و فلسفہ، تاریخ و سیاست، ادب و شاعری اور عالمی افکار پر ان کی گہری نظر نے انہیں ایک ایسی جامع شخصیت میں ڈھال دیا جو بیک وقت فقیہ، مفکر، مفسر، ادیب شناس، ثقافتی رہنما اور تمدن ساز قائد کی حیثیت رکھتی تھی۔

تاریخِ ایران میں بہت سے حکمران اقتدار کے مالک رہے، لیکن بہت کم ایسے گزرے جنہوں نے کتاب کو اپنی زندگی کا مستقل ساتھی بنایا ہو۔ رہبرِ معظم انقلاب شہید سید علی خامنہ‌ای (رح) نے اپنی فقاہت، قیادت، ثقافتی بصیرت اور تمدنی فکر کی بنیاد مسلسل مطالعے، تحقیق اور علم دوستی پر استوار کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں علم و عمل، فکر و بصیرت، ادب و تہذیب اور قیادت و معنویت کا حسین امتزاج نمایاں نظر آتا ہے۔بلاشبہ کتاب سے گہرا اُنس، وسیع المطالعہ ہونا، عالمی ادب سے واقفیت، علمی تنوع، تنقیدی فکر اور علم دوستی رہبرِ معظم انقلاب شہید سید علی خامنہ‌ای (رح) کی ان منفرد خصوصیات میں شامل ہیں جنہوں نے انہیں نہ صرف ایران بلکہ عالمِ اسلام کی معاصر تاریخ میں ایک ممتاز مفکر، دانشور، معلم، مصلح اور تمدن ساز رہنما کے طور پر ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha