ترجمہ و ترتیب: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
حوزہ نیوز ایجنسی|
ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔
اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔
پانچویں خصوصیت: تقیہ کو عذر اور پناہ نہ بنانا
رہبر شہید کے نزدیک تقیہ کوئی مقصد نہیں بلکہ ایک حکیمانہ طریقۂ کار تھا۔ بعض عمل سے گریز کرنے والے لوگ اپنی عافیت پسندی اور گوشہ نشینی کو جائز ثابت کرنے کے لیے تقیہ کا سہارا لیتے تھے۔ جہاں بھی انہیں کسی قیمت یا قربانی کا سامنا کرنا پڑتا، وہ تقیہ کا نام لے کر ذمہ داری سے پیچھے ہٹ جاتے اور اسی بہانے آرام و سکون کی زندگی گزارتے، حالانکہ تقیہ اپنی صحیح جگہ پر ایک نہایت دانشمندانہ اور ضروری شرعی اصل ہے۔
رہبر شہید آیت اللہ خامنہای(ره) ہرگز ایسے نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا: "میں میدانِ جہاد میں تلوار اٹھائے آگے بڑھ رہا ہوں۔" مثال کے طور پر برجام کے معاملے میں بعض لوگوں نے رہبر کی حمایت کے نام پر ان کی خاموشی یا انفعال کا تصور پیش کیا، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ رہبر، چونکہ "انسانِ ڈھائی سو سالہ" کی تاریخ پر گہری بصیرت رکھتے تھے، اس لیے وہ اصولی طور پر مذاکرات یا مصالحت کے مخالف نہیں تھے۔
جو شخص اس پوری تاریخ سے واقف ہو، وہ "نرمشِ قہرمانانہ" (بہادرانہ لچک) کے مقام و مفہوم کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر کتاب اس وقت ترجمہ کی تھی جب بعض موجودہ سیاسی کارکن ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔(البتہ اصل مذاکرات ایک چیز ہے اور اس کا مواد اور طریقہ کار دوسری چیز ہے۔)رہبر شہید نے یہاں تک فرمایا کہ "مصلحت بھی حقیقت کا ایک حصہ ہے۔" مصلحت کا مطلب حقیقت پر پردہ ڈالنا، اسے فراموش کرنا یا خود کو دھوکہ دینا نہیں ہے، بلکہ حقیقی مصلحت "صلاح" سے جنم لیتی ہے اور اسے صرف ایک شجاع، دیندار اور سیاسی رہبر ہی صحیح انداز میں نافذ کر سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ، جو خود کو ولایت کا سب سے بڑا ترجمان سمجھتے تھے، رہبرشہید پر یہ اعتراض کرتے تھے کہ وہ مجبوری کے باعث ہاشمی رفسنجانی کو عہدے سے نہیں ہٹا رہے۔
امام خمینیؒ انقلاب کے قیام کے دور کے رہبر تھے، جہاں ذاتی تعبیر و تفسیر کی گنجائش کم تھی؛ جبکہ شہید رہبرآیت اللہ خامنہای (ره)انقلاب کی تفسیر، استحکام اور تثبیت کے دور کے رہبر تھے۔ اس زاویے سے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے تقیہ اور مصلحت شناسی کے باب میں ایک نئی جہت پیش کی۔ انہوں نے "دفعِ افسد بہ فاسد" کے اصول کو نئے انداز سے سمجھایا؛ یعنی جہاں تک ممکن ہو، فاسد اور افسد دونوں کا بیک وقت مقابلہ کیا جائے۔ بعض لوگ دینی اصطلاحات کے ذریعے یہ جواز پیش کر سکتے تھے کہ اسرائیل "افسد" اور امریکہ "فاسد" ہے، لہٰذا افسد کو ختم کرنے کے لیے فاسد سے تعاون کر لیا جائے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ وہ ہر فیصلے سے پہلے اپنے ضمیر اور دینی معیار کی طرف رجوع کرتے تھے اور دیکھتے تھے کہ آیا یہ اقدام واقعی شرع کے مطابق ہے یا محض الفاظ کے ذریعے شرعی جواز پیدا کرنے کی کوشش۔ انہوں نے کبھی بھی تقیہ کو اپنے مؤقف یا ذمہ داری سے فرار کا ذریعہ نہیں بنایا۔
08:48 - 2026/07/20









آپ کا تبصرہ