حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، رہبرِ شہید نے رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ایک روایت کی تشریح کرتے ہوئے اسلامی معاشرے کے ایک نہایت بنیادی مسئلے پر روشنی ڈالی۔
رہبرِ شہید نے فرمایا: جو روایت میں پڑھنے جا رہا ہوں، وہ نہایت لرزا دینے والی اور حیران کن روایت ہے۔
لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ، أَوْ لَیُسَلِّطَنَّ اللَّهُ عَلَیْکُمْ شِرَارَکُمْ، فَیَدْعُوا خِیَارُکُمْ فَلَا یُسْتَجَابُ لَهُمْ. (بحارالانوار، ج۹، ص۳۷۸، ح۲۱)
تم پر لازم ہے کہ اپنے درمیان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو قائم کرو، اسے عام کرو اور اس پر ثابت قدمی سے عمل کرو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ تم پر شریر، فاسد اور وابستہ لوگوں کو مسلط کر دے گا؛ یعنی رفتہ رفتہ ملک کے سیاسی امور کی باگ ڈور حجاج بن یوسف جیسے ظالم لوگوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔
رہبرِ شہید نے فرمایا: وہی کوفہ، جس کے سربراہ امیرالمؤمنینؑ تھے، جہاں آپؑ امر و نہی فرمایا کرتے تھے اور جس کی مسجد میں خطبات ارشاد فرماتے تھے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کر دینے کے باعث رفتہ رفتہ اس مقام تک جا پہنچا کہ حجاج بن یوسف ثقفی وہاں آ پہنچا اور اسی مسجد میں کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگا اور اپنے گمان میں لوگوں کو نصیحت کرنے لگا۔
حجّاج کون تھا؟ حجّاج وہ شخص تھا جس کی نظر میں ایک انسان کا خون اور ایک چڑیا کا خون برابر تھا۔ جس آسانی سے کوئی شخص کسی جانور یا کیڑے کو مار دیتا ہے، اسی بے دردی سے حجّاج ایک انسان کو قتل کر دیتا تھا۔
ایک مرتبہ حجّاج نے حکم دیا کہ کوفہ کے تمام لوگ حاضر ہوں اور گواہی دیں کہ وہ کافر ہیں اور اپنے کفر سے توبہ کرتے ہیں۔ جو شخص اس سے انکار کرے، اس کی گردن اڑا دی جائے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کرنے کے نتیجے میں لوگ اس طرح کے عجیب، ہولناک، غیر معمولی اور ناقابلِ بیان مظالم کا شکار ہوئے۔ جب معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دیا جائے، اور برائی، چوری، دھوکا دہی اور خیانت عام ہو کر رفتہ رفتہ معاشرتی ثقافت کا حصہ بن جائیں، تو اللہ تعالیٰ شریر، فاسد اور وابستہ لوگوں کو تم پر مسلط کر دیتا ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دو، ورنہ اللہ تمہارے بدکردار لوگوں کو تمہارے نیک لوگوں پر مسلط کر دے گا، اور پھر جب نیک لوگ دعا کریں گے تو ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔
حضرت آیت الله العظمیٰ شہید امام خامنہ ای
15 دسمبر 2000









آپ کا تبصرہ