اتوار 19 جولائی 2026 - 17:14
رہبرِ شہید کی نگاہ میں فن کی اہمیّت

حوزہ/ رہبرِ شہید کی نگاہ میں، فن ایک الٰہی امانت اور بہت بڑی نعمت ہے، جس کی قدر سب سے بڑھ کر خود ایک فنکار کو کرنی چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی: رہبرِ شہید آیت الله العظمیٰ امام سید علی حسینی خامنہ ای کے ارشادات پر دوبارہ نظر ڈالنے سے یہ اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے نزدیک فن ایک طاقتور روحانی اور الٰہی ذریعہ ہے۔ اگر اسے حق و حقیقت کے راستے اور انسانیت کی ترقی و کمال کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ کائنات کے گہرے ترین احساسات اور حقائق کو ایک نئے اور مؤثر انداز میں بیان کر سکتا ہے۔

آج کی دنیا میں، جہاں فن کو بعض اوقات محض تفریح، فنی مہارت کے اظہار یا کبھی انسانی معاشرے کو غفلت میں مبتلا کرنے کے ایک ذریعے تک محدود کر دیا گیا ہے، وہاں رہبرِ شہید امام خامنہ‌ای کے فن کے بارے میں نظریات کا ازسرِ نو مطالعہ ہمیں تخلیق اور معنویت کے ایسے نئے اور کم زیرِ بحث پہلوؤں سے آشنا کرتا ہے۔ خصوصاً جب ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارے شہید امام کے نزدیک فن، فنکار کے باطن میں روشن ہونے والا ایک چراغ ہے، جس کا مقصد لطیف حقائق اور گہری حقیقتوں کو ظاہر کرنا ہے۔

اس الٰہی عطیے کی قدر کرنی چاہیے

شہید رہبر کے نزدیک، فن محض ایک حاصل کی گئی مہارت یا فنی تکنیک کا نام نہیں، بلکہ ایک الٰہی عطیہ اور ایسی نعمت ہے جو پروردگارِ عالم نے انسان کو عطا کی ہے۔ اسی لیے وہ خاص طور پر اس بات پر زور دیتے تھے کہ فن انسانی روح کے نہایت اعلیٰ، نفیس اور قیمتی پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ اس کی قدر کی جانی چاہیے اور اسے خدا کی راہ میں صرف کرنا چاہیے۔ ان کے نزدیک فن کی اصل بنیاد تخلیق اور آفرینش میں پوشیدہ ہے۔

شہید قائدِ امت کے نقطۂ نظر سے، فن ایک ایسی روحانی کیفیت ہے جو انسانی روح کی طرح آسانی سے تعریف کے دائرے میں نہیں آتی، لیکن اس کے آثار اور جلوے واضح طور پر دیکھے اور محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ان کے نظریے کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ فن میں ایسے مفاہیم اور حقائق کو بیان کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جنہیں عام زبان کے ذریعے ادا نہیں کیا جا سکتا۔ شہید امام کے نزدیک، فن انسان کے نہایت لطیف تخیلات اور ان گہرے مفاہیم کے اظہار کا ذریعہ ہے جو اگر فن کی زبان نہ ہو تو انسان کے باطن اور دل کی گہرائیوں میں پوشیدہ رہ جاتے ہیں اور کبھی بیان نہیں ہو پاتے۔

اسلام اور قرآن کی فنی تخلیق کی اہمیت پر تاکید

شہید امام خامنہ‌ای کے نزدیک، دینِ اسلام نہ صرف فن کو قبول کرتا ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی تقاریر اور رہنمائی میں قرآنِ مجید کو فن کا اعلیٰ ترین نمونہ قرار دیتے ہوئے فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ نے بلند ترین معارف کو بیان کرنے کے لیے نہایت فصیح، بلیغ اور حسین فنی اسلوب اختیار کیا ہے۔

اس حقیقت کی طرف قرآنِ کریم بھی اشارہ کرتا ہے:اللّٰهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَّثَانِيَ. اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا، ایسی کتاب جو اپنے مضامین میں ہم آہنگ اور بار بار نصیحت کرنے والی ہے۔(سورۂ زمر، آیت 23)

ایک اور مقام پر شہید امام خامنہ‌ای فرماتے ہیں: قرآن کا معجزہ یہ ہے کہ وہ حسن و جمال اور فن کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہے، لیکن اس کے باوجود مکمل طور پر حقیقت کے مطابق ہے، اس میں نہ کوئی خیال آرائی ہے اور نہ کوئی جھوٹ۔ اگر قرآن میں فنی زبان نہ ہوتی تو وہ اتنے عظیم حقائق کو اپنے اندر سمو نہیں سکتا تھا اور نہ ہی لوگوں کے دلوں کو مسخر کر سکتا تھا۔"

قرآنِ مجید خود اپنی بے مثال فصاحت و بلاغت کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ. اور اگر تم اس کتاب کے بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے، تو اس جیسی ایک ہی سورت لے آؤ۔ (سورۂ بقرہ، آیت 23)

یہ دونوں آیات شہید رہبر کے اس نظریے کی بہترین تائید کرتی ہیں کہ قرآنِ مجید حق، حسن، بلاغت اور اعلیٰ ترین فنی اظہار کا کامل نمونہ ہے۔

شہید رہبر کی نظر میں حقیقی اور واقعی فن

شہید رہبر نے ثقافت اور فن سے وابستہ افراد سے ایک ملاقات کے دوران فن کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: فن ایک نہایت قیمتی گوہر ہے۔ اس کی قدر و قیمت صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہ لوگوں کے دلوں اور نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، کیونکہ بہت سی غیر فنی چیزیں بھی دلوں اور نگاہوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ فن ایک الٰہی عطیہ اور خدا کی عطا کردہ نعمت ہے۔ ہر قسم کے فن کی حقیقت ایک الٰہی بخشش ہے۔ اگرچہ فن کا ظہور اس بات میں ہوتا ہے کہ وہ کسی حقیقت کو کس انداز سے بیان کرتا ہے، لیکن فن کی حقیقت صرف یہی نہیں۔ اظہار سے پہلے ایک فنی ادراک اور ایک خاص احساس موجود ہوتا ہے، اور اصل نکتہ بھی یہی ہے۔ جب فنکار کسی حسن، لطافت یا حقیقت کو محسوس اور درک کرتا ہے، تو وہ اپنے اندر روشن فن کے چراغ کی بدولت ان باریک ترین نکات، لطائف اور حقائق کو بیان کرتا ہے، جن کا عام لوگ ادراک بھی نہیں کر سکتے۔ یہی وہ حقیقی اور اصیل فن ہے جو گہرے ادراک، اس کے عکس اور اس کی مؤثر تبیین سے جنم لیتا ہے۔

ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں: فن ایک الٰہی امانت اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور فنکار بھی ایک عظیم نعمت ہے۔ دیکھیے! یہاں دو افراد ذمہ دار ہیں: ایک ہم ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایک فنکار عطا کیا اور ہمیں اپنی نعمت سے نوازا؛ اور دوسرا خود فنکار ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے فن عطا کیا اور اسے بھی اپنی نعمت سے سرفراز فرمایا۔

فن بہترین ذرائع اور مؤثر ترین وسیلہ ہے

فن کی تعریف اور اس کے مقام و مرتبے کی وضاحت میں شہید رہبر کی بصیرت نہایت حکیمانہ اور عمیق ہے۔ وہ فرماتے ہیں: فن کی مکمل تعریف کرنا ممکن نہیں۔ اگرچہ فن کی بہت سی تعریفیں بیان کی گئی ہیں، میں نے بھی مختلف جگہوں پر انہیں پڑھا اور دیکھا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فن ایک روحانی کیفیت ہے۔ اس کی خصوصیات اور اثرات کو بیان کیا جا سکتا ہے، مگر خود فن کو مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ فن انسانی روح کی مانند ہے؛ اگر ہم روح کی تعریف کرنا چاہیں تو کیا کہیں گے؟ روح کی حقیقت کو الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا، انسان صرف اس کے آثار اور خصوصیات کا ذکر کر سکتا ہے۔ فن بھی اسی طرح ہے۔ تمام فنون کی ایک مشترک بنیاد اور ایک مشترک حقیقت ہوتی ہے۔

آپ مزید فرماتے ہیں: فن صحیح یا غلط، ہر قسم کے فکر و نظریے کو پھیلانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ فن ایک وسیلہ، ایک آلہ اور ایک طاقتور میڈیا ہے۔ ہر کام میں، حتیٰ کہ ایک عام تبلیغ میں بھی، فن سے استفادہ کرنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha