تحریر: غلام شبر، جامعۃ المصطفی العالمیہ قم ایران
حوزہ نیوز ایجنسی | تاریخ کبھی کبھی ایسے مناظر بھی دیکھتی ہے جو محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک عہد کی تفسیر بن جاتے ہیں۔ بعض جنازے صرف ایک انسان کی تدفین نہیں، بلکہ ایک فکر، ایک نظریے اور ایک تحریک کے ساتھ کروڑوں انسانوں کی تجدیدِ عہد کا اعلان ہوتے ہیں۔ ایسے اجتماعات تاریخ کے صفحات میں اپنی تعداد سے زیادہ اپنے پیغام، اپنے اثرات اور اپنی معنویت کے باعث ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
ظلم، استبداد اور استکبار کا ہمیشہ سے یہی گمان رہا ہے کہ اگر حق کی آواز بلند کرنے والے کو خاموش کر دیا جائے تو اس کا پیغام بھی دم توڑ دے گا۔ لیکن اس باطل تصور کو قرآن مجید نے چودہ سوسال پہلے ہی ان الفاظ میں تردید کردیا:
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ (آل عمران:169)
شہید کی حیات صرف اس کے رب کے حضور زندہ ہونے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کی فکر، اس کا پیغام، اس کی استقامت اور اس کی قربانی بھی قوموں کی زندگی بن جاتی ہے۔ اس کا جسم سپردِ خاک ہوتا ہے، مگر اس کا پیغام تاریخ کی نبض حیات بن جاتا ہے۔
جب ہمارے شہید رہبر جیسا مردِ حق ظلم، استکبار، جارحیت، نسل کشی اور بے گناہ انسانوں کے قتلِ عام کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، اور مظلوموں کی حمایت و عدل کے قیام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے، تو اس کی شہادت ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ ایک بیدار امت کی نئی زندگی بن جاتی ہے۔
اسلامی تعلیمات کی رو سے شہادت اہلِ ایمان کے لیے ابدی حیات کا عنوان ہے۔ البتہ اگر محض تاریخی اور سماجی زاویے سے دیکھا جائے تو دنیا نے بعض ایسے جنازے بھی دیکھے ہیں جن میں عوامی شرکت نے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ مثلا تمل ناڈو کے سابق وزیرِ اعلیٰ سی۔ این۔ آنندورائی (C. N. Annadurai) کے جنازے میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد، امام خمینیؒ کے جنازے میں تقریباً ایک کروڑ دو لاکھ افراد، شہید قاسم سلیمانی کے جنازے میں تقریباً نوّے لاکھ افراد اور مصر کے سابق صدر جمال عبد الناصر کے جنازے میں تقریباً ستاون لاکھ افراد نے شرکت کی۔
لیکن جب ہمارے شہید رہبر، آیت اللہ خامنہؒ کا جنازہ اٹھا تو اس نے تاریخ کے تمام سابقہ ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیے۔ آپ کے جنازے میں تقریباً چار کروڑ تیس لاکھ افراد کی شرکت نے اسے صرف ایک ریکارڈ ساز اجتماع نہیں بنایا، بلکہ اسے حق و باطل کی کشمکش کا ایک تاریخی اعلان بنا دیا۔ یہ منظر اس حقیقت کی زندہ تفسیر تھا کہ دشمن جسموں کو نشانہ بنا سکتا ہے، مگر نظریات، افکار اور ایمان کو کبھی قتل نہیں کر سکتا۔
اس ریکارڈ ساز جنازے کی عظمت صرف اندرونِ ملک عوامی شرکت تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے عالمی سطح پر بھی غیر معمولی توجہ حاصل کی۔ مختلف ممالک سے سرکاری، پارلیمانی، مذہبی اور عوامی وفود کی شرکت اس حقیقت کا اظہار تھی کہ اس شخصیت کا اثر و نفوذ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں تھا۔
خبروں کے مطابق ۳۸ممالک سے ۹۸ اعلیٰ سطحی وفود، جن میں مجموعی طور پر ۳۶۰ ممتاز شخصیات شامل تھیں، اس تاریخی جنازے میں شریک ہوئیں۔ اسی طرح ۲۵ سفارتی وفود کے تقریباً ۶۴۰ارکان نے بھی مراسمِ تشییع میں شرکت کی۔ ان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد خصوصی طور پر ایران پہنچے تاکہ اس عظیم اجتماع میں اپنی عقیدت، محبت اور وابستگی کا اظہار کرسکیں۔ یہ غیر معمولی بین الاقوامی شرکت اس امر کی غماز تھی کہ یہ جنازہ صرف ایک ملک کا داخلی واقعہ نہیں رہا، بلکہ حق، مقاومت، آزادی اور مظلوموں کی حمایت کی عالمی علامت بن گیا۔
یہ منظر گویا اس حقیقت کی عملی تفسیر تھا کہ بعض شخصیات اپنی زندگی میں قوموں کو بیدار کرتی ہیں اور اپنی شہادت کے بعد سرحدوں کو بھی مٹا دیتی ہیں۔ ان کی فکر زبان، نسل، وطن اور قومیت کی قیود سے بلند ہو کر ایک عالمی احساس میں ڈھل جاتی ہے۔ دشمن جس آواز کو ایک سرزمین تک محدود سمجھتا تھا، شہادت کے بعد وہی آواز دنیا کے گوشے گوشے میں سنائی دینے لگتی ہے۔
دشمن سمجھتا تھا کہ وہ ایک چراغ بجھا دے گا، مگر وہ سنتِ الٰہی سے بے خبر تھا۔ قرآن نے ایسے تمام منصوبوں کے انجام کو پہلے ہی بیان کر دیا ہے:
﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾ (الصف:8)
یہ آیت صرف ایک قرآنی خبر نہیں، بلکہ تاریخ کا ایک دائمی قانون ہے۔ حق کے چراغ کو بجھانے کی ہر کوشش، اسی چراغ کی روشنی میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ دشمن نے جس آواز کو خاموش کرنا چاہا، وہی آواز کروڑوں زبانوں کی صدا بن گئی؛ جس فکر کو دفنانا چاہا، وہی پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ دلوں میں زندہ ہو گئی؛ اور جس پرچم کو گرانا چاہا، اسی کے خون نے ہزاروں نئے پرچم بلند کر دیے۔
علامہ اقبالؒ نے اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے:
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی
اور سعدیؒ نے گویا ایسے ہی نفوسِ قدسیہ کے بارے میں فرمایا:
مردِ نکونام نمیرد ہرگز
مرده آن است کہ نامش به نکویی نبرند
حقیقت یہ ہے کہ ایسے جنازے صرف اشک و آہ کا اجتماع نہیں ہوتے، بلکہ بیداریِ ملت کا نقطۂ آغاز ہوتے ہیں۔ وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ حق کی راہ میں بہنے والا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ ظلم وقتی طور پر غالب دکھائی دے سکتا ہے، مگر تاریخ کا آخری فیصلہ ہمیشہ حق کے حق میں ہوتا ہے۔
دشمن نے ایک شخصیت کو مٹانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اس کی شہادت نے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں دلوں میں اسی فکر کے چراغ روشن کر دیے۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ ایک چراغ بجھا رہا ہے، مگر حقیقت میں وہ خود روشنی کے پھیلنے کا ذریعہ بن گیا۔ یہی اس کی سب سے بڑی ناکامی، سب سے بڑی محرومی اور سب سے بڑی پشیمانی ہے۔
وہ ایک جنازہ نہیں تھا، بلکہ دشمن کے تمام اندازوں کا جنازہ تھا۔ جسے وہ خاموشی کا دن سمجھ رہا تھا، وہ درحقیقت ایک نئی بیداری کا آغاز ثابت ہوا۔ وہ چراغ بجھانے چلا تھا، مگر اس کے اپنے ہاتھوں روشنی کی وسعت میں اضافہ ہو گیا۔ یہی سنتِ الٰہی ہے، یہی تاریخ کا فیصلہ، اور یہی اس ریکارڈ ساز جنازے کا سب سے بڑا پیغام ہے۔
تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ شہید کا جنازہ اس کے جسم کی آخری منزل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیغام کی پہلی عالمی منزل ہوتا ہے۔









آپ کا تبصرہ