بدھ 8 جولائی 2026 - 11:14
شعور کے جنازے کی تشہیر کیوں؟

حوزہ/ تاریخِ انسانیت کا سب سے عظیم جنازہ، سب سے بڑا مجمع، سب سے پُرشکوہ منظر اور سب سے گہرا پس منظر اس حقیقت کا غماز ہے کہ زمانے کا وہ متکلم خاموش ہو گیا جس کی گرجدار آواز شعور کے تبرک تقسیم کیا کرتی تھی۔ وہ مردِ مجاہد، جو ظلمت زدہ زمانوں میں بیداریِ فکر کا چراغ روشن کرتا، امتوں کے مردہ ضمیروں میں زندگی کی حرارت پھونکتا اور رزقِ شعور بانٹتا تھا، آج خاموشی سے ایک تابوت میں محوِ استراحت ہے۔

یادداشت: مولانا گلزار جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

تاریخِ انسانیت کا سب سے عظیم جنازہ، سب سے بڑا مجمع، سب سے پُرشکوہ منظر اور سب سے گہرا پس منظر اس حقیقت کا غماز ہے کہ زمانے کا وہ متکلم خاموش ہو گیا جس کی گرجدار آواز شعور کے تبرک تقسیم کیا کرتی تھی۔ وہ مردِ مجاہد، جو ظلمت زدہ زمانوں میں بیداریِ فکر کا چراغ روشن کرتا، امتوں کے مردہ ضمیروں میں زندگی کی حرارت پھونکتا اور رزقِ شعور بانٹتا تھا، آج خاموشی سے ایک تابوت میں محوِ استراحت ہے۔

دنیا جانتی ہے کہ مقتول اگر زندہ رہتا تو متکلم ہوتا، اور اس کا تکلم کسی ایک خطے، ایک قوم یا ایک مکتب تک محدود نہ رہتا، بلکہ ذوقِ سماعت رکھنے والا ہر انسان اس کی آواز میں اپنی بقا کی صدا سنتا۔ مگر تاریخ کا ایک اٹل قانون ہے کہ جب شہادت زبان کو خاموش کرتی ہے تو صدیاں بولنے لگتی ہیں؛ جب لب خاموش ہوتے ہیں تو کردار تفسیر بن جاتا ہے؛ اور جب جسم مٹی کے سپرد ہوتا ہے تو فکر زمانوں پر حکومت کرنے لگتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شہادت کے بعد تہذیبیں نمو پاتی ہیں، اخلاقیات کی میناریں بلند ہوتی ہیں، حکمت اپنے عروج کو پہنچتی ہے، اور مظلومیت کی خاموش آواز انسانی ضمیر میں اس طرح ارتعاش پیدا کرتی ہے جیسے کسی پُرسکون جھیل میں ایک نوکیلا پتھر پھینک دیا جائے۔ پتھر اگرچہ گہرائی میں اتر جاتا ہے، مگر اس کے بنائے ہوئے دائرے مسلسل پھیلتے رہتے ہیں اور اس کی گہرائی کا پتہ دیتے رہتے ہیں۔ شہید بھی بظاہر خاموش ہو جاتا ہے، مگر اس کی شہادت کے ارتعاش فکر و نظر کے دائروں میں مسلسل وسعت پیدا کرتے رہتے ہیں۔

آج یہی شعور کا جنازہ تشہیر کے دریائے تاریخ میں غوطہ زن ہے۔ ایران کے کوچوں سے تہران کی شاہراہوں تک، نجف کی وادیِ مقدس سے کربلا کی سرزمین تک، اور وہاں سے پوری دنیا کے انسانی ضمیر تک، وہ ایسے فکری دائرے قائم کر رہا ہے جن سے انقلاب کی نئی لکیریں کھینچی جا رہی ہیں، شہادت کو سرحدِ فکر میں داخل کیا جا رہا ہے، اور آزادی کو نئی معنویت عطا کی جا رہی ہے۔

دنیا کا ذرائع ابلاغ، جو کبھی پروپیگنڈے کی بیساکھیوں پر کھڑا ہو کر اسی رہبر پر طرح طرح کے الزامات عائد کرتا تھا، آج اسی شخصیت کے اوصاف بیان کرنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔ یہ صداقت کی وہ فتح ہے جس نے کذب کے قلعے میں رخنہ ڈال دیا۔ جب کردار اپنی دلیل خود بن جائے تو پروپیگنڈے کی تمام دیواریں خود بخود منہدم ہو جاتی ہیں۔

یہ منظر ہمیں کربلا کی یاد دلاتا ہے۔ اگر شہادت کے بعد اسیری کا سفر نہ ہوتا، اگر خطباتِ کوفہ و شام نہ ہوتے، اگر امام زین العابدین علیہ السلام اور حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے یزیدی دربار ہی کو منبرِ حق میں تبدیل نہ کیا ہوتا تو ممکن تھا کہ کربلا کا خون ریگزار میں دفن رہ جاتا۔ مگر اسیری نے شہادت کو زبان دی، خطابت نے خون کی تفسیر کی، اور یزید کا میڈیا خود پیغامِ شہادت کا ذریعہ بن گیا۔ جس دربار میں حق کو چھپانے کی تدبیریں کی جا رہی تھیں، وہی دربار حق کے اعلان کا مرکز بن گیا۔

تاریخ کا یہی قانون آج بھی اپنا اعادہ کر رہا ہے۔ شعور کے جنازے کی یہ عظیم تشہیر درحقیقت ظلم کے عالمی چہروں سے نقاب اتارنے کا عمل ہے۔ نجف و کربلا کی سرزمین پر اٹھنے والا یہ پیغام ہر اس طاقت کے رخسار پر طمانچہ ہے جو ظلم، استعمار اور جبر کو دائمی حقیقت سمجھ بیٹھی ہے۔ جنازہ یہاں اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے؛ خاموشی یہاں سکوت نہیں بلکہ بلند ترین احتجاج ہے؛ اور شہادت یہاں شکست نہیں بلکہ فکر کی ابدی فتح کا عنوان ہے۔

اب امتِ مسلمہ کے سامنے انتخاب ہے۔ وہ چاہے تو اس جنازے کو محض ایک تاریخی واقعہ سمجھ کر گزر جائے، اور چاہے تو اسے اپنے فکری احیاء، سیاسی بصیرت، اخلاقی بیداری اور روحانی آزادی کا نقطۂ آغاز بنا لے۔ غلامی کا قلادہ اتار کر حریت کی شاہراہ اختیار کرے، اور عمر بھر تقسیم ہونے والے اس رزقِ شعور کو اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر کے اسے علم، ادب، حکمت اور بصیرت کا سرمایہ بنا لے۔

قرآنِ کریم نے ہدایت کا راستہ واضح کر دیا ہے:﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا﴾"ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب وہ چاہے شکر گزار بنے اور چاہے ناشکرا۔"

جب انسان قرآن کی روشنی میں تدبر و تعقل کے دروازے کھولتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ شعور کے جنازے کی یہ تشہیر دراصل بشریت کے کاسۂ شعور میں علم، حکمت، آزادی اور عزت کی خیرات تقسیم کرنے کا ایک الٰہی انتظام ہے۔

بارگاہِ رب العزت میں دعا ہے کہ وہ ہمیں شہادت کے اسرار کو سمجھنے، حکمت کے خزانوں تک رسائی حاصل کرنے، ظلم کی حکومتوں کے سامنے استقامت اختیار کرنے اور شعور کے اس پیغام کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha