منگل 7 جولائی 2026 - 20:29
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی کا رہبرِ شہید کے لیے منفرد "شہادت نامہ"؛ نمازِ جنازہ میں ایمان افروز گواہیاں

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کے پیکرِ مطہر پر نمازِ جنازہ کی امامت کرتے ہوئے دعا کے اختتامی حصے میں ایک تاریخی اور منفرد "شہادت نامہ" پیش کیا، جس میں انہوں نے رہبرِ شہید کو اسلام، قرآن، عترت، امتِ مسلمہ، اس کی عزت، وحدت اور سربلندی کی راہ کا شہید قرار دیا۔ اس موقع پر مرجعِ تقلید شدتِ غم سے آبدیدہ ہوگئے اور نماز سے قبل رہبرِ شہید کے عمامے کو بوسہ دے کر اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار بھی کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید انقلاب اسلامی اور ان کے اہلِ خانہ کے شہداء کی نمازِ جنازہ آج بروز منگل مسجد مقدس جمکران میں آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی کی امامت میں ادا کی گئی، جس میں لاکھوں عاشقانِ ولایت نے شرکت کی۔

نمازِ جنازہ کے دوران آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی اپنے آنسوؤں پر قابو نہ پاسکے اور وہ رہبرِ شہید کی جدائی کے غم میں اشک بار ہوگئے۔ انہوں نے نماز کے اختتامی حصے میں رہبرِ شہید کے فضائل اور خدمات کو سمیٹتے ہوئے ایک خصوصی "شہادت نامہ" قراءت کیا، جس کے اہم اقتباسات درج ذیل ہیں:

اللَّهُمَّ إِنَّهُ نَزَلَ مُجاهِداً، مُبالِغاً، وَرِعاً، مُوَحِّداً، مُتَأَلِّهاً

بارالٰہا! وہ تیرے حضور اس حال میں حاضر ہوا ہے کہ وہ عظیم مجاہد، اپنے فرائض کی ادائیگی میں انتھک، نہایت پرہیزگار، موحد اور خدا شناس تھا۔

اس کے بعد انہوں نے رہبرِ شہید کے مقامِ شہادت کی گواہی دیتے ہوئے عرض کیا:

اللَّهُمَّ، اللَّهُمَّ، اللَّهُمَّ، إِنَّهُ نَزَلَ عِنْدَکَ شَهِيدًا لِلْإِسْلَامِ وَالْقُرْآنِ وَالْعِتْرَةِ؛ هَذَا أَوَّلًا

بارالٰہا! بارالٰہا! بارالٰہا! وہ تیرے حضور اسلام، قرآن اور عترت کی راہ میں شہید ہو کر حاضر ہوا ہے، اور یہ ہماری پہلی گواہی ہے۔

پھر انہوں نے رہبرِ شہید کی قربانی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے کہا:

اللَّهُمَّ، اللَّهُمَّ، اللَّهُمَّ، إِنَّهُ نَزَلَ عِنْدَكَ قَتِيلًا لِلْإِسْلَامِ؛ قَتِيلًا لِلْأُمَّةِ الْمُسْلِمَةِ؛ قَتِيلًا لِسِيَاسَتِهَا؛ قَتِيلًا لِصِيَانَتِهَا؛ قَتِيلًا لِكِيَانِهَا؛ قَتِيلًا لِعَظَمَتِهَا وَسِيَادَتِهَا وَمَوْلَوِيَّتِهَا وَوَحْدَتِهَا

بارالٰہا! وہ اسلام کی خاطر قتل ہوا، امتِ مسلمہ کی خاطر قتل ہوا، اس کے اسلامی نظام اور سیاست کی خاطر، اس کی حفاظت کی خاطر، اس کے وجود و تشخص کی خاطر، اور اس کی عظمت، سیادت، ولایت اور وحدت کے تحفظ کی راہ میں اپنی جان قربان کر کے تیرے حضور حاضر ہوا ہے۔

دعا کے اختتام پر آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے عرض کیا:

اللَّهُمَّ احْشُرْهُ مَعَ الْأَئِمَّةِ الْهُدَاةِ الْمَهْدِيِّينَ

بارالٰہا! انہیں ائمۂ ہدایتؑ کے ساتھ محشور فرما۔

وَاخْلُفْ عَلَى أَهْلِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَصَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، وَاحْشُرْنَا مَعَهُ مَعَ عِنَايَتِكَ وَعِنَايَةِ مُحَمَّدٍ وَعِتْرَتِهِ الطَّاهِرِينَ

بارالٰہا! ان کے اہلِ خانہ کے لیے بہترین جانشین بن، ان پر اور ان کے تمام اہلِ خانہ پر اپنی رحمت نازل فرما، اور ہمیں بھی اپنی خاص عنایت اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی عترتِ طاہرہؑ کی عنایت کے طفیل ان کے ساتھ محشور فرما۔

قابلِ ذکر ہے کہ نمازِ جنازہ سے قبل آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے رہبرِ شہید کے عمامے کو عقیدت و محبت کے ساتھ بوسہ دیا، جس کا منظر حاضرین کے لیے انتہائی جذباتی اور ایمان افروز تھا اور اسے مرجعیت اور ولایت کے گہرے روحانی تعلق کی علامت قرار دیا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha