ہفتہ 11 جولائی 2026 - 10:27
رہبر شہید کا جنازہ نہیں، ایک امت کا عہد تھا

حوزہ/کبھی کبھی تاریخ میں ایسے لمحے آتے ہیں جب وقت خود رک کر کسی منظر کو دیکھتا ہے، نسلیں خاموش ہو کر ایک واقعے کی گواہ بنتی ہیں، اور دنیا اعتراف کرتی ہے کہ یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں، بلکہ تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ہمارے شہید رہبر کی تشییع بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھی۔

تحریر: مولانا غلام شبر حوزہ علمیہ قم ایران

حوزہ نیوز ایجنسی| کبھی کبھی تاریخ میں ایسے لمحے آتے ہیں جب وقت خود رک کر کسی منظر کو دیکھتا ہے، نسلیں خاموش ہو کر ایک واقعے کی گواہ بنتی ہیں، اور دنیا اعتراف کرتی ہے کہ یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں، بلکہ تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ہمارے شہید رہبر کی تشییع بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھی۔

کل رات انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا، لیکن اس سے پہلے ایک ہفتہ ایسا گزرا جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ شہر در شہر، لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان اپنے محبوب رہبر کو آخری سلام پیش کرنے نکلے۔ تہران کی شاہراہیں انسانی سمندر میں بدل گئیں، قم کی سڑکیں اشکوں سے تر ہو گئیں، مشہد کی فضا سوگوار ہو گئی، اور نجف و کربلا کی مقدس سرزمینوں نے بھی اس غم کو اپنی آغوش میں سمو لیا۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے لوگوں نے ثابت کر دیا کہ یہ شخصیت کسی ایک قوم، ایک ملک یا ایک خطے کی نہیں رہی تھی؛ وہ امت کے دل کی دھڑکن بن چکی تھی۔

یہ منظر صرف محبت کا اظہار نہ تھا، بلکہ ایک خاموش اعلان تھا؛ ایک ایسا اعلان جس کی گونج ظالموں کے ایوانوں تک پہنچ رہی تھی۔ وہ جنہوں نے یہ سمجھا تھا کہ ایک بم دھماکہ ایک ملت کو خاموش کر دے گا، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ شہادت نے وہ کام کر دکھایا جو برسوں کی تبلیغ بھی شاید نہ کر سکتی۔

جب وہ زندہ تھے تو بہت سے لوگ انہیں صرف ایک رہبر سمجھتے تھے، لیکن جب وہ ہم سے جدا ہوئے تو دلوں پر ان کی قدر کا وہ نقش ابھرا جسے زمانہ مٹا نہیں سکے گا۔ یہی دنیا کی فطرت ہے؛ نعمت کی قدر اکثر اس کے چھن جانے کے بعد ہوتی ہے۔ شہادت نے ان کی عظمت کو چھپایا نہیں، بلکہ اسے آشکار کر دیا۔ جو انہیں نہیں جانتے تھے، وہ انہیں جاننے لگے۔ جو ان سے دور تھے، وہ قریب آگئے۔ جو خاموش تھے، وہ ان کے حق میں بول اٹھے۔ اور جو اختلاف رکھتے تھے، ان میں سے بھی بہت سوں نے احترام کے ساتھ ان کے کردار کو سلام پیش کیا۔

قاتل نے سمجھا تھا کہ وہ ایک چراغ بجھا دے گا، مگر اس نے انجانے میں لاکھوں چراغ روشن کر دیے۔

اس نے سوچا تھا کہ ایک آواز خاموش ہو جائے گی، مگر وہ آواز لاکھوں زبانوں سے بلند ہونے لگی۔

اس نے گمان کیا تھا کہ ایک رہبر کا جنازہ اٹھے گا، مگر حقیقت میں اس کے اپنے خوابوں کا جنازہ اٹھ گیا۔

یہ تشییع محض ایک میت کی تشییع نہ تھی، بلکہ ظالم کے غرور کی تدفین تھی۔ ہر قدم جو اس جنازے کے ساتھ اٹھا، ظلم کے ایوانوں پر ایک گرجتی ہوئی ضرب تھا۔ ہر آنکھ سے ٹپکنے والا آنسو قاتل کے چہرے پر ایک زوردار طمانچہ تھا۔ ہر نعرہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ خونِ شہید کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔

صدیوں میں کبھی کبھار ایسے جنازے اٹھتے ہیں جو صرف ایک انسان کو قبر تک نہیں پہنچاتے، بلکہ پوری امت کے شعور کو بیدار کر دیتے ہیں۔ ایسے جنازے تاریخ کے اوراق پر نہیں لکھے جاتے، بلکہ قوموں کے دلوں میں نقش ہو جاتے ہیں۔ وہ وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے، بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی نسلوں کو ایک نیا پیغام دیتے ہیں۔

آج دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ محبت کو قتل نہیں کیا جا سکتا، وفاداری کو بموں سے اڑایا نہیں جا سکتا، اور ایک سچے رہبر کا رشتہ صرف زندگی تک محدود نہیں ہوتا۔ بعض رشتے موت کے بعد شروع ہوتے ہیں، بعض محبتیں جدائی کے بعد اور زیادہ گہری ہو جاتی ہیں، اور بعض رہبر اپنی شہادت کے بعد اپنی قوم کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں۔

ہمارے شہید رہبر آج اگرچہ مٹی کی آغوش میں آرام فرما ہیں، لیکن ان کا جنازہ اپنے پیچھے ایک عہد چھوڑ گیا ہے؛ حق پر ڈٹے رہنے کا عہد، ظلم کے سامنے نہ جھکنے کا عہد، امت کی عزت و سربلندی کا عہد، اور اس پرچم کو کبھی سرنگوں نہ ہونے دینے کا عہد جسے انہوں نے اپنی پوری زندگی اور اپنے خون سے سربلند رکھا۔

یہ جنازہ ختم ہو گیا، لیکن اس کا پیغام ابھی شروع ہوا ہے۔

یہ تدفین مکمل ہو گئی، مگر اس کے ساتھ ایک نئی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر آ گئی ہے۔

اب ہماری وفاداری کا معیار آنسو نہیں، بلکہ استقامت ہے؛ جذبات نہیں، بلکہ عمل ہے؛ اور محبت کا حقیقی ثبوت یہ ہے کہ ہم اس راہ پر ثابت قدم رہیں جس پر ہمارے شہید رہبر اپنی آخری سانس تک قائم رہے۔

بارِ الٰہا! ہمارے شہید رہبر کی اس عظیم قربانی کو امتِ مسلمہ کی بیداری، مظلوموں کی قوت اور ظالموں کی رسوائی کا ذریعہ بنا۔ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات کو اپنے مقرب بندوں میں بلند فرما، اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کے خون سے کیے گئے اس عہد کو کبھی فراموش نہ کریں۔ پروردگار! اس امت کو ہمیشہ ایسے مخلص، شجاع اور بصیر رہبروں سے نواز، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha