حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ مدرسین اور حوزہ ہائے علمیہ کی سپریم کونسل کے رکن آیت اللہ سید محمد غروی نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو میں شہید امام خامنہ ای کی شہادت پر ملتِ ایران، عالمِ اسلام اور حوزہ ہائے علمیہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عظیم سانحہ ہے، جس پر ہم تمام مسلمانوں، انقلابِ اسلامی کے وابستگان اور اہلِ علم کو دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔
آیت اللہ غروی نے مزید کہا کہ شہید امام حوزۂ علمیہ کی آغوش میں پروان چڑھے اور اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتوں کو وہیں جِلا بخشی۔ اسی لیے انہیں حوزۂ علمیہ کا ایک عظیم ثمر اور میرے نزدیک "حوزہ کا تاج" قرار دیا جا سکتا ہے، جس طرح حضرت امام خمینیؒ بھی حوزاتِ علمیہ کی عظیم ترین شخصیات اور نمایاں ثمرات میں شمار ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص کسی جامعہ سے وابستہ ہو تو عموماً اپنی علمی شناخت اور ترقی کا مرکز اسی جامعہ کو قرار دیتا ہے، لیکن شہید امام نے ہمیشہ اپنی شناخت ایک حوزوی کی حیثیت سے کرائی اور اپنی پوری علمی و فکری زندگی کو حوزۂ علمیہ کی دین قرار دیا۔ یہی طرزِ فکر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ حوزاتِ علمیہ کے مقام، کردار اور اثر و رسوخ پر گہرا ایمان رکھتے تھے۔
شہید امام کے نزدیک حوزۂ علمیہ کی ذمہ داریاں نہایت وسیع تھیں
آیت اللہ غروی نے کہا کہ شہید امام حوزۂ علمیہ کے لیے ایک وسیع اور ہمہ گیر رسالت کے قائل تھے۔ ان کے نزدیک حوزہ کی ذمہ داری صرف دینی علوم کا حصول نہیں، بلکہ اسلامی اور الٰہی معارف کو صحیح طور پر سمجھنا، انہیں زمانے کے تقاضوں کے مطابق واضح کرنا، اور ایسی زبان میں معاشرے تک پہنچانا ہے جو آج کے مخاطب کے لیے قابلِ فہم ہو۔
رکنِ مجلسِ عالیِ حوزاتِ علمیہ نے مزید کہا کہ حوزہ صرف دینی معارف کی تبلیغ کا ذمہ دار نہیں، بلکہ دین کا علمی اور فکری دفاع کرنا بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے حوزہ کی رسالت دین کو سمجھنا، اس کی درست تشریح کرنا، اسے لوگوں تک پہنچانا، اور شبہات و فکری چیلنجز کے مقابلے میں اسلامی تعلیمات کا مؤثر دفاع کرنا ہے۔
استادِ حوزۂ علمیہ قم نے کہا کہ شہید امام کا یقین تھا کہ اگر اسلام کے الٰہی اور سماجی معارف کو صحیح انداز میں سمجھ کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے تو معاشرہ دین کی حقیقت کو پہچان لے گا، اور یہی صحیح معرفت لوگوں میں دین کی طرف شعوری اور آگاہانہ رجحان پیدا کرے گی۔
اخلاق، شہید امام کی تعلیمات کا اہم ترین محور تھا
رکنِ جامعۂ مدرسینِ حوزۂ علمیہ قم، آیت اللہ غروی نے کہا کہ شہید امام کی تعلیمات میں اخلاق کو نہایت بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ان کے نزدیک اخلاق صرف اخلاقی اصولوں اور تعلیمات سے آگاہی کا نام نہیں، بلکہ حقیقی اخلاق اس وقت وجود میں آتا ہے جب یہ اقدار انسان کے وجود میں راسخ ہو جائیں اور اس کے کردار، گفتار اور شخصیت میں نمایاں نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی بنیاد پر شہید امام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اہلِ حوزہ کو اخلاقِ الٰہی اور اخلاقِ اسلامی کا عملی نمونہ بننا چاہیے، اور اپنے اخلاص، حسنِ سلوک، گفتار اور عوام کے ساتھ اپنے طرزِ عمل کے ذریعے ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کی عملی تصویر پیش کرنی چاہیے۔
تبلیغِ دین، حوزۂ علمیہ کی تعلیم و تحقیق کا حتمی مقصد ہے
آیت اللہ غروی نے کہا کہ تبلیغِ دین بھی شہید امام کی تعلیمات کے اہم ترین محوروں میں سے ایک تھا۔ ان کے نزدیک حوزۂ علمیہ کی تمام تعلیمی، تحقیقی، تدریسی اور علمی سرگرمیوں کا آخری مقصد اسلام کی تبلیغ اور عوام تک دینِ حق کا حقیقی پیغام پہنچانا ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید امام کا عقیدہ تھا کہ اسلامِ ناب کو ایسے مؤثر اور مناسب انداز میں معاشرے کے سامنے پیش کیا جائے جو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور لوگوں کے لیے قابلِ فہم ہو، تاکہ وہ دین کی حقیقی تعلیمات سے صحیح طور پر آشنا ہو سکیں۔
حوزۂ علمیہ، الٰہی و اسلامی تمدن کی بنیاد فراہم کرے
استادِ حوزۂ علمیہ قم آیت اللہ غروی نے شہید امام کے تمدنی نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک حوزۂ علمیہ الٰہی و اسلامی تمدن کے قیام کی بنیاد فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ وہ معتقد تھے کہ اس تمدن کا فکری، ثقافتی اور علمی ڈھانچہ، یعنی اسلامی افکار، ثقافت اور معارف کی تخلیق و ترویج، حوزاتِ علمیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے حوزہ کو چاہیے کہ ان اصولوں کی تدوین، تشریح اور انہیں معاشرے میں راسخ کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس عظیم ذمہ داری کی تکمیل کے لیے تخصصی شعبوں کی توسیع، ماہر افراد کی تربیت، مختلف زبانوں سے استفادہ اور متنوع علمی میدانوں میں حوزہ کی فعال موجودگی ضروری ہے، تاکہ وہ عصرِ حاضر کے تقاضوں اور معاشرے کی بدلتی ہوئی ضروریات کا مؤثر جواب دے سکے۔
شہید رہبر کا حوزۂ علمیہ سے مسلسل اور مضبوط رابطہ رہا
آیت اللہ غروی نے کہا کہ شہید رہبر کا حوزہ ہائے علمیہ سے ہمیشہ مسلسل اور مضبوط ارتباط قائم رہا۔ انہوں نے بتایا کہ شورائے عالیِ حوزاتِ علمیہ حوزہ کی پالیسی سازی اور اہم منصوبوں کی منظوری کا ذمہ دار ادارہ ہے اور اس کے اراکین کا انتخاب مراجعِ عظامِ تقلید اور رہبرِ معظمِ انقلاب کی تائید سے ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ادوار میں شورائے عالی کے اراکین، شہید رہبر کی تائید کے بعد منتخب ہوتے تھے، اور ان کے ساتھ ہونے والی مسلسل ملاقاتوں میں حوزہ ہائے علمیہ سے متعلق رہبر کے نظریات، ہدایات اور رہنمائی سے استفادہ کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ حوزہ ہائے علمیہ کے نام ان کے جاری کردہ پیغامات بھی اس بات کا واضح اظہار تھے کہ وہ حوزہ سے کیا توقعات رکھتے تھے اور اس کے لیے کن اہداف کو ضروری سمجھتے تھے۔
حوزۂ علمیہ کا انقلابی کردار، شہید رہبر کے اہم ترین مطالبات میں شامل تھا
آیت اللہ غروی نے کہا کہ شہید رہبر کی اہم ترین تاکیدات میں سے ایک یہ تھی کہ حوزاتِ علمیہ اپنی انقلابی روح اور کردار کو برقرار رکھیں۔ ان کے نزدیک حوزۂ علمیہ ہی انقلابِ اسلامی کا سرچشمہ ہے، اس لیے اگر انقلاب اپنی صحیح سمت پر قائم رہنا اور ہر قسم کے انحراف سے محفوظ رہنا چاہتا ہے تو حوزہ اور اسلامی نظام کے درمیان مضبوط اور مؤثر تعلق ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر کے نزدیک حوزۂ علمیہ کو اسلامی نظام اور معاشرے کے مسائل کے بارے میں احساسِ ذمہ داری رکھنا چاہیے، نظامِ اسلامی کی فکری اور معرفتی بنیادوں کو واضح کرنا چاہیے، اور نظام کی حمایت کے ساتھ اگر کہیں کسی قسم کا انحراف یا کج روی نظر آئے تو خیرخواہی، مکالمے، نصیحت اور بصیرت افروز رہنمائی کے ذریعے اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔
آیت اللہ غروی نے مزید بتایا کہ شہید رہبر بعض حوزوی اداروں کو خصوصی طور پر یہ ہدایت دیتے تھے کہ وہ حوزہ اور اسلامی نظام کے معاملات پر گہری نظر رکھیں، اور اگر کسی کمزوری یا انحراف کا مشاہدہ کریں تو اسے صحیح انداز میں، گفت و شنید اور مناسب ذرائع کے ذریعے متعلقہ ذمہ داران تک پہنچا کر اصلاح کی راہ ہموار کریں۔
شہید رہبر کا حوزہ ہائے علمیہ کے بارے میں جامع اور ہمہ جہت نقطۂ نظر
آیت اللہ غروی نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ شہید رہبر حوزاتِ علمیہ کے بارے میں نہایت جامع اور ہمہ جہت نقطۂ نظر رکھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اگر اسلامی نظام مطلوبہ ترقی، استحکام اور تکامل حاصل کرنا چاہتا ہے تو حوزۂ علمیہ اور نظامِ اسلامی کے درمیان مضبوط اور پائیدار تعلق برقرار رہنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر کے نزدیک حوزۂ علمیہ کو مختلف علمی، فکری، ثقافتی اور دینی میدانوں میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ وہ معاشرے کی صحیح رہنمائی کرے اور اسلامی نظام کے بلند مقاصد اور اہداف کے حصول میں مؤثر اور تعمیری کردار ادا کر سکے۔









آپ کا تبصرہ