اتوار 5 جولائی 2026 - 16:32
نجف اور کربلا میں لاکھوں عراقی رہبرِ شہید(رہ) کے استقبال کے منتظر

حوزہ / عراق میں جیسے جیسے رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ امامِ شہید سید علی خامنہ ای (رہ) کے پیکرِ مطہر کی تشییع کا وقت قریب آرہا ہے، جو کہ بدھ 17 تیر/ 8 جولائی کو مقرر ہے، اس تاریخی اہمیت کے حامل واقعے کی کامیابی کے لیے انتظامی اور ٹیکنیکل تیاریوں اور فراہمی کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق میں جیسے جیسے رہبرِ شہید، آیت اللہ العظمیٰ امامِ شہید سید علی خامنہ ای (رہ) کے پیکرِ مطہر کی تشییع کا وقت قریب آرہا ہے، جو کہ بدھ (۱۷ تیر) کو مقرر ہے، اس تاریخی اہمیت کے حامل واقعے کی کامیابی کے لیے انتظامی اور ٹیکنیکل تیاریوں اور فراہمی کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ اس دوران عراقی معاشرے کے تمام طبقوں اور سطحوں پر ان مراسم میں فعال شرکت کے لیے وسیع پیمانے پر جوش و خروش پایا جاتا ہے، یہاں تک کہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ نجف اشرف اور کربلائے معلی میں تشییع میں پچاس لاکھ سے زائد افراد شرکت کریں گے۔

ان مراسم کو مناسب طریقے سے منعقد کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مختلف اداروں پر مشتمل ہے۔ جن میں دفترِ وزارتِ عظمیٰ، تنظیم حشد الشعبی، صوبہ نجف اشرف اور کربلائے معلی کی انتظامیہ، عتباتِ عالیہ (علوی، حسینی اور عباسی)، وزارتِ داخلہ، وزارتِ نقل و حمل اور دیگر سرکاری ادارے شامل ہیں۔

اسی سلسلے میں تشییعِ شہیدِ امام خامنہ ای کے لیے خصوصی میڈیا کمیٹی کے سرکاری ترجمان لیفٹیننٹ جنرل سعد معن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: منگل 7 جولائی کو ایران اور عراق کی اعلیٰ سرکاری اور مذہبی شخصیات کی موجودگی میں شہیدِ امام سید علی خامنہ ای (رہ) کے پیکر مطہر کے استقبال کی سرکاری تقریب ہوگی۔ اس کے علاوہ ایک عوامی اور وسیع پیمانے پر تشییع کی تقریب ہوگی جو بدھ 8 جولائی کو صبح 6 بجے شروع ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا: نجف اشرف میں تشییع کا راستہ "پلِ کوفہ" سے "پلِ ثورة العشرین" کی طرف اور وہاں سے "میدانِ صدرین" تک ہوگا تاکہ لوگ تشییع اور آخری وداع کی تقریب میں شرکت کر سکیں۔ کربلائے معلی میں بھی تشییع کا راستہ "سید جودہ چوک" سے گورنر روڈ کے ذریعے حرمِ امام حسین علیہ السلام اور اس کے بعد حرمِ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی طے پایا ہے۔

جنرل سعد معن نے کہا: ان مراسم کے شرکاء کو ضروری خدمات فراہم کرنے کے لیے وزارتوں، اداروں اور سیکیورٹی اور سروس اداروں کے ساتھ مل کر ایک مکمل سیکیورٹی پلان مرتب کیا گیا ہے۔

انہوں نے شہریوں، مذہبی تنظیموں، حسینی موکبوں اور شرکت کرنے والے افراد سے مطالبہ کیا کہ وہ ضابطہ کار اور سیکیورٹی ہدایات پر مکمل طور پر عمل کریں جو متعلقہ اداروں کی طرف سے بتدریج جاری کی جائیں گی۔

اس کے ساتھ ہی عراق کے متعدد صوبوں بشمول ذی قار، واسط، کربلا، نجف اشرف، بصرہ اور بغداد کی مقامی حکومتوں نے بدھ 8 جولائی کو سرکاری تعطیل کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کو تشییع میں شرکت کا موقع مل سکے۔

اس کے علاوہ، جنوبی علاقوں، وسطی فرات اور وسطی علاقوں کی مختلف عراقی قبائل اور قبیلوں نے بھی تشییع میں فعال شرکت کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ بہت سے قبائل کے شیوخ اور عمائدین نے اپنے بیٹوں کو منگل 7 جولائی کو نجف اور کربلا میں بلایا ہے تاکہ شہیدِ امام خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کریں، جن کا عراق اور عراقیوں کے ساتھ ہمیشہ باوقار موقف اور برتاؤ رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی درجنوں حسینی موکبوں اور تنظیموں نے شرکاء کی بڑی تعداد کے لیے خوراک، مشروبات اور آرام گاہوں سمیت ضروری خدمات فراہم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

ان مراسم میں جہاں اعلیٰ سرکاری اور سیاسی، مذہبی، سماجی اور ثقافتی تنظیموں نے تہران میں تشییع کی تقریب میں شرکت کی ہے وہیں سینکڑوں سرکاری، سیاسی، مذہبی، قبائلی اور تعلیمی شخصیات، جن میں وزرا، پارٹی لیڈران، گورنرز، علماء، یونیورسٹی پروفیسرز، قبائلی شیوخ، دینی علوم کے طلباء اور طالبات شامل ہیں، نجف اشرف اور کربلائے معلی میں آنے والی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha