حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم کے مصلیٰ قدس میں نماز جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ سید محمد سعیدی نے کہا کہ رہبرِ شہید انقلاب اور ان کے اہلِ خانہ کی تشییع ایک روحانی اور انقلابی سفر ہے، جو انقلاب اسلامی کے بنیادی اصولوں کی تجدید اور عوام کی وفاداری کا اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں تشییع اس بات کی علامت ہے کہ رہبرِ شہید ہمیشہ عوام کے درمیان رہے، جبکہ قم میں ان کی آمد انقلاب کی روحانی جڑوں، حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم اور مسجد جمکران سے وابستگی کی تجدید ہے۔ ان کے مطابق عراق میں تشییع اس بات کا اعلان ہے کہ محورِ مزاحمت جغرافیائی نہیں بلکہ ایمانی اتحاد کا نام ہے، جو تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔
آیت اللہ سعیدی نے کہا کہ مشہد میں تدفین حضرت امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ سے وابستگی اور اہلِ بیتؑ کی پناہ میں لوٹنے کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ شہید کے اہلِ خانہ کی اس سفر میں ہمراہی نے اس واقعے کو عاشورائی ایثار کی یاد تازہ کر دی اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ اسلامی قیادت اقتدار نہیں بلکہ حق کی خاطر قربانی کا نام ہے۔
انہوں نے امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ماضی وعدہ خلافیوں سے بھرا ہوا ہے، اس لیے اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جائز حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا اور ظلم و استکبار کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔
خطیبِ نماز جمعہ قم نے اپنے پہلے خطبے میں کہا کہ امام حسین علیہ السلام پر گریہ انسان میں تقویٰ، ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوم کی حمایت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں رہبر انقلاب اسلامی کی پیروی ہی امت کے اتحاد، استحکام اور باطنی سکون کی ضمانت ہے۔









آپ کا تبصرہ