حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ 4 جولائی 2026 کو مصلّیٰ امام خمینیؒ ایران کی معاصر تاریخ کے عظیم ترین عوامی اجتماعات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لبنان سے لاطینی امریکہ تک دنیا کی نظریں تہران پر مرکوز ہیں، جہاں سوگ نے مقاومت کے ایک نئے عہد کی صورت اختیار کر لی ہے۔
عاشقانِ ولایت کا لامحدود ہجوم
مراسمِ وداع کے آغاز کے ساتھ ہی لاکھوں افراد مصلّیٰ کی جانب اُمڈ آئے۔ ایران کے مختلف شہروں کے علاوہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین بھی شریک ہیں۔ سینہ زنی، نوحہ خوانی اور نعروں کے درمیان ہر شخص اپنے رہبرِ شہید کو آخری سلام پیش کرنے کی آرزو لیے کھڑا ہے۔
مصلّیٰ کی جانب جانے والے راستے امامِ شہید کی تصاویر، یادگار جھلکیوں اور دیوارنگاریوں سے آراستہ ہیں، جبکہ پورا منظر ایک عظیم عوامی عقیدت کا آئینہ بن چکا ہے۔

سرخ پرچموں کا سمندر
جہاں تک نگاہ جاتی ہے، انسانی سروں کے ساتھ سرخ پرچموں کی لہریں دکھائی دیتی ہیں۔ خواتین، مرد، بزرگ، نوجوان اور بچے سب اس عظیم اجتماع کا حصہ ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا مصلّیٰ سرخ چادر اوڑھے خونِ شہداء سے وفاداری اور تجدیدِ عہد کا استعارہ بن گیا ہو۔

امام اور امت کا لازوال رشتہ
مصلّیٰ کے گوشے گوشے میں امامِ شہید کی تصاویر آویزاں ہیں، جبکہ ہزاروں افراد انہی تصاویر کو سینے سے لگائے اشکبار آنکھوں کے ساتھ اپنے رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ یہ منظر اس ابدی تعلق کی یاد دلاتا ہے جو امام اور امت کے درمیان شہادت کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔
شہداء کے پیکروں کے سامنے ٹوٹتا صبر
مرکزی صحن میں پیکروں کے قریب پہنچتے ہی بہت سے افراد ضبط کھو بیٹھتے ہیں۔ خصوصاً ننھی زہرا محمدی کا تابوت ہر دل کو غمزدہ کر دیتا ہے اور ظلم و بربریت کی ایک خاموش مگر مؤثر گواہی بن کر سامنے آتا ہے۔

تجدیدِ وفا کی گونج
یہ اجتماع صرف وداع کا نہیں، بلکہ عہد کی تجدید کا بھی مظہر ہے۔ حاضرین اپنے شہید رہبر کے افکار اور راستے سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے مسلسل نعرے بلند کر رہے ہیں اور انقلابِ اسلامی کے تسلسل کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔

خاموش عقیدت کے نذرانے
کئی عقیدت مند اپنے امامِ شہید کی بارگاہ میں پھولوں کے نذرانے بھی لائے ہیں۔ ہجوم میں جگہ جگہ رنگ برنگے پھول دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ سب محبت، وفاداری اور اخلاص کی زبان بولتے ہیں۔
ایک خاتون اپنے ہاتھوں میں تھامے پھول آسمان کی جانب بلند کیے خاموشی سے دعائیں پڑھ رہی ہیں۔ شاید وہ عالمِ تصور میں اپنے امامِ شہید کو یہی پھول پیش کر رہی ہیں، یا حسینیۂ امام خمینیؒ میں حضرت آقا کی خدمت میں حاضر ہیں۔ ان کی نم آنکھیں جدائی کے اس درد کی ترجمان ہیں جسے الفاظ پوری طرح بیان نہیں کر سکتے۔
محورِ مقاومت کی یکجہتی
مصلّیٰ میں ایران کے پرچموں کے ساتھ حزب اللہ لبنان اور محورِ مقاومت کے دیگر پرچم بھی نمایاں ہیں۔ یہ منظر واضح کرتا ہے کہ مقاومت کی بنیاد جغرافیہ نہیں بلکہ ایمان، وفاداری اور مشترک مقصد ہے، اور اس محاذ کی وحدت ہر آزمائش میں برقرار رہے گی۔

دنیا کی نظریں تہران پر
مصلّیٰ کی بالائی منزلیں ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھری ہوئی ہیں۔ رپورٹر اور فوٹو جرنلسٹ اس تاریخی اجتماع کے ہر منظر کو دنیا تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔ بے مثال عوامی شرکت نے صرف عالمی میڈیا ہی نہیں بلکہ ملکی ذرائع ابلاغ کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔
خاندانوں کی بھرپور شرکت
اس تاریخی اجتماع میں بڑی تعداد میں خاندان شریک ہیں۔ بہت سے والدین اپنے ننھے بچوں کو بھی ساتھ لائے ہیں تاکہ نئی نسل کو انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کے افکار اور راستے سے آشنا کریں۔ خدشات کے برعکس بچوں کی گاڑیوں (اسٹرولرز) کی آمد و رفت بھی منظم رہی، جبکہ رضاکار مسلسل ہجوم کی نگرانی کرتے رہے اور پورا نظام خوش اسلوبی سے چلتا رہا۔
سرخ پرچموں کا پیغام
ہجوم میں سرخ پرچم، سرخ سربند اور سرخ پیشانیاں نمایاں ہیں، جو شہداء کے خون سے وفاداری اور ظلم کے خلاف استقامت کی علامت ہیں۔ خصوصاً "یا لثارات الخامنہای" اور "یا لثارات الحسینؑ" کے پرچم ہر سمت لہراتے دکھائی دیتے ہیں۔

بعض افراد نے سرخ پرچم اپنے جسموں پر اوڑھ رکھے ہیں، جبکہ کئی افراد کفن پہن کر شریک ہوئے ہیں، گویا وہ اپنے عمل سے یہ اعلان کر رہے ہوں کہ انقلابِ اسلامی، امامِ امت اور اسلام کے دفاع کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔
عالمی ذرائعِ ابلاغ کی توجہ
شرکاء کے ہاتھوں میں موجود بینرز، پوسٹرز اور تحریری پیغامات نے بھی عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی۔ شہید رہبر کے خون کے انصاف سے متعلق نعروں اور مطالبات کو بین الاقوامی میڈیا نے نمایاں انداز میں نشر کیا، جس کے بعد تہران کی یہ تاریخی وداع عالمی خبروں کا مرکز بن گئی۔
منظم انتظامات، پُرسکون ماحول
منتظمین کی مؤثر حکمتِ عملی کے باعث داخلی و خارجی راستے پوری طرح منظم رہے۔ داخلے اور اخراج کے لیے الگ راستے مختص کیے گئے، جبکہ مہ پاش نظام نے گرمی کی شدت میں کمی لا کر شرکاء کو قدرے آسودگی فراہم کی۔
رفاہی خدمات اور پُروقار اختتام
شرکاء کے لیے مسلسل کھانا، ٹھنڈا پانی، آرام گاہیں اور منظم آمد و رفت جیسی سہولیات فراہم کی گئیں، جس سے لاکھوں افراد کی موجودگی کے باوجود تقریب نہایت خوش اسلوبی سے جاری رہی۔

توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی امامِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی وداعی تقریبات اور تشییعِ جنازہ اسی عظمت، شان اور عوامی ولولے کے ساتھ جاری رہے گی اور ایران ایک بار پھر تاریخ کے یادگار ترین مناظر میں سے ایک رقم کرے گا۔









آپ کا تبصرہ