حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے اپنے ایک پیغام میں شہید رہبرِ انقلاب کی وداعی اور تشییع کے مراسم میں عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت کی ضرورت پر زور دیتے کہا: جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے لہٰذا مایوسی، سستی، تعطل اور عوام، ذمہ داران اور مسلح افواج کے حوصلے پست کرنے کی کوئی بھی کوشش، دشمن کی خواہش پوری کرنے کے مترادف ہے اور ملک و امتِ اسلامی کے مفادات کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا: قاتل اور اس عظیم جرم و ظلم کے عاملین، جن کے ہاتھ اس باعظمت شہید، کمانڈروں، ذمہ داران، بے گناہ عوام اور مظلوم بچوں کے خون سے آلودہ ہو چکے ہیں، اللہ کے عذاب اور عادلانہ سزا سے محفوظ نہیں رہیں گے اور امتِ اسلامی شرع اور قانون کی حدوں کے اندر رہتے ہوئے ان شہداء کے خون کا بدلہ لینے میں اپنی ذمہ داری ادا کرتی رہے گی۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کے پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُونَ﴾
شہید رہبرِ انقلاب کے جسدِ اطہر کے وداع اور تشییع کے موقع پر اس مجاہدِ عظیم القدر کے فقدان کا المناک غم ایک بار پھر تازہ ہو گیا۔ بلاشبہ، ان مراسم میں عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت، انقلابِ اسلامی کے بلند آرمانوں سے وفاداری اور طاقت کا مظہر، ملتِ عظیم ایران اور امتِ اسلامی کی استقامت کی علامت اور شہداء کے نورانی راستے کے تسلسل کی دلیل ہوگی۔
ان حالات میں، چند نکات پر توجہ دینا ضروری ہے:
اول: یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ جنگ ختم ہو چکی ہے بلکہ استکبار کی صف کے خلاف مقابلہ جاری ہے۔ لہٰذا مایوسی، سستی، تعطل اور عوام، ذمہ داران اور مسلح افواج کے حوصلے پست کرنے کی کوئی بھی کوشش، دشمن کی خواہش کے مطابق ہے اور ملک و امتِ اسلامی کے مفادات کے خلاف ہے۔ البتہ، امید اور استقامت کا مطلب میدانِ جنگ کی حقیقتوں کو نظرانداز کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ صبر و استقامت، الٰہی آزمائشوں میں کامیابی کے اہم ترین عوامل میں سے ہیں۔
دوم: قاتل اور اس عظیم جنایت کے عاملین، جن کے ہاتھ اس عزیز شہید، کمانڈروں، ذمہ داران، بے گناہ عوام اور مظلوم بچوں کے خون سے آلودہ ہو چکے ہیں، اللہ کے عذاب اور عادلانہ سزا سے محفوظ نہیں رہیں گے اور یہ پاکیزہ خون کبھی فراموش نہیں کیے جائیں گے اور امتِ اسلامی شرع اور قانون کی حدوں کے اندر رہتے ہوئے، ان شہداء کے خون کا بدلہ لینے میں اپنی ذمہ داری ادا کرتی رہے گی۔
سوم: ذمہ داران، مسلح افواج اور تمام فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل، اس کے وعدوں پر اعتماد، ملکی تمام صلاحیتوں سے استفادہ اور عوام کے ایمان، صبر اور استقامت پر انحصار کرتے ہوئے فوجی، سفارتی اور دیگر شعبوں میں تدبیر، قوت اور ہوشیاری کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہیں کیونکہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ جارح دشمن کے سامنے کوئی بھی پسپائی اسے جارحیت اور زیادتی جاری رکھنے پر مزید دلیر کرتی ہے۔
چہارم: انقلابِ اسلامی ترقی پسند اصولِ ولایتِ فقیہ پر استوار ہے اور اسی اصول کی برکت سے اس نے دشمنوں کے مذموم عزائم اور متعدد سازشوں کو عبور کیا ہے۔ نظامِ اسلامی میں ولایتِ فقیہ اتحاد کا محور، امت کے مفادات کا محافظ اور نظام اسلامی کے استحکام کا ستون ہے۔ اس کی پابندی ایک عمومی ذمہ داری ہے اور اسلام و ملک کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
پنجم: آج ہر زمانے سے زیادہ، قومی اتحاد و یکجہتی کا تحفظ ایک ناقابلِ انکار ضرورت ہے اور اختلافِ رائے، چاہے وہ صحیح محرکات سے پیدا ہوا ہو، تفرقے اور اندرونی محاذ کی کمزوری کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی محترم ذمہ داران کو بھی چاہیے کہ دوہری توجہ کے ساتھ عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کی خلوص نیت سے خدمت کرنے کی کوشش کریں۔
میں ایک بار پھر شہید رہبر عزیز اور اس مسلط کردہ جنگ کے دیگر شہداء کی جانسوز شہادت پر حضرتِ بقیۃ اللہ الاعظم (ارواحنا فداہ) کے حضور، انقلاب اسلامی کے بزرگ رہبر، شہداء کے معزز خاندانوں، ملتِ شریف ایران اور تمام عالمی مسلمانوں کو تعزیت پیش کرتا ہوں اور بارگاہِ الٰہی میں ان کے درجات کی بلندی کی دعا کرتا ہوں اور امیدوار ہوں کہ حضرتِ ولی عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی عنایات کے سایے میں اسلام و مسلمین کو عزت و فتح حاصل ہو گی اور شرِ دشمن سے خلاصی ہو گی۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
قم ـ ناصر مکارم شیرازی
14 تیر 1405 ہجری شمسی / 5 جولائی 2026ء









آپ کا تبصرہ