حوزہ نیوز ایجنسی کے قم المقدسہ میں واقع اسٹال پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے (جو اس نیوز ایجنسی اور حوزہ انٹرنیٹ ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا) مجلس خبرگانِ رہبری کے رکن آیت اللہ محمود رجبی نےرہبر انقلاب کی شہادت کے بعد کے دنوں میں عوامی اجتماع کے پہلوؤں اور ملک کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے سڑکوں پر عوام کی بھاری تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد جو کچھ ہوا اور عوام کا میدان میں آنا، وہی وہ بعثت ہے جس کے بارے میں ہمارے شہید رہبر نے فرمایا تھا کہ "اگر ملک میں کچھ ہو جائے تو قوم اٹھ کھڑی ہوگی اور معاملے کو انجام تک پہنچائے گی"۔ آج ہم اس حقیقت کو دل و جان سے محسوس کر رہے ہیں۔
امام خمینی (رہ) تعلیمی و تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے کہا: حکومتی ذمہ داران اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس قوم کی قدر کرنی چاہیے جو اپنی ہمت، عظمت، بصیرت، وفاداری، ولایت مداری، ایثار اور قربانی کے جذبات میں پوری دنیا میں کم نظیر ہے۔
مجلس خبرگان رہبری کے رکن نے دشمنوں کے بارے میں عوام کی پہچان کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ایرانی لوگ دشمن کو بخوبی پہچانتے ہیں، اس کی سازشوں کو سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ انہیں کیا ردِ عمل دکھانا ہے۔ کسی نے لوگوں سے نہیں کہا کہ رات کو سڑکوں پر آئیں؛ وہ خود آئے اور یہ ہماری قوم کے بصیرت کی انتہا ہے۔
آیت اللہ رجبی نے مزید کہا: مجلس خبرگان نے نیا رہبر منتخب کرنے سے پہلے ہی لوگوں نے نظام اور ولایت سے اپنی وفاداری کا اعلان کر دیا تھا اور یہ بہت قابل غور اور کم نظیر ہے۔
انہوں نے لوگوں کی بہادری کو بھی ایران کی قوم کی نمایاں خصوصیات میں سے قرار دیتے ہوئے کہا: بمباری اور دھمکیوں کے حالات میں لوگ میدان میں موجود رہے۔
آیت اللہ رجبی نے حالیہ بین الاقوامی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جنگ کے دنوں میں امریکیوں نے بارہا پیغام بھیجا کہ مذاکرات کریں لیکن ہم نے قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد ہم نے اعلان کیا کہ انہیں ہماری شرائط قبول کرنی ہوں گی اور حتیٰ کہ ثالث ممالک نے بھی اعلان کیا کہ یہ شرائط قبول کر لی گئی ہیں لیکن ایرانی قوم اور ذمہ داروں نے کہا کہ یہ کافی نہیں ہے، امریکی صدر کو خود اسے قبول کرنے کا اعلان کرنا ہوگا اور آخر کار اس نے خفّت و ذلت کے ساتھ اسے قبول کر لیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسی خصوصیات کی حامل قومیں بڑی بڑی طاقتوں کے مقابلے میں بھی کامیاب ہو سکتی ہیں۔









آپ کا تبصرہ