حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی نے اتوار 1 فروری 2026 کی صبح اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سینتالیسیوں سالگرہ کے جشن شروع ہونے کی مناسب سے مختلف عوامی طبقات کے ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی۔
انھوں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں چالیس سال سے زیادہ عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری دشمنی کی وجہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ امریکا ایران کو نگلنا چاہتا ہے لیکن ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ اس میں رکاوٹ ہیں اور درحقیقت ایرانی قوم کا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکا سے کہا کہ تمھاری اتنی ہمت کہ میرے ملک کو نگلنا چاہو!
رہبر انقلاب اسلامی نے تیل، گیس، مختلف دھاتوں کی مالامال کانوں اور اسٹریٹیجک اور جغرافیائی پوزیشن جیسی ایران کی بیش بہا ثروت کو امریکا جیسے جارحین اور توسیع پسندوں کے لالچ کا سبب بتایا اور کہا کہ وہ ایران پر تسلط حاصل کرنا اور پہلوی دور کی طرح ایران کے وسائل و ذخائر، تیل، گیس، سیاست، سیکورٹی اور عالمی تعلقات پر تسلط بحال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی دشمنی کی اصل وجہ یہ ہے اور انسانی حقوق جیسی ان کی دوسری باتیں، بکواس ہیں۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی قوم، امریکا کے لالچ کے مقابلے میں مضبوطی سے ڈٹی ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی ڈٹی رہے اور اسے ایذا رسانی اور تکلیف پہنچانے کی طرف سے مایوس کر دے گی۔ انھوں نے جنگ اور فلاں ہوائی جہاز کے استعمال کے بارے میں امریکیوں کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ باتیں نئی نہیں ہیں اور ماضی میں بھی وہ دھمکی دیا کرتے تھے کہ سبھی آپشن میز پر ہیں، اس وقت بھی یہ صاحب (امریکی صدر) مسلسل اس طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہم بیڑہ لے کر آ گئے ہیں۔
آيت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی قوم کو ان چیزوں سے نہیں ڈرانا چاہیے، ایرانی قوم ان باتوں سے مرعوب نہیں ہوگی۔ ہم (جنگ) شروع کرنے والے نہیں ہیں اور کسی پر ظلم اور کسی ملک پر حملہ کرنے کے خواہاں نہیں ہیں لیکن ایرانی قوم اس کے منہ پر زوردار مکّا مارے گی جو اس پر لالچ کی نظر رکھے گا اور حملہ کرنا یا تکلیف پہنچانا چاہے گا۔ انھوں نے اسی کے ساتھ زور دے کر کہا کہ امریکیوں کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اگر اس بار انھوں نے کوئی جنگ شروع کی تو وہ جنگ، علاقائی جنگ ہوگی۔
انھوں نے اپنے خطاب کے ایک دوسرے حصے میں حالیہ بلووں کی امریکی و صیہونی ماہیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوائی، سرغنہ اور پیادے جیسے دو طرح کے لوگ تھے اور سرغناؤں نے، جن میں سے بہت سارے گرفتار ہو چکے ہیں، اعتراف کیا ہے کہ انھیں کارروائيوں کے لیے پیسے دیے گئے تھے اور مراکز پر حملے اور جوانوں کو اکٹھا کرنے اور ان سے کام کرانے کے لیے انھیں ٹریننگ دی گئی تھی، جبکہ بلوائیوں کی دوسری قسم جوش میں آ کر کام کرنے والے نوجوان تھے، جن سے ہمیں کوئي خاص پریشانی نہیں ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی صدر کی باتوں کو حالیہ فتنوں کے امریکی اور صیہونی ہونے کی واضح نشانی بتایا اور کہا کہ وہ کھلم کھلا ان بلوائیوں سے، جنھیں وہ ایرانی عوام کہہ رہے تھے، کہا کہ آگے بڑھو، میں بھی آ ہی رہا ہوں! البتہ ان کی نظر میں یہ کچھ ہزار بلوائی، ایرانی عوام تھے لیکن بارہ جنوری کو پورے ملک میں نکلنے والے دسیوں لاکھ لوگ ایرانی عوام نہیں ہیں۔ انھوں نے اسلامی جمہوریہ کی نئی سوچ اور نئی راہ اور عالمی غنڈوں کے مفادات سے اس کے ٹکراؤ کو، ان کی دشمنی جاری رہنے کا سبب بتایا اور کہا کہ اسی وجہ سے حالیہ فتنہ، جو تہران میں پہلا فتنہ نہیں تھا، آخری فتنہ بھی نہیں ہوگا اور ممکن ہے کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ دشمنی تب تک جاری رہے گی جب تک ایرانی قوم پورے ثبات و استحکام اور اپنے امور پر مکمل تسلط کے ساتھ دشمن کی مکمل مایوسی کا سبب نہیں بن جاتی اور ہم اس منزل پر بھی پہنچیں گے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حکام کو ان عوام کی قدر کرنی چاہیے، کہا کہ یہ فتنہ اتفاق سے یا منصوبہ بندی کے تحت ایسے وقت میں رونما ہوا جب حکومت اور اعلیٰ عہدیداران ملک کو بہتر حالات میں لے جانے کے لیے معاشی منصوبہ بنا رہے ہیں۔
آيت اللہ خامنہ ای نے حالیہ فتنے کی آخری خصوصیت بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں داعشی طرز کا تشدد دیکھا گيا۔ انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ موجودہ امریکی صدر اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ داعش کو بنانے میں امریکی حکومت کا ہاتھ ہے، کہا کہ حالیہ فتنے میں بھی امریکیوں نے ایک ایسے داعش کو وجود عطا کیا جس کے کام داعش کی طرح ہی ہیں۔ داعش، تشدد کے ساتھ لوگوں پر بے دینی کا الزام لگا کر انھیں موت کے گھاٹ اتارا کرتا تھا اور انھوں نے لوگوں کو اسی تشدد سے لیکن دینداری کی وجہ سے قتل کیا اور ناقابل یقین بے رحمی اور سنگدلی سے لوگوں کو زندہ جلایا اور ان کے سر کاٹے۔
انھوں نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں بارہ بہمن مطابق گيارہ فروری کو ایک غیر معمولی اور تاریخ ساز دن بتایا اور پہلی فروری سنہ 1979 کو عوام کی جانب سے امام خمینی کے بےنظیر استقبال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی ہر طرح کے خطرے کے باوجود پوری طاقت اور ہمت کے ساتھ تہران پہنچے اور انھوں نے عوام کے عظیم اور بے مثال استقبال کو، ایک نئے نظام کی تشکیل کا پیش خیمہ بتایا اور وہ جس دن واپس ایران پہنچے اسی دن، شاہی حکومت کے گر جانے کا اعلان کیا۔
انھوں نے آمریت اور ایک شخص کی حکمرانی کو پوری طرح سے ایک عوامی حکومت میں تبدیل کرنے اور پہلوی نظام کے مد نظر مذہب مخالف عمل کو اسلامی عمل میں بدلنے کو، امام خمینی اور قوم کی مجاہدتوں سے سامنے آنے والے نظام کی دو اہم خصوصیات میں شمار کیا۔ انھوں نے ملک کو اس کے حقیقی مالکوں یعنی قوم کو لوٹانے اور ایران پر امریکا کے تسلط کو ختم کرنے اور اس کے ہاتھ کاٹنے کو اسلامی جمہوری نظام کی ایک خصوصیت بتایا اور کہا کہ اس خصوصیت نے امریکا کو برہم کر دیا اور اسی دن سے وہ ایرانی قوم اور نظام سے دشمنی کرنے لگا۔
رہبر انقلاب نے ایران میں حکومت کے عوامی ہونے کے مختلف پہلوؤں کی تشریح کرتے ہوئے قوم میں خود اعتمادی کا جذبہ پیدا ہونے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے قوم کو اس کی عظیم توانائیوں اور قدروقیمت سے آگاہ کیا اور "ہم نہیں کر سکتے" کی سوچ کو "ہم کر سکتے ہیں" کے انتہائی اہم یقین اور جذبے میں تبدیل کر دیا۔ انھوں نے قاجار اور پہلوی حکومتوں کی پالیسیوں، خود پر عدم اعتماد اور دوسروں پر انحصار کا نتیجہ، ایک عظیم اور درخشاں تمدنی و ثقافتی ماضی رکھنے والی قوم کو پچھڑے اور ذلیل کیے جانے والے لوگوں میں بدلنا بتایا اور کہا کہ اس عہد میں سائنس، ٹیکنالوجی، سیاست، طرز زندگي، بین الاقوامی حیثیت، علاقائی معاملات اور ہر چیز میں ہم پچھڑے ہوئے تھے لیکن امام خمینی نے قوم میں خود اعتمادی کی روح پھونک دی اور راستے کو پوری طرح سے اور ایک سو اسّی ڈگری بدل دیا۔
انھوں نے مختلف میدانوں میں ملک کی پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کون یقین کر سکتا تھا کہ کسی دن ایرانی قوم، ایسے مقام پر پہنچ جائے گی کہ امریکی اس کے بنائے ہوئے ہتھیاروں کی نقل تیار کرنے لگیں گے؟ یہ سب اس خود اعتمادی اور بلند پروازی کا نتیجہ ہے جو امید اور خود اعتمادی کے مظہر کی حیثیت سے امام خمینی نے قوم میں پیدا کی اور عوام کو کوشش اور جدوجہد کی ترغیب دلائی۔









آپ کا تبصرہ