تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
امریکہ اور اس کے حامی ذرائع ابلاغ مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران نے چند تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایران کی تنصیبات پر حملہ کیا۔ گویا معاہدے کی خلاف ورزی ایران نے کی اور امریکی حملے محض ایک جوابی کارروائی تھے۔لیکن ایرانی مؤقف کے مطابق حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے نزدیک معاہدے کی پہلی خلاف ورزی امریکہ نے کی، جبکہ ایران کی کارروائی اسی خلاف ورزی کا ردِعمل تھی۔
مفاہمت نامے میں واضح طور پر طے پایا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی نقل و حرکت ایران کے ساتھ مکمل رابطے اور باہمی کوآرڈینیشن کے تحت ہوگی۔ اس کے باوجود امریکہ نے عمان کی جانب ایک نیا سمندری کوریڈور قائم کرکے تجارتی جہازوں کو اس راستے سے گزارنے کی کوشش کی۔ ایران نے ثالث ممالک اور سفارتی ذرائع کے ذریعے متعدد بار خبردار کیا کہ یہ اقدام مفاہمت نامے کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس کے نتائج برآمد ہوں گے، لیکن امریکہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا۔ بالآخر ایران نے اسی عمانی کوریڈور سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا۔
درحقیقت یہ تنازع چند جہازوں کا نہیں بلکہ آبنائے ہرمز پر اختیار، مدیریت اور تزویراتی برتری کا ہے۔ امریکہ اس متبادل کوریڈور کے ذریعے اس آبی گزرگاہ پر ایران کی مؤثر گرفت کو کمزور کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس حساس گزرگاہ کی تنظیم و مدیریت خطے کے ممالک، بالخصوص عمان، کے تعاون سے اور بیرونی مداخلت سے آزاد ہو۔
آبنائے ہرمز اس وقت ایران کے ہاتھ میں ایک فیصلہ کن تزویراتی کارڈ ہے۔ تہران بخوبی جانتا ہے کہ میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی برتری اگر مذاکرات کی میز پر گنوا دی جائے تو عسکری کامیابی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ اسی لیے ایران اس برتری کو کھونا نہیں بلکہ اسے مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے کیے جانے والے تمام اقدامات کسی ایک شخصیت یا ادارے کے فیصلے نہیں بلکہ پورے نظام کا مشترکہ، متفقہ اور نہایت سوچا سمجھا فیصلہ ہیں۔ ایران کو اس راستے کی قیمت کا مکمل اندازہ ہے، مگر وہ اس قیمت کی ادائیگی کے لیے بھی آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
امریکی جارحیت نے اگرچہ ایران کو بھاری جانی، مالی اور معاشی نقصان پہنچایا، لیکن ایران کے نزدیک جنگ کا نتیجہ اب بھی اس کے حق میں ہے۔ اسی لیے وہ اس معرکے سے خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹنا چاہتا، بلکہ عشروں سے اختیار کی گئی آبی گزرگاہوں کی مدیریت کی اپنی پالیسی کو ایک ناقابلِ واپسی حقیقت کی حیثیت دینا چاہتا ہے۔
ایران اس مسئلے کو صرف عسکری یا سیاسی زاویے سے نہیں دیکھتا بلکہ اسے اپنی ہزاروں سالہ تہذیبی شناخت کا حصہ سمجھتا ہے۔ ایرانی نقطۂ نظر کے مطابق یہ آبی گزرگاہیں صدیوں تک ایران کی ملکیت اور انتظام میں رہیں، جہاں سے دنیا نے امن کے ساتھ تجارت کی، مگر کبھی کسی بیرونی طاقت کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ انہیں اپنے سیاسی دباؤ یا عسکری عزائم کا ذریعہ بنائے۔ ایران اسی تاریخی اور تہذیبی تصور کو آج بھی زندہ رکھنا چاہتا ہے، اسی لیے آبی گزرگاہوں سے متعلق موجودہ عالمی قانونی نظام کو بھی اپنے تاریخی مؤقف سے ہم آہنگ نہیں سمجھتا، جس پر پہلے بھی تفصیل سے گفتگو ہو چکی ہے۔
اسی تناظر میں اگر دوبارہ مکمل جنگ چھڑتی ہے تو دنیا جانتی ہے کہ اس کی ذمہ داری ایران پر نہیں بلکہ امریکہ کی بدعہدی، اسرائیل کی مسلسل جنگی خواہش، اور امریکہ و اسرائیل کی حالیہ ہزیمت سے پیدا ہونے والی بے چینی پر عائد ہوگی۔ اگر امریکہ مفاہمت نامے کی تمام شقوں پر دیانت داری سے عمل کرے تو ایران بھی اس تنازع کو انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی پر مبنی جنگ میں تبدیل نہیں کرنا چاہے گا۔
ایران اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ امریکہ اس کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن امریکہ بھی جانتا ہے کہ ایران پورے خطے کو ایسی ہمہ گیر جنگ میں دھکیلنے کی قوت رکھتا ہے جس کے شعلوں سے کوئی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ اسی لیے خطے کی مکمل تباہی نہ ایران کے مفاد میں ہے، نہ امریکہ کے، نہ اسرائیل کے اور نہ ہی دیگر علاقائی ممالک کے۔
البتہ ایک حقیقت اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے کہ ایران تباہی کے خوف سے سر جھکانے یا سرنڈر کرنے والا ملک نہیں۔ جنگ کے پہلے مرحلے میں جس غیر معمولی استقامت، منظم مزاحمت اور عسکری صلاحیت کا اس نے مظاہرہ کیا، اس نے یہ پیغام دے دیا کہ ایران اپنی حاصل کردہ برتری، اپنے تزویراتی مفادات اور اپنے قومی مؤقف کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہران کی موجودہ حکمتِ عملی پسپائی نہیں بلکہ اپنی کامیابیوں کو محفوظ، مستحکم اور دیرپا بنانے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔









آپ کا تبصرہ