ہفتہ 11 جولائی 2026 - 10:29
قم سے نجف تک، ایک جنازہ، ایک نئی تاریخ کا آغاز

حوزہ/شہید امام امت کا نام عالمی میڈیا کی سرخیوں میں ایک تابندہ ستارے کی طرح چمکتا رہا ہے۔ مگر اُن کی عظمت کا اصل جلوہ تب نمودار ہوا جب اُن کے اور اُن کے رفقاء کے جنازوں نے دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ مناظر انسانی عقل کے فہم سے بالاتر اور کسی تدبیر بشری کے دائرے سے باہر تھے۔

از قلم: مولانا صادق الوعد

حوزہ نیوز ایجنسی| شہیدِ عزیز امت کی تشییع کو محض ایک عوامی اجتماع یا جذباتی ردِعمل سمجھنا حقیقتِ واقعہ سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ جب سے اسلامی جمہوریہ ایران اور عالم استکبار کے درمیان کشمکش شدت اختیار کر گئی ہے، شہید امام امت کا نام عالمی میڈیا کی سرخیوں میں ایک تابندہ ستارے کی طرح چمکتا رہا ہے۔ مگر اُن کی عظمت کا اصل جلوہ تب نمودار ہوا جب اُن کے اور اُن کے رفقاء کے جنازوں نے دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ مناظر انسانی عقل کے فہم سے بالاتر اور کسی تدبیر بشری کے دائرے سے باہر تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس سارے منظرنامے کے پسِ پردہ کوئی دستِ غیب کار فرما ہے، جو دلوں کو جوڑ رہا تھا، آنکھوں کو اشکبار کر رہا تھا اور تاریخ کے صفحات پر ایک نئی اور ناقابل فراموش سطر رقم کر رہا تھا۔

اس تشییع کا ایک نہایت غیر معمولی اور فکرانگیز پہلو، جسے عالمی تھنک ٹینکس تو شاید باریک بینی سے سمجھ رہے ہوں مگر بہت سے اسلامی مفکرین کی توجہ اب تک پوری طرح اس جانب مبذول نہیں ہو سکی، وہ ہے نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں ہونے والا تاریخی اجتماع ہے۔ یہ نکتہ اس واقعے کو محض ایک سوگواری سے نکال کر ایک عظیم تہذیبی، تاریخی اور سیاسی علامت میں بدل دیتا ہے۔

تاریخی اعتبار سے یہ مسلم ہے کہ شیعہ تمدنی روایت میں کوفہ ہمیشہ سے قیادت اور اقتدار کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوفہ کو ہمیشہ اسلامی حیاتِ اجتماعی کے ایک محور کے طور پر دیکھا گیا ہے، اور یہی تصور عہد ظہور امام مہدی علیہ السلام میں بھی کوفہ ہی مرکزیت کا حامل ہوگا۔ اس زاویے سے دیکھیں تو تمدن نوین اسلامی کی تعمیر میں ایران اور عراق کی ملتوں کا باہمی اتحاد محض ایک سیاسی ضرورت نہیں، بلکہ تمدنی، دینی اور تاریخی لحاظ سے ناگزیر ہے۔ یہ دونوں ملتیں مل کر ایک عظیم تر مستقبل اور ہمہ گیر دینی بیداری کی بنیاد رکھیں گیں ۔

شاید یہی سبب تھا کہ عالمی طاقتوں نے ہمیشہ ان دو ملتوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی۔ صدام کے دور میں مسلط کردہ ایران-عراق جنگ دراصل اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھی کہ دلوں میں نفرت کی دیواریں کھڑی کر دی جائیں اور مشترک عقائد کے رشتوں کو کاٹ دیا جائے۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ شہیدِ عزیز اور ان جیسے مخلص و فداکار افراد کی شب و روز جدوجہد، قربانی اور استقامت نے ان تمام سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے نہ صرف میدان جنگ میں فتوحات حاصل کیں، بلکہ دلوں کے درمیان بچھڑی ہوئی راہوں کو بھی دوبارہ ہموار کر دیا۔

سیاسی و علمی سطح پر بھی نجفِ اشرف اور قم المقدس کی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ دونوں مکتب اہل بیت علیہم السلام کے عظیم علمی مراکز اور دو ایسے مینار نور ہیں جن سے فکر و بصیرت کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ اگرچہ حقیقت میں ان کے مابین کوئی ایسا بنیادی اختلاف نہیں جو امت کے لیے باعث افتراق ہو، لیکن دشمن نے ہمیشہ یہ تاثر دینے کی سعی کی کہ گویا نجف اور قم کے درمیان ایک گہرا فکری بُعد اور فاصلہ موجود ہے۔ دشمن نے انہی جزوی اور سطحی اختلافات کو ایک بڑے شگاف میں بدلنے کی ہر ممکن کوشش کی تاکہ امت کی فکری وحدت پارہ پارہ ہو جائے۔

مگر تاریخ کے کچھ لمحات برسوں کے شکوک، وسوسوں اور پروپیگنڈے کو ایک ہی لمحے میں بے معنی بنا دیتے ہیں۔ نجف و کربلا میں شہید کا تاریخی استقبال اور والہانہ تشییع ایسا ہی ایک فیصلہ کن لمحہ تھا۔ اس نے نہ صرف دشمن کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ اگر ملتوں کے دل اخلاص اور حق کے رشتے میں بندھ جائیں، تو تمام مصنوعی دیواریں خود بخود زمیں بوس ہو جاتی ہیں۔ یوں یہ تشییع محض ایک جنازہ نہیں رہی، بلکہ یہ امت کی بیداری، روح مزاحمت اور وحدت ملت کی ایک زندہ اور ابدی تفسیر بن گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha