جمعہ 10 جولائی 2026 - 20:32
کربلائی اہداف؛ از نظر رہبر شہیدِ امت سید علی خامنہ ای (ره)

حوزہ / کربلا کا واقعہ انسانیت کے لیے ایک دائمی درس گاہ ہے۔ اس میں اصلاح، تربیت، بصیرت، استقامت، قربانی، حریت، عزت، قیادت اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کے بے شمار اسباق موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا ہر دور کے انسان کو اپنے حالات کے مطابق رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

تحریر: حسین بشیر سلطانی، جامعۃ النجف سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی | انسانی جسم کا نظامِ مدافعت (Immune System) جس طرح جسم کو بیرونی اور اندرونی جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے، اسی طرح اسلام نے بھی اپنے عقیدہ، معاشرے اور ریاست کی حفاظت کے لیے ایک جامع دفاعی نظام عطا کیا ہے۔ یہ دفاعی نظام صرف تلوار کا نام نہیں بلکہ ایمان، بصیرت، اصلاح، تربیت، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور جہاد کے تمام مراحل پر مشتمل ہے۔

اسلام کے دشمن دو بنیادی اقسام کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم بیرونی دشمنوں کی ہے، جو اسلامی فکر، عقیدہ، تہذیب ، سرحدی اور نظام کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جو اسلامی معاشرے سے باہر ہوتے ہیں اور وہ بھی جو بظاہر معاشرے کے اندر رہتے ہوئے اس کے مقاصد سے لاتعلق یا منافقانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے ایسے کفار اور منافقین دونوں کے مقابلے کے لیے جہاد کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ اسلامی وجود کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔

دوسری قسم اندرونی انحراف کی ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ جب اقتدار، دولت، خواہشاتِ نفس اور ذاتی مفادات دین پر غالب آ جائیں تو معاشرہ اپنے اندر سے کھوکھلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اسلامی فتوحات کے بعد بھی یہی مرحلہ آیا۔ ایک نیا اشرافیہ وجود میں آیا، دولت نے بہت سے افراد کے مزاج بدل دیے، اور ان کی نئی نسل آسائش، شہوت اور اقتدار کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔ یہی وہ فکری اور اخلاقی زوال تھا جس نے اسلامی معاشرے کی بنیادوں کو متزلزل کر دیا اس کا بھی علاج جہاد ہی تھا۔

ایسے نازک مرحلے میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے جد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے والد امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی سنت کو زندہ کیا۔ آپ علیہ السلام نے ایک طرف جہادِ نفس کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی اور دوسری طرف ان بیرونی و اندرونی قوتوں کے خلاف قیام کیا جو اسلامی نظام پر قابض ہو کر اسے تباہ کر رہی تھیں۔ آپ علیہ السلام کا جہاد کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ ایک منحرف نظام، ظالم اقتدار اور فاسد فکر کے خلاف تھا۔

کربلا کا واقعہ انسانیت کے لیے ایک دائمی درس گاہ ہے۔ اس میں اصلاح، تربیت، بصیرت، استقامت، قربانی، حریت، عزت، قیادت اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کے بے شمار اسباق موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا ہر دور کے انسان کو اپنے حالات کے مطابق رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد نہ حکومت حاصل کرنا تھا اور نہ صرف شہادت کا حصول۔ حکومت اور شہادت دونوں اس عظیم تحریک کے ممکنہ نتائج تھے، لیکن اصل ہدف اسلامی معاشرے کی ازسرِ نو تعمیر، دین کی بقا، انسان کی تکمیل اور امت کی اصلاح تھا، تاکہ اسلام اپنی حقیقی روح کے ساتھ زندہ رہے اور انسان کمالِ انسانی تک پہنچ سکے۔

اگر ہر دور میں حالات امام حسین علیہ السلام کے جیسے یکساں ہوتے تو ہر نبی اور ہر امام علیہ السلام وہی حکمتِ عملی اختیار کرتا جو امام حسین علیہ السلام نے اختیار کی لیکن ہر زمانے کے تقاضے مختلف تھے۔ ائمۂ معصومین علیہ السلام نے اپنے اپنے دور کے مطابق دین کی حفاظت کی۔ امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں شر اور انحراف اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ یزید جیسے شخص کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا جانشین بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ اس مرحلے میں خاموشی اسلام کی نابودی کے مترادف تھی، اس لیے قیام ناگزیر ہو گیا۔ یہ امتیاز صرف امام حسین علیہ السلام کو حاصل ہوا۔

انحراف بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو عوامی سطح پر پھیلتا ہے، جس سے اگرچہ نقصان ہوتا ہے، مگر دین کی اساس فوری طور پر متزلزل نہیں ہوتی۔ دوسرا وہ انحراف ہے جو حکومت، اقتدار اور بااثر طبقات میں سرایت کر جائے۔ یہی انحراف سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ ریاست، قانون، تعلیم، ثقافت اور پوری امت کی سمت بدل دیتا ہے۔

یزیدی حکومت اسی دوسرے اور مہلک انحراف کی علامت تھی۔ ایک ایسا شخص جو ظلم، فسق، عیش پرستی اور اقتدار کی ہوس میں ڈوبا ہوا ہو، اسے جانشینِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم قرار دینا اسلامی تاریخ کا عظیم ترین انحراف تھا۔ ایسا حکمران ایک بدبودار اور آلودہ بہتے ہوئے نالے کی مانند ہوتا ہے جو جس زمین سے گزرتا ہے اسے بھی آلودہ کر دیتا ہے۔ اگر اس انحراف کا راستہ نہ روکا جاتا تو اسلام کی حقیقی روح معاشرے سے مٹ جاتی۔

اسی لیے امام حسین علیہ السلام نے قیام فرمایا۔ آپ علیہ السلام نے اپنے خطبات، مکتوبات، قرآنِ مجید کی آیات اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کے ذریعے واضح کیا کہ حقیقی امام اور جانشینِ پیغمبر کی صفات کیا ہوتی ہیں، اسلامی قیادت کی بنیادیں کیا ہیں، اور ظالم و فاسد حکمرانوں کے مقابلے میں امت کی ذمہ داری کیا ہے۔ ساتھ ہی آپ علیہ السلام نے یہ بھی واضح فرمایا کہ حق سے روگردانی کرنے والی قوموں کا انجام ہمیشہ ذلت اور تباہی ہوتا ہے۔

کربلا نے صرف ایک معرکہ نہیں جیتا بلکہ ظلم کے مقابلے میں مقاومت، بصیرت اور حق پر ثابت قدمی کا ایسا ابدی اصول عطا کیا جو قیامت تک تمام آزاد انسانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ امام حسین علیہ السلام کی تحریک اسلامی معاشرے کے دفاع، اصلاح اور تعمیرِ نو کا وہ زندہ منشور ہے جس کی روشنی ہر دور میں باطل کے مقابلے میں حق کے متلاشیوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha