حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں عراق کے مراجع عظام، ممتاز علماء، قبائلی عمائدین، باشعور نوجوانوں اور عوام کی جانب سے انقلاب اسلامی کے قائدِ شہید (رہ) کے جسدِ مطہر کی عتبات مقدسہ میں شاندار تشییع پر قدردانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے علمدارِ مقاومت کی اس بے مثال اور کروڑوں افراد پر مشتمل تشییع کو ایران اور عراق کے درمیان اتحاد، اخوت اور ہم آہنگی کا مکمل مظہر قرار دیتے ہوئے کہا: ایران اور عراق دونوں میں کروڑوں افراد کی جانب سے امامِ مجاہد شہید (رہ) اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف کی تشییع اور وداعی مراسم میں شرکت نے مستکبرین کے پہلے سے طے شدہ منصوبوں کو بدلنے کے لیے بیداری اور مؤثر کردار کا ایک نیا باب رقم کیا۔
ان کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مراجع عظام تقلید، معزز علماء، حوزات علمیہ اور یونیورسٹیز کے اساتذہ و فضلاء، دانشور حضرات، ممتاز شخصیات، قبائلی عمائدین، عشائر کے شیوخ، مختلف طبقات کے سربراہان، عراق کی باوقار، محبت کرنے والی اور غیور عوام و نوجوانوں کی خدمت میں سلام، تحیت، احترام اور دلی قدردانی پیش کرتے ہیں۔
عراق کے مؤمن عوام، جنہیں عتبات مقدسہ میں آل اللہ علیہم السلام کی ہمسائیگی اور میزبانی کی عظیم نعمت حاصل ہے، اپنی درخشاں تہذیبی تاریخ، نجف اشرف کے نورانی اور قدیم حوزہ علمیہ جیسی معنوی و ہدایت بخش پشت پناہی اور محاذِ مقاومت میں مجاہدانہ کردار کے باعث، ایران کی ملت کی طرح قائدِ عظیم الشان شہید اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف کے استقبال میں ایک عظیم، بامعنی اور سوز و گداز سے بھرپور حماسہ اور تاریخ رقم کی۔
عراق اس دن سے بابرکت سرزمین بن گیا جب ہمارے مولا امیر المؤمنین علیہ السلام کے مبارک قدم اس سرزمین پر پڑے اور بہت جلد اس کے باشندوں نے فخر کے ساتھ حضرت اور ان کی پاک اولاد علیہم السلام کی محبت و ولایت کا دم بھرا۔ جابرانہ ادوار اور ظالم حکمرانوں کی حکومتیں کبھی بھی ان لوگوں کے دلوں سے اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت اور محبت کا یہ خالص گوہر نہیں نکال سکیں۔ اسی لیے بعثی حکومت کے خاتمے کے بعد اربعین واک کا عظیم اجتماع وجود میں آیا جو لوگوں کے ایمان کی گہرائی سے اٹھا تھا، اس لیے روز بروز وسعت اختیار کرتا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ امیر المؤمنین اور سید الشہداء علیہما السلام کے مظلوم و شہید فرزند برسوں کی ظاہری جدائی کے بعد اس مرتبہ امام حسین علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اور حضرت عباس علیہ السلام کی مانند زخمی پیکر کے ساتھ اعتاب مقدسہ کی زیارت کے لیے آئے ہیں تو انہوں نے پورے وجود کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔
دوسری جانب علمدارِ مقاومت کی یہ کروڑوں افراد پر مشتمل بے مثال تشییع ایران اور عراق کی دو ملتوں کے درمیان اتحاد، اخوت اور ہم آہنگی کا بھرپور مظہر ثابت ہوئی۔ بلاشبہ استکباری قوتوں کے سربراہان نے خوف زدہ دلوں کے ساتھ عراق میں اس عظیم اجتماع کے شاندار مناظر دیکھے اور یہ بھی دیکھا کہ دونوں ملتوں کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے ان کی برسوں کی سرمایہ کاری کس طرح بے اثر ثابت ہوئی۔ ایران اور عراق دونوں میں کروڑوں افراد کی اس عظیم شرکت نے جو امامِ مجاہد شہید اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف کی تشییع اور وداع کے موقع پر ہوئی، نے مستکبرین کے پہلے سے تیار کردہ منصوبوں کو تبدیل کرنے کے لیے بیداری اور مؤثر کردار کا ایک نیا باب کھول دیا۔ اب شیطانِ بزرگ، مجرم امریکہ اچھی طرح سمجھ چکا ہے کہ اس خطے پر اس کی بے روک ٹوک اور استعماری بالادستی کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو گا۔
عنقریب عراق کی باعزت و باشعور ملت اور اس کے محبت کرنے والے عشائر و قبائل ایک بار پھر اربعین کے مشتاق زائرین خصوصاً ان زائرین کا استقبال کریں گے جو ایران کے شہید رہبر کی نیابت میں زیارت انجام دیں گے۔ اس عظیم تشییع کی یاد اور اس عظیم شخصیت کی آرزو جو شاید برسوں سے عتبات مقدسہ کی زیارت کی تمنا دل میں رکھتے تھے، اس استقبال کے ساتھ تازہ ہو گی اور حقیقت پر مبنی نعرہ «حُبُّ الحسین یجمعنا» پوری دنیا کے سامنے اپنی حقانیت کو ثابت کرے گا۔ ان شاء اللہ ہمارے مولا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا عراق کی ملت کے لیے امن، برکت اور ترقی کا سبب بنے گی۔ بِمَنِّهِ و کَرَمِه.
سید مجتبی حسینی خامنہ ای
2 صفر المظفر 1448ھ / 26 تیر 1405 ہجری شمسی / 17 جولائی 2026ء









آپ کا تبصرہ