حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید کے جسدِ خاکی کی تشییع کے سلسلے میں عراق کے دورے پر گئے آیت اللہ جواد مروی نے نجف اشرف میں قم اور نجف کے علماء کے مشترکہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قم سے علماء، اساتذہ اور مراجع کرام کے نمائندے، مراجعِ تقلید کا سلام اور خواہشات عراق کے علما، مفکرین، نوجوانوں اور عوام تک پہنچانے کے لیے نجف آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سفر دونوں حوزوں اور ایران و عراق کے درمیان اخوت، ایمان اور وحدت کے گہرے رشتے کی علامت ہے۔ انہوں نے عراقی عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید ہمیشہ عراق کو عظیم، باوقار اور صاحبِ تہذیب قوم قرار دیتے تھے۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ رہبرِ شہید نے اپنی پوری زندگی مکتبِ امام حسین علیہ السلام کے راستے پر استقامت کے ساتھ گزاری اور اپنے جان، مال اور اہل و عیال کو اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کی راہ میں قربان کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید عراقی عوام کی اربعین کے دوران مہمان نوازی کا ہمیشہ ذکر کرتے تھے، اور آج عراقی علما، نوجوان اور عوام ان کے استقبال اور تکریم کے لیے متحد نظر آ رہے ہیں۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ رہبرِ شہید کی عظیم الشان تشییع صرف ایک عظیم شخصیت کو الوداع کہنا نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے واضح پیغام ہے کہ ایران اور عراق کے عوام دو جسم ایک روح ہیں، جنہیں ایمان، اہل بیت علیہم السلام کی محبت اور حسینی فکر نے متحد کر رکھا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان یہ تعلق روز بروز مزید مضبوط اور مستحکم ہونا چاہیے، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ایران و عراق کے دشمنوں کو ناکام کرے، دونوں اقوام کو مزید متحد بنائے اور ظالم صہیونی جارحیت کا خاتمہ فرمائے۔









آپ کا تبصرہ