حوزہ نیوز ایجنسی: رہبرِ شہید نے اپنے درسِ خارج کے آغاز میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے بندگی میں اخلاص کی اہمیت اور دنیا کی محبت و دلبستگیوں کے مقابلے میں دل کی حفاظت و نگرانی کی ضرورت کو بیان فرمایا۔
متن حدیث
فی الکافی عن أمیر المؤمنین علیه السّلام: طُوبَی لِمَنْ أَخْلَصَ لِلَّهِ الْعِبَادَةَ وَالدُّعَاءَ، وَلَمْ یَشْغَلْ قَلْبَهُ بِمَا تَرَی عَیْنَاهُ، وَلَمْ یَنْسَ ذِکْرَ اللَّهِ بِمَا تَسْمَعُ أُذُنَاهُ، وَلَمْ یَحْزُنْ صَدْرَهُ بِمَا أُعْطِیَ غَیْرُهُ.(محمد محسن فیض کاشانی، الشافی، ایضا، ص ۵۲۶)
ترجمہ: خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو خالص نیت کے ساتھ صرف اللہ کی عبادت اور دعا کرتے ہیں، اپنے دل کو ان چیزوں میں نہیں الجھاتے جو ان کی آنکھیں دیکھتی ہیں، اپنے کانوں سے سنی ہوئی غفلت آمیز باتوں کے باعث اللہ کی یاد کو فراموش نہیں کرتے اور اللہ نے دوسروں کو جو نعمتیں عطا کی ہیں، ان پر حسرت اور رنج کا اظہار نہیں کرتے۔
حدیث کی شرح
إِلَی الله بِالدُّعاءِ وَالعِبادَة
تقربِ الٰہی کے بارے میں بنیادی نکتہ یہی ہے کہ دعا اور عبادت خالص خدا کے لیے ہو۔
بسا اوقات انسان کسی عمل یا عبادت کا آغاز تو خالص نیت کے ساتھ، صرف اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، لیکن آخر تک اس اخلاص کو برقرار نہیں رکھ پاتا۔ امام سجادؑ کی ایک دعا میں آیا ہے کہ آپؑ ایسے عمل پر استغفار کرتے ہیں جس کی ابتدا تو رضائے الٰہی کی نیت سے ہوتی ہے، مگر دورانِ عمل مختلف محرکات اور دنیاوی اغراض انسان کے دل میں داخل ہو کر اس کی توجہ بٹا دیتے ہیں۔ لہٰذا اخلاص کے ساتھ عمل کرنا اور پھر آخر تک اس اخلاص کی حفاظت کرنا ایک بہت بڑا کام ہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ انسان کا دل ان چیزوں میں مشغول نہ ہو جنہیں اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں۔ انسان کی آنکھ ہر وقت دنیا کی چمک دمک، زیب و زینت، دلکش اور رنگا رنگ مناظر کو دل تک پہنچاتی رہتی ہے۔ حقیقی اخلاص اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اپنے دل کو ان دنیا کی دلکشی سے محفوظ رکھے۔ ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو اپنے دل پر ایک مضبوط دروازہ لگا دینا چاہیے تاکہ ہر وہ چیز، جو اس کے لیے مناسب نہیں یا ممنوع ہے، دل میں داخل نہ ہو۔ یہی اصل ہنر ہے کہ انسان اپنے دل کو آنکھوں کے مشاہدات کا اسیر نہ بننے دے۔
کان بھی اسی طرح دل کے دروازوں میں سے ایک ہے۔ جو کچھ انسان سنتا ہے، وہ مسلسل اس کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔ انسان ہر بات سننے سے تو نہیں بچ سکتا، لیکن ضروری یہ ہے کہ جو کچھ وہ سنے، وہ اسے یادِ خدا سے غافل نہ کرے۔
اسی طرح انسان کا دل اس بات پر غمگین نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کسی دوسرے کو کوئی نعمت، فضیلت یا برتری عطا کی ہے۔ حسد، چاہے شعوری ہو یا غیر شعوری، انسان کے دل و دماغ کو آلودہ کر دیتا ہے۔ اگر کسی شخص کو دنیاوی یا معنوی کوئی امتیاز حاصل ہو جائے تو اس پر حسد کرنے یا رنجیدہ ہونے کے بجائے، انسان کو خوش ہونا چاہیے کہ اس کے مومن بھائی کو اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت عطا فرمائی ہے۔
رہبرِ شہید امام خامنہ ای کے درسِ خارج سے اقتباس
18 مئی 2008









آپ کا تبصرہ