حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران-امریکہ جنگ اور عالمی فکری نظام کے عنوان پر حوزہ علمیہ جامعہ النجف سکردو پاکستان میں نشست منعقد ہوئی؛ نشست سے حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد علی ایڈووکیٹ نے خطاب کیا۔
مدیر جامعہ النجف سکردو نے کہا کہ موجودہ جنگ محض عسکری تصادم کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت اور پیچیدہ موضوع ہے، جس کے فکری، سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سائنسی پہلوؤں کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علمی و فکری حلقوں میں اس جنگ کے نظریاتی، فکری، سٹریٹیجک، تزویراتی، اقتصادی، سیاسی، نفسیاتی، علمی اور دیگر اہم پہلوؤں پر تجزیاتی ،تحلیلی اور علمی و فکری گفتگو پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔
شیخ توحیدی نے موجودہ عالمی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی آبادی تقریباً 9 ارب نفوس پر مشتمل ہے، جبکہ ایران کی آبادی تقریباً 9 کروڑ ہے، اس کے باوجود ایران نے بڑی عالمی شیطانی طاقتوں کی شدید پابندیوں، دباؤ اور محاذ آرائی کے باوجود اپنی حکمتِ عملی، منصوبہ بندی اور فکری استقامت کے ذریعے جنگ کے بہت سے روایتی اصول بدل دیے اور مختلف میدانوں میں اپنی برتری ثابت کی۔
شیخ محمد علی توحیدی نے غاصب اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اسرائیل امتِ مسلمہ کا دشمن ہے، تاہم حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نہایت قلیل آبادی رکھنے کے باوجود اس نے عالمی سطح پر غیر معمولی اثر و رسوخ قائم کیا ہے جس کی بنیادی وجہ افرادی طاقت سے زیادہ عقلیت پسندی، گہری منصوبہ بندی، مضبوط تھنک ٹینکس، ترجیحات کی تعیین، علم و صنعت اور ٹیکنالوجی پر توجہ اور انسانی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ وغیرہ ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کو ایسے مفکرین، محققین اور عالمی سطح پر سوچنے والے ذہن پیدا کرنے ہوں گے جو صرف چند مقامی، ظاہری، جذباتی، رسمی اور چھوٹے مسائل تک محدود نہ ہوں، بلکہ تعلیمی سطح پر پوری انسانیت کے لیے مؤثر فکری، نظریاتی، عملی، پیشرفتہ اور قابلِ عمل اور جامع و مانع نظام اور منصوبے پیش کر سکیں۔
انہوں نے سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس نے رہبر شہید آیت اللہ خامنہ ای کے جدید عالمی اسلامی تمدن کے نظریے کو نہایت خطرناک قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس فکر کو روکنا ہوگا۔
شیخ توحیدی نے کہا کہ یہ بات اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ عظیم اور پیشرفتہ نظریات بھی عالمی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت دنیا میں صرف دو ایسی فکری قوتیں ہیں جو عالمی نظام کا واضح تصور رکھتی ہیں۔ ایک صہیونی فکر ہے، جو اپنی سیاسی، اقتصادی، علمی، سائنسی، تزویراتی اور عسکری بالادستی کے ذریعے پوری دنیا پ کو اپنا محکوم بنانا چاہتی ہے۔ دوسری قوت جمہو ری اسلامی ایران ہے، جس کے پاس نظریہ مہدویت پر مبنی عالمی عادلانہ نظام حکومت کا نظریہ ہے۔
ان کے بقول مہدویت کا نظریہ عقل، فطرت، انصاف اور انسانی عزت کی بنیادوں پر مبنی ہے۔ مہدویت ظلم، استبداد اور استحصال کے مقابلے میں ایک لاثانی ،خدائی نظام پیش کرتا ہے۔
شیخ محمد علی توحیدی نے کہا کہ اگر مسلمان عالمی طاقت بننا چاہتے ہیں تو انہیں جذبات کے علاوہ علم، تحقیق، اخلاص ،جدوجہد،حکمت اور عقل و خرد پر مبنی روش کا کو ہتھیار بنانا ہوگا، مضبوط تحقیقی ادارے اور تھنک ٹینکس قائم کرنے ہوں گے اور ایسے باصلاحیت افراد تیار کرنے ہوں گے جو مستقبل کے عالمی فکری اور تہذیبی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔









آپ کا تبصرہ