حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید کے ایصالِ ثواب کے لیے حوزہ علمیہ جامعۃ النجف سکردو پاکستان میں قرآن خوانی اور ایک باوقار و روح پرور مجلسِ ترحیم کا انعقاد کیا گیا، جس میں مہمان علمائے کرام، جامعۃ النجف کے اساتید، طلاب جامعۃ النجف اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

تعزیتی ریفرنس کا آغاز جامعۃ النجف کے استاد حجۃ الاسلام سید محمد علی شاہ الحسینی اور شرکاء کی اجتماعی تلاوتِ سورۂ یٰسین سے ہوا، جس کے بعد شہداء کے درجات کی بلندی اور امتِ مسلمہ کی سربلندی کے لیے دعا کی گئی۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان عالم دین حجۃالاسلام شیخ نثار عاملی نے ایران کے حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علامہ شیخ نوری اور ان کی ٹیم نے ایران میں بلتستان کی بہترین نمائندگی کی، جو اہلِ بلتستان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ موصوف کا رہبرِ انقلاب کے دستِ مبارک سے معمم ہونا اور رہبر کی جانب سے عطا کردہ عمامہ و رومال ایک عظیم روحانی نعمت ہے، مگر انسان اکثر نعمتوں کی قدر ان کے چھن جانے کے بعد کرتا ہے۔
انہوں نے رہبرِ شہید کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہبر فرمایا کرتے تھے: "ہم نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جسے اب چھوڑ نہیں سکتے، کیونکہ یہ راہِ حق ہے اور حق سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔"
انہوں نے صدام کے خلاف جنگ کے بعد رہبر کا یہ تاریخی جملہ بھی نقل کیا کہ یہ جنگ ختم نہیں ہوئی، بلکہ اب اس کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا ہے۔ ان کے مطابق آج طلبگی، علمی تحقیق اور دینی جدوجہد اسی مسلسل جہاد کا حصہ ہیں۔

شیخ نثار عاملی نے مزید کہا کہ معاشرے کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے۔ جب انسان خود عمل کا پیکر بن جائے تو اس کی دعوت مؤثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علماء چونکہ انبیاء کے وارث ہیں، اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ اس عظیم امانت کا حق ادا کریں۔
انہوں نے موجودہ دور کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج مصنوعی ذہانت (AI) کے اس دور میں بھی دنیا شیعہ مکتب کی شناخت اور اس کی فکری قوت کو محسوس کر رہی ہے۔
جامعۃ النجف سکردو کے نائب مدیر و رکن گلگت بلتستان کونسل حجۃ الاسلام شیخ احمد علی نوری نے خطاب کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ"کی روشنی میں شہداء کی حیات پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ پروردگار کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں تشییعِ جنازہ رہبرِ شہید میں شرکت اور رہبرِ شہید کی پیروی کی توفیق عطا فرمائی۔
انہوں نے کہا کہ قرآن و احادیث کے مطابق شہداء زندہ ہیں، لیکن ان کی زندگی صرف ان کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ اپنی قربانی سے پوری امت کو نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔
انہوں نے رہبرِ شہید کی علمی، فقہی، اخلاقی اور عرفانی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں وہ فقاہت، اخلاق اور بصیرت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتے تھے۔
انہوں نے آیت اللہ بہجت اور آیت اللہ جوادی آملی جیسے اکابر علماء کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ایسی عظیم شخصیات کسی کو "عارف باللہ" قرار دیں تو اس کے مقام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید غیر معمولی اخلاق، اعلیٰ تدبر اور بہترین اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتے تھے، جبکہ شہادت ان کی دیرینہ آرزو تھی جو بالآخر انہیں نصیب ہوئی۔
شیخ احمد علی نوری نے ایران میں رہبرِ شہید کی تشییع و تدفین کے اپنے آنکھوں دیکھے مناظر بھی بیان کیے۔
انہوں نے کہا کہ مشہد مقدس میں تشییع جنازے کا اعلان ایک روز قبل کیا گیا تھا، مگر اس کے باوجود لاکھوں افراد پہلے ہی سے سڑکوں، راستوں اور صحنوں میں موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مختصر فاصلے کو طے کرنے میں گھنٹوں لگ گئے، کیونکہ ہر سمت انسانوں کا سمندر تھا۔ صحنِ جامع میں ایک ہی امام کی اقتدا میں عظیم نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جبکہ تدفین کے موقع پر بھی صبح اذان سے قبل ہی لوگوں کا غیر معمولی اجتماع موجود تھا اور نماز کے بعد بھی عقیدت مندوں کا جمِ غفیر برقرار رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس عظیم منظر نے چند واضح حقائق دنیا کے سامنے رکھ دیے: یہ کہ شہداء نے جس قوم کی تربیت کی وہ استقامت کی علامت بن چکی ہے؛ لوگوں کے چہروں پر بیک وقت شدید غم اور غیر متزلزل صبر نمایاں تھا؛ کسی نے روایتی انداز میں مصائب نہیں پڑھے مگر فضا میں عشقِ اہل بیتؑ اور شہادت کی ایسی کیفیت تھی کہ ہر شخص اشکبار تھا؛ اس شہادت نے دنیا بھر کے حق پسندوں میں نئی انقلابی روح پھونک دی؛ عالمی استکبار کے فریب کو بے نقاب کیا؛ اور رہبرِ انقلاب کے "گامِ دوم" کے نظریے کو نئی قوت اور عملی تعبیر عطا کی۔

تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر مہمان عالمِ دین حجۃ الاسلام شیخ یوسف جوہری نے امام زمانہؑ کے ظہور، امتِ مسلمہ کی وحدت، شہداء کے درجات کی بلندی اور رہبرِ انقلاب کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کروائی۔










آپ کا تبصرہ