حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے تہران صوبے کے ائمہ جمعہ و جماعت سے ملاقات کے دوران رہبرِ شہید اور دیگر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح واقعۂ کربلا نے اسلام اور تشیع کی حفاظت کی، اسی طرح ان شہداء کا پاک خون بھی مکتبِ اہل بیت علیہم السلام اور اسلامی معاشرے کے استحکام کا سبب بنے گا۔
انہوں نے شہید حسن طہرانی مقدم اور ان کے رفقاء کی علمی و دفاعی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ علم کی حقیقی قدر اسی وقت ہے جب وہ اسلام، امتِ مسلمہ اور ملک کے دفاع کے لیے استعمال ہو۔
آیت اللہ جوادی آملی نے کہا کہ آج ایران کی عزت و اقتدار اسلام، عوام کے ایمان اور ان کی استقامت کا ثمرہ ہے۔ انہوں نے عوامی یکجہتی کو نصرتِ الٰہی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مومن مرد و خواتین "جنودُ الرحمن" ہیں اور انہی کی بیدار موجودگی اسلامی معاشرے کی اصل طاقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی حقیقی تعظیم صرف دعاؤں سے نہیں بلکہ ان کے راستے، افکار اور رہنمائی کو عملی طور پر جاری رکھنے سے ہوگی۔ ان کے بقول موجودہ رہبرِ معظم انقلاب "صالحٌ بعد صالح" ہیں اور رہبرِ شہید کے مشن، فکر اور اہداف کو آگے بڑھا رہے ہیں، اس لیے ان کی حمایت بھی سب کی ذمہ داری ہے۔
مرجعِ تقلید نے قومی اتحاد کو موجودہ حالات کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کوئی بھی بات جو اتحاد یا مقامِ قیادت کو نقصان پہنچائے، اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے امریکہ کی عہد شکنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ملک ہے جو صبح معاہدہ کرتا ہے اور شام کو اسے توڑ دیتا ہے۔ اسی لیے اس کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔ آخر میں انہوں نے حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے معنوی تعلق مضبوط کرنے اور اسلامی نظام کی حفاظت کی تلقین کی۔









آپ کا تبصرہ