ہفتہ 18 جولائی 2026 - 12:30
شہید رہبر امت (رہ) کی قربانی نے امت مسلمہ کو نئی بیداری عطا کی / عزاداریِ امام حسین (ع) پر کوئی قدغن قبول نہیں

حوزہ / علامہ شبیر حسن میثمی نے خطبہ جمعہ کے دوران کہا: تاریخ کو دلائل اور احترام کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے تاکہ نئی نسل حقیقت سے آگاہ ہو۔ اہل بیت علیہم السلام کی مظلومیت اور کربلا کے حقائق کو علمی انداز میں پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ ڈیفنس کراچی میں 17 جولائی 2026ء کو نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا: شہیدِ امت آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی خامنہ ایؒ کی تشییع جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت نے ثابت کر دیا کہ جو شخصیت حق، اسلام اور امت کی سربلندی کے لیے قیام کرتی ہے، امت اسے ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا: ایران کے حالیہ دورے کے دوران انہیں شہید رہبر امترہ) کی زیارت، نماز جنازہ اور تشییع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، جہاں عوام کے جذبۂ وفاداری اور استقامت کا مشاہدہ کیا۔ خواتین، مرد، نوجوان اور بزرگ سب ایک ہی آواز میں رہبر شہید (رہ) کے راستے پر ثابت قدم رہنے اور ان کے خون کا انتقام لینے کے عزم کا اظہار کر رہے تھے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے اپنے خطاب کے دوران ماہ صفر کے ایام کی مناسبت سے واقعہ کربلا کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: اسلام کی بقا، عزت اور سربلندی حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کی مرہون منت ہے۔ کربلا کی روح کو زندہ رکھنا امت کی ذمہ داری ہے اور اسی پیغام کو آج بھی زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا: تاریخ کو دلائل اور احترام کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے تاکہ نئی نسل حقیقت سے آگاہ ہو۔ اہل بیت علیہم السلام کی مظلومیت اور کربلا کے حقائق کو علمی انداز میں پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

شہید رہبر امت (رہ) کی قربانی نے امت مسلمہ کو نئی بیداری عطا کی / عزاداریِ امام حسین (ع) پر کوئی قدغن قبول نہیں

علامہ میثمی نے کہا: رہبر شہید (رہ) نے اپنے خون سے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ حق و باطل کی جنگ میں استقامت ہی کامیابی کا راستہ ہے۔

انہوں نے کہا: ایران کے عوام نے شہید رہبر کی تشییع میں جس جذبۂ وفاداری اور بیداری کا مظاہرہ کیا، اس نے دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔

سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ استکباری طاقتوں کے دباؤ کے سامنے جھکنا اس کی پالیسی نہیں۔ اگر کوئی قوم اللہ تعالیٰ پر توکل کرے اور اہل بیت علیہم السلام کے راستے پر گامزن رہے تو اسے شہادت تو مل سکتی ہے لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے پاکستان میں عزاداری کے خلاف سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مجالس، جلوس، ماتم اور دیگر شعائر حسینی دین کا حصہ ہیں اور ان پر کسی قسم کی پابندی یا سازش ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ عزاداری کے خلاف کسی بھی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے حکومت سندھ سمیت متعلقہ حکام پر زور دیا کہ عزاداری کے حوالے سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور مقدمات کا خاتمہ کیا جائے اور مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے امت مسلمہ کو اتحاد، باہمی احترام اور علمی و اخلاقی دعوت کی تلقین کرتے ہوئے کہا: اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں محبت، استدلال اور حسن اخلاق کے ذریعے لوگوں کو حق کی طرف دعوت دینا چاہیے۔

علامہ شبیر میثمی نے عالمی سیاسی و اقتصادی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلنے کی صورت میں پوری دنیا شدید معاشی بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اہل ایمان کو فضول خرچی سے اجتناب، وسائل کی حفاظت، باہمی تعاون اور ضرورت مندوں کی مدد کی تلقین کی۔

علامہ میثمی نے کہا: موجودہ حالات میں مومنین کو دعاؤں، زیارت عاشورا، دعائے علقمہ اور اہل بیت علیہم السلام سے توسل کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے اور امت مسلمہ کی سربلندی، شہداء کے مشن کی کامیابی اور اسلام کے دشمنوں کی ناکامی کے لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha