ہفتہ 18 جولائی 2026 - 23:42
مؤسسہ نہضت الانتظار قم میں مجلسِ عزا، پینل ڈسکشن اور باہمی تعاون کے سلسلے میں نشست کا انعقاد

حوزہ/مؤسسہ نہضت الانتظار قم المقدسہ میں پاکستان سے تشریف لائے ہوئے سابقین و حاضرینِ امامیہ، جید علمائے کرام اور مختلف علمی و دینی شخصیات کی موجودگی میں ایک باوقار اور بامقصد نشست کا انعقاد کیا گیا؛ نشست میں علامہ امین شہیدی نے خصوصی شرکت اور خطاب کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مؤسسہ نہضت الانتظار قم المقدسہ میں پاکستان سے تشریف لائے ہوئے سابقین و حاضرینِ امامیہ، جید علمائے کرام اور مختلف علمی و دینی شخصیات کی موجودگی میں ایک باوقار اور بامقصد نشست کا انعقاد کیا گیا؛ نشست میں علامہ امین شہیدی نے خصوصی شرکت اور خطاب کیا۔

مؤسسہ نہضت الانتظار قم میں مجلسِ عزا، پینل ڈسکشن اور باہمی تعاون کے سلسلے میں نشست کا انعقاد

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد رہبرِ شہید کے ایصالِ ثواب اور بلندیِ درجات کے لیے ایک پُرسوز مجلسِ عزا منعقد کی گئی۔

مقررین نے رہبرِ شہید کی علمی، دینی، سیاسی اور انقلابی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی امتِ مسلمہ کی عزت، وحدت اور استقامت کے لیے وقف رہی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہداء کے افکار اور اہداف کو زندہ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مؤسسہ نہضت الانتظار قم میں مجلسِ عزا، پینل ڈسکشن اور باہمی تعاون کے سلسلے میں نشست کا انعقاد

مجلسِ عزا کے بعد ایک تفصیلی پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور قم المقدسہ کے علمی، تبلیغی، ثقافتی اور سماجی حالات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے عصرِ حاضر کے چیلنجز، نوجوان نسل کی فکری تربیت، دینی مراکز کے درمیان مؤثر رابطے اور میڈیا کے کردار سمیت مختلف اہم موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پینل ڈسکشن میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مستقبل میں پیش آنے والے حالات، واقعات اور امت کو درپیش مختلف مسائل کے حوالے سے باہمی رابطے، مشاورت اور منظم تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، تاکہ بروقت، مؤثر اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے دینی، علمی اور سماجی میدانوں میں فعال کردار ادا کیا جا سکے۔

مؤسسہ نہضت الانتظار قم میں مجلسِ عزا، پینل ڈسکشن اور باہمی تعاون کے سلسلے میں نشست کا انعقاد

شرکائے نشست نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور قم المقدسہ کے علمی و دینی حلقوں کے درمیان رابطوں کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور مختلف شعبوں میں مشترکہ سرگرمیوں، فکری نشستوں، علمی پروگراموں اور عوامی خدمت کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ امتِ مسلمہ کے مفادات اور دینی اقدار کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر اور مربوط پلیٹ فارم وجود میں آ سکے۔

پروگرام کے اختتام پر رہبرِ شہید، تمام شہدائے اسلام اور امتِ مسلمہ کی سربلندی، اتحاد اور کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha