ہفتہ 18 جولائی 2026 - 16:00
اربعین 2026 مزاحمتی تہذیب کے فروغ اور بیداری کا عظیم مظہر ہے: محترمہ طاہرہ ماہ روزاد

حوزہ/ جامعۃ الزہرا(س) کی استاد اور محققہ طاہرہ ماہ روزادہ نے کہا ہے کہ اربعین کو صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ اسلامی تہذیب، امتِ واحدہ اور مزاحمتی فکر کے عالمی مظہر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اربعین کے دوران زائر کا ہر قدم ان مغربی پروپیگنڈوں کا عملی جواب ہے جن میں مزاحمتی محاذ کو کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ الزہرا(س) کی استاد اور جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے زیر نظر مدرسین بنت الہدیٰ کی فیکلٹی رکن محترمہ طاہرہ ماہ روزادہ نے کہا ہے کہ اربعین 2026 کو محدود مذہبی پروگرام کے بجائے اسلامی تہذیب کی تشکیل اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ رہبر شہید کی ایران اور عراق میں ہونے والی تاریخی تشییع جنازہ صرف ایک تعزیتی تقریب نہیں تھی بلکہ اس نے دونوں ممالک کے عوام کو امتِ واحدہ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کے بقول نجف اور کربلا میں ہونے والی یہ تشییع اس حقیقت کی علامت تھی کہ استکبار کے خلاف جدوجہد کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ اسلامی عہد ہے جو حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی سے وابستہ ہے۔

طاہرہ ماہ روزادہ نے کہا کہ اسلامی تہذیب کی تعمیر کا مقصد ایسے انسان کی تربیت ہے جو پوری انسانیت کی ذمہ داری کا احساس رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ شہید کی تشییع اور شہداء کے خون کا انتقام لینے کے مطالبے نے یہ ثابت کیا کہ اسلامی معاشرہ سیاسی اور دینی شعور کے اعلیٰ درجے تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے اربعین کے دو اہم پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلا پہلو دشمن کے مقابلے میں مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہنا ہے، کیونکہ لاکھوں افراد کا متحد ہو کر میدان میں آنا دشمن کو یہ پیغام دیتا ہے کہ رہبریت پر حملوں سے مزاحمتی محاذ کمزور نہیں ہوگا۔ دوسرا پہلو ولایتِ فقیہ کے تصور کو عوامی اور عالمی سطح پر مضبوط بنانا ہے، جس کے لیے اربعین کے دوران درست اور مؤثر طریقے سے بیان مرنا کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اربعین کو بصیرت کا ایک ذریعہ بنایا جائے کیوں کہ اربعین کو صرف عزاداری تک محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ ان کے مطابق منظم پیدل مارچ، بین الاقوامی تعاون، ایثار، رضاکارانہ خدمت، خواتین و مردوں کی مشترکہ شرکت اور عوامی نظم و ضبط ایک نئی اسلامی تہذیب کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

طاہرہ ماہ روزادہ نے کہا کہ اربعین دشمن کی بیانیہ جنگ کو ناکام بنانے کا بہترین موقع ہے اور زائر کا ہر قدم مغربی میڈیا کے اس دعوے کی عملی تردید ہے کہ مزاحمتی محاذ کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مواکب کو فکری مراکز بنایا جائے جہاں زائرین کو مزاحمتی محاذ کی سائنسی، دفاعی اور سماجی کامیابیوں سے بھی آگاہ کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اربعین کا رضاکارانہ اور عوامی نظام اس بات کا ثبوت ہے کہ شیعہ معاشرہ اپنے اندر اتنی مضبوط سماجی قوت رکھتا ہے کہ کسی بھی مشکل کے بعد خود کو منظم کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہی عوامی استحکام دشمن کو اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ مزاحمت ایک شخص یا گروہ نہیں بلکہ ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست عوامی تحریک ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ اربعین کا حقیقی پیغام امام مہدیؑ کے ظہور کے لیے عدلِ عالمی کی راہ ہموار کرنا ہے اور شہداء کا خون اس تحریک کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط اور ہمہ گیر بناتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha