رجب علی، سوشل ایکٹوسٹ
حوزہ نیوز ایجنسی | امریکہ کی آبادی صرف 34 کروڑ ہے، کل رقبہ 98 لاکھ 34 ہزار مربع میل ہے، امریکہ کی 50 ریاستیں ہیں، امریکن فعال فوج کی تعداد 13 لاکھ ہے، ریزرو اور نیشنل گارڈ سمیت کل امریکی فوج کی تعداد 21 لاکھ ہے۔
کتنی افسوس کی بات ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی ڈھائی ارب ہے، 57 اسلامی ممالک ہیں مگر صد افسوس کہ 34 کروڑ آبادی والا ملک امریکہ 21 لاکھ فوج کے ذریعے پورے 57 مسلم ممالک پر اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہے بلکہ امریکہ 57 اسلامی ممالک کا تھانیدار بنا ہوا ہے اور 57 مسلمان ممالک امریکی تھانیدار کے حوالاتی ہیں۔ افسوس!
امریکہ ہزاروں میل دور سمندر کے اس پار سے خلیج فارس میں آ کر مسلمانوں کو آپس میں لڑواتا ہے، مسلم ممالک کا انفراسٹرکچر تباہ کروا رہا ہے، پھر انہی مسلم ممالک کو سیکورٹی دینے کے بہانے وہاں اپنے فوجی اڈے قائم کرکے جب چاہے ایک ملک کو دوسرے کے خلاف اکسا کر جنگ کی فضا پیدا کرتا ہے اور ان ممالک کو اپنا اسلحہ فروخت کرتا ہے۔ امریکہ اپنے نئے ہتھیاروں کے تجربات امریکہ میں نہیں بلکہ انہی اسلامی ممالک میں کرتا ہے۔
افسوس! مسلمان اصل حقیقت کو سمجھنے کی بجائے صرف بغضِ ایران میں اصل حقائق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے، اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ میرا دشمن جس گھر سے مجھ پر حملہ کرے، عقلِ سلیم اور انسان کی غیرت بھی یہی کہتی ہے کہ جہاں سے مجھ پر حملہ ہوا، جواب میں میں اسی گھر پر حملہ کروں گا۔ اس وقت امریکہ بحرین، کویت، سعودی عرب، اردن اور دیگر اسلامی ممالک میں اپنے فوجی اڈے قائم کرکے ان اڈوں سے ایران پر حملے کرتا ہے۔ ایران اپنے دفاع میں انہی امریکی اڈوں کو نشانہ بناتا ہے تو اسلامی ممالک ان حملوں کو اپنی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح اسرائیل اور امریکی فضول خرچ منافق تکفیری پاکستان میں بیٹھ کر ایران کے حملوں کو اسلامی ممالک پر حملہ کہہ کر ایران کی مذمت کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ سب ایران کے خلاف تعصب اور بغض کی علامت ہے۔ اگر اسلامی ممالک امریکہ کو اپنے ممالک میں اڈے نہ دیتے تو امریکہ ان ممالک سے ایران پر کیسے حملے کرتا؟ اسلامی ممالک نے امریکہ کو اڈے دیے ہیں تو امریکہ وہاں سے ایران پر حملے کرتا ہے تو ایران بھی لازمی جواب میں انہی اڈوں پر حملہ کرے گا۔ پھر آپ لوگ بتائیں کہ ایران کو کیا کرنا چاہیے؟ جب آپ نے امریکہ کو اڈے دیے ہیں، اب ایران اپنے دفاع میں انہی اڈوں پر حملہ کرے گا تو آپ کا نقصان تو ہو گا، ابھی پھر روتے کیوں ہو؟ برداشت کرو نا! آپ امریکہ کو اڈے دیتے نہ امریکہ ایران پر حملے کرتا، نہ ایران آپ کے ممالک کے اڈوں پر حملے کرتا۔ اب اڈے دے کر غلطی کی ہے تو برداشت کرو۔
امریکہ نے ایران کو اسلامی ممالک کے سامنے جن بھوت بنا کر ایران کو اسلامی ممالک کا ازلی دشمن بنا کر پیش کیا ہے اور اسلامی ممالک کو ایران سے ڈرا کر پھر ایران سے اسلامی ممالک کی حفاظت کے نام پر اسلامی ممالک میں اپنے فوجی اڈے قائم کرکے وہاں سے ایران پر حملے کرتا ہے۔ اب ایران اپنے دفاع میں انہی ممالک کے اڈوں پر حملہ کرتا ہے تو پھر اسلامی ممالک کہتے ہیں کہ یہ ہماری سالمیت پر حملہ ہے۔ بندگانِ خدا، آپ خود فیصلہ کرو کہ ایران پر حملہ جہاں سے ہوگا، ایران بھی اسی جگہ حملہ کرے گا۔ کیا ایران پلٹ کر پاکستان پر حملہ کرے یا سمندر میں میزائل پھینکے؟ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت صرف ایران ہے جو امریکہ کی سازشوں کو سمجھتا ہے۔ ایران امریکہ کی زبان میں بات کرتا ہے، اینٹ کا جواب پتھر سے دیتا ہے۔ افسوس! باقی 57 اسلامی ممالک 34 کروڑ آبادی والے امریکہ کے سامنے بےبس بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں، صرف ایران امریکہ سمیت متعدد اسلامی ممالک کا تنہا مقابلہ کر رہا ہے۔
اگر مسلمانوں نے اب بھی ہوش نہ کیا اور امریکہ کی سازشوں کو نہ سمجھا تو امریکہ عرب امارات اور خلیج فارس میں وہی تاریخ دہرائے گا، جس طرح برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت کے بہانے برصغیر میں داخل ہو کر اپنی جڑیں مضبوط کیں اور مغل سلطنت کے خلاف سازش کے ذریعے 1857ء میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ کر کے پورے برصغیر پر قبضہ کیا تھا۔ بہادر شاہ ظفر ایسٹ انڈیا کمپنی کی سازشوں کو نظر انداز کرتا رہا بالآخر اقتدار سے محروم ہو گیا، آخر میں قبر کی جگہ بھی نصیب نہ ہوئی۔ بالکل اسی طرح آج اگر مسلم ممالک امریکی سازشوں کو نہ سمجھیں، آپس میں الجھتے رہیں، اتحاد اور حکمت کا راستہ اختیار نہ کریں تو شاید مستقبل میں خلیج فارس، پورے عرب امارات اور مشرقِ وسطیٰ سے اسلامی ممالک کو ہاتھ دھونا پڑے گا۔
عرش والے ایران کی توقیر سلامت رکھنا / زمین کے تمام فرعونوں سے تنہا الجھ بیٹھا ہے









آپ کا تبصرہ