تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال ایک عجیب تضاد پیش کرتی ہے۔ ایک طرف وہ طاقتیں ہیں جو اپنی سرزمین کو دوسروں کے حوالے کر چکی ہیں، اور دوسری طرف وہ قوت ہے جو اپنی خودمختاری کے ساتھ کھڑی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون حملہ کر رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون صبر کر رہا ہے — اور کیوں؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کئی عرب ممالک نے اپنی زمین پر امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کیے ہیں۔ انہی اڈوں سے ایسے اقدامات ہوتے ہیں جو پورے خطے کو کشیدگی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی طاقت ہے جو براہِ راست ان ممالک کو نشانہ بنانے کے بجائے صرف مخصوص فوجی اہداف تک خود کو محدود رکھتی ہے، تو وہ ایران ہے۔
یہ صبر کمزوری نہیں — بلکہ طاقت کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔
طاقت کا معیار: صرف حملہ نہیں، کنٹرول بھی
ایران کے پاس وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ خطے کے کئی ممالک کو براہِ راست نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کی دفاعی اور عسکری قوت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لیکن اصل عظمت یہ نہیں کہ آپ حملہ کر سکتے ہیں — بلکہ یہ ہے کہ آپ حملہ کرنے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی خود کو روک لیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کی پالیسی نمایاں ہوتی ہے: وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے جذبات میں آ کر پورے خطے کو جنگ میں جھونک دیا تو نقصان صرف حکمرانوں کا نہیں بلکہ عام مسلمانوں کا ہوگا۔
🔹اصل ہدف:
ایران اپنی حکمتِ عملی میں ایک بنیادی اصول کو سامنے رکھتا ہے: اصل مقابلہ استعمار سے ہے، نہ کہ امت کے اندرونی اختلافات سے۔ اگر ایران عرب ممالک پر حملہ کرتا، تو یہ بیانیہ فوراً بدل جاتا: “استعمار کے خلاف مزاحمت” کی جگہ “مسلم ممالک کی باہمی جنگ” لے لیتی — اور یہی دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی۔
🔹صبر یا کمزوری؟ ایک غلط فہمی
بعض لوگ اس صبر کو کمزوری سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کمزور وہ ہوتا ہے جو جذبات میں آ کر فوری ردِعمل دے، جبکہ مضبوط وہ ہوتا ہے جو حالات کو دیکھ کر اپنے ردِعمل کو کنٹرول کرے۔ ایران کا محدود اور ہدفی ردِعمل یہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ نہ صرف طاقت رکھتا ہے بلکہ اس طاقت کو استعمال کرنے کا شعور بھی رکھتا ہے۔
🔹عرب دنیا کی ذمہ داری
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ خطے کے بعض ممالک نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے بیرونی طاقتوں کو جگہ دی ہے۔ لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ پورا خطہ ایک اور جنگ میں دھکیل دیا جائے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ممالک خود اپنی خودمختاری، اپنی پالیسی اور اپنی ذمہ داری کا جائزہ لیں۔
ایران کا صبر دراصل خاموشی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ یہ پیغام ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ فیصلوں میں بھی ہوتی ہے۔ وہ حملہ کر سکتا ہے — مگر نہیں کرتا۔ وہ جواب دے سکتا ہے — مگر محدود رکھتا ہے۔ یہی فرق ہے جذباتی ردِعمل اور حکیمانہ قیادت میں۔









آپ کا تبصرہ