بدھ 8 اپریل 2026 - 15:01
ایران کی تاریخی کامیابی، عالمی استکبار کی پسپائی: جنگ بندی دراصل مزاحمت کی فتح ہے، آغا سید حسن

حوزہ/ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ دو ہفتہ جنگ بندی کو عالمی استکباری قوتوں کی ذلت آمیز شکست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ استقامت، بصیرت اور قربانیوں سے حاصل ہونے والی وہ تاریخی فتح ہے جس نے عالمی طاقتوں کو ایران کے اصولی مؤقف کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے آج جاری اپنے ایک مضبوط اور مدلل بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ پیش رفت کو "انسانیت دشمن قوتوں کی ایک تاریخی اور ذلت آمیز شکست" قرار دیا۔

آغا سید حسن نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی محض ایک سفارتی وقفہ نہیں بلکہ استقامت، بصیرت اور اجتماعی قربانیوں سے عبارت ایک عظیم کامیابی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو رہبر شہید انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای ؒکے مقدس لہو کی برکت، رہبر معظم انقلاب اسلامی و سپہ سالار ملت حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر معمولی بصیرت و حکمت عملی، مسلح افواج کی جرات و استقامت اور ایرانی عوام کی بے مثال شرکت کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا، "دنیا اس وقت ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے، جہاں حق و باطل کی ازلی کشمکش نے ایک بار پھر عالمی حالات کے دھارے کو متاثر کیا ہے۔ بظاہر یہ جنگ بندی ایک سفارتی پیش رفت دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے پس منظر میں استقامت، حکمت اور قربانی کی ایک عظیم داستان پوشیدہ ہے۔"

عالمی استکباری طاقتوں کی "غیر قانونی اور جارحانہ کارروائیوں" کا ذکر کرتے ہوئے آغا سید حسن نے کہا کہ ایران کا رد عمل پوری امت مسلمہ کے لیے باعث فخر اور حوصلہ افزائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کی ثابت قدمی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ظلم کے مضبوط ترین ایوان بھی حق کی طاقت کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ بندی کو کمزوری کے طور پر نہیں بلکہ ایک حکیمانہ اور اصولی فیصلہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس کے ذریعے ایران نے اپنی خودمختاری، وقار اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر مخالف قوتوں کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق ایران کے دس نکاتی اصولی مؤقف کا تسلیم کیا جانا عالمی سطح پر ایک نئے توازن قوت کا مظہر ہے۔

آغا سید حسن نے اس عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے نہ صرف میدان جنگ میں اپنی برتری ثابت کی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اپنی شرائط منوانے کی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محور مزاحمت کی مشترکہ جدوجہد نے عالمی یکطرفہ تسلط کو چیلنج کرتے ہوئے بین الاقوامی منظرنامے میں نئی جہت پیدا کی ہے۔

جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کی جانب سے آغا سید حسن نے ایرانی عوام، ان کی قیادت اور تمام حریت پسند قوتوں کو اس کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی بنیاد ثابت ہوگی، جہاں اصولوں، انصاف اور خودمختاری کو فوقیت حاصل ہوگی۔

آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنا اور مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں کسی بھی مرحلے پر بدعہدی یا جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا تو مزاحمت کی قوتیں پوری طاقت کے ساتھ اس کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha