عاصم علی، جامعۃ المصطفی کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی | ولایتِ فقیہ کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ اسلامی احکام کا نفاذ، معاشرتی عدل کا قیام اور امت مسلمہ کی حفاظت ہے۔ ایک ولیِ فقیہ عوام کی خدمت، اسلامی اقدار کے تحفظ اور ظلم کے خلاف جدوجہد کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
تمہید
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام نہ صرف عبادات اور اخلاقیات پر زور دیتا ہے بلکہ سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی امور کے لیے بھی اصول و ضوابط بیان کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرے کو عدل و انصاف، آزادی، عزت اور انسانی کرامت کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے اسلام نے قیادت اور رہبری کے ایک جامع نظام کو متعارف کرایا ہے جسے ولایت کہا جاتا ہے۔
شیعہ مکتبِ فکر میں ولایتِ فقیہ اسی تسلسل کا نام ہے جو انبیائے کرامؑ، ائمہ اہل بیتؑ اور ان کے بعد جامع الشرائط فقہاء کی صورت میں جاری رہتا ہے۔ ولایتِ فقیہ کا بنیادی مقصد اسلامی معاشرے کو دینی اصولوں کے مطابق منظم کرنا، عدل و انصاف قائم کرنا اور ظلم و استکبار کے خلاف امت مسلمہ کی رہنمائی کرنا ہے۔
دوسری طرف استکبار ایک ایسی فکر اور روش کا نام ہے جس میں طاقتور افراد یا قومیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر دوسروں کو محکوم بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ قرآن مجید میں استکبار کو ایک مذموم صفت قرار دیا گیا ہے اور مستکبرین کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ عصر حاضر میں عالمی استکبار ان طاقتوں کو کہا جاتا ہے جو سیاسی، اقتصادی، عسکری یا ثقافتی غلبے کے ذریعے دنیا کے کمزور ممالک پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہیں۔
ولایتِ فقیہ کا نظریہ استکبار کے خلاف مزاحمت کا ایک مضبوط فکری اور عملی نظام فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی انقلابِ ایران کے بعد مزاحمت، خودمختاری اور آزادی کی تحریکوں کو ایک نئی قوت حاصل ہوئی۔
ولایتِ فقیہ کا مفہوم
ولایت کے لغوی معنی سرپرستی، قیادت اور اختیار کے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں ولایت اس اختیار اور ذمہ داری کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معاشرے کی رہنمائی اور قیادت کے لیے عطا کی جاتی ہے۔
شیعہ عقیدے کے مطابق رسول اکرم ﷺ کے بعد ائمہ اہل بیتؑ امت کی دینی و سیاسی قیادت کے ذمہ دار تھے۔ امام زمانہؑ کی غیبتِ کبریٰ کے دور میں یہ ذمہ داری ایسے فقیہ کے سپرد ہوتی ہے جو علم، تقویٰ، عدالت، بصیرت اور انتظامی صلاحیتوں کا حامل ہو۔
ولایتِ فقیہ کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ اسلامی احکام کا نفاذ، معاشرتی عدل کا قیام اور امت مسلمہ کی حفاظت ہے۔ ایک ولیِ فقیہ عوام کی خدمت، اسلامی اقدار کے تحفظ اور ظلم کے خلاف جدوجہد کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
قرآن اور استکبار
قرآن مجید میں استکبار کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ فرعون، نمرود اور دیگر ظالم حکمرانوں کو استکبار کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان لوگوں نے اپنی طاقت اور اقتدار کے غرور میں حق کو قبول کرنے سے انکار کیا اور کمزور لوگوں پر ظلم کیا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ۔ بے شک اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ النحل، آیت 23)
استکبار صرف سیاسی طاقت کا نام نہیں بلکہ ایک ذہنیت کا نام ہے جس میں انسان خود کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اور انہیں اپنے تابع بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
اسلام انسانوں کے درمیان مساوات، عدل اور اخوت کا درس دیتا ہے جبکہ استکبار ظلم، استحصال اور غلامی کو فروغ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اور استکبار ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
عالمی استکبار کا مفہوم
عصر حاضر میں عالمی استکبار سے مراد وہ طاقتیں ہیں جو اپنی فوجی، اقتصادی اور سیاسی قوت کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک پر اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتی ہیں۔
یہ طاقتیں مختلف طریقوں سے اپنا تسلط برقرار رکھتی ہیں۔ مثلاً: سیاسی مداخلت, اقتصادی پابندیاں, ثقافتی یلغار, میڈیا کے ذریعے افکار پر اثرانداز ہونا, کمزور ممالک کے وسائل پر قبضہ.
عالمی استکبار ہمیشہ ان اقوام کی مخالفت کرتا ہے جو آزادی، خودمختاری اور قومی وقار کی بات کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی انقلابِ ایران کے بعد استکباری طاقتوں نے ایران کے خلاف مختلف سازشیں کیں۔
اسلامی انقلاب اور استکبار کے خلاف جدوجہد
سن 1979ء میں اسلامی انقلاب نے دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک نئی تبدیلی پیدا کی۔ اس انقلاب کی قیادت آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کی۔
اس انقلاب نے ثابت کیا کہ ایک قوم دینی اصولوں کی بنیاد پر استکباری طاقتوں کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے۔ انقلاب کے بعد ایران نے سیاسی آزادی، قومی خودمختاری اور اسلامی اقدار کے تحفظ کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا۔
اسلامی انقلاب نے دنیا بھر کے مظلوموں کو یہ پیغام دیا کہ ظلم اور استکبار کا مقابلہ ممکن ہے بشرطیکہ قوم میں ایمان، اتحاد اور مضبوط قیادت موجود ہو۔
ولایتِ فقیہ اور مزاحمت کا فلسفہ
ولایتِ فقیہ کا بنیادی فلسفہ حق اور باطل کے درمیان جدوجہد پر مبنی ہے۔ اسلام انسان کو ظلم کے سامنے جھکنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ حق اور عدل کے قیام کے لیے کوشش کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
ولیِ فقیہ امت مسلمہ کو یہ شعور دیتا ہے کہ آزادی اور عزت کسی بھی قوم کا بنیادی حق ہیں۔ اگر کوئی طاقت کسی قوم کو غلام بنانے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف مزاحمت کرنا ایک دینی اور انسانی فریضہ ہے۔
مزاحمت کا مطلب جنگ نہیں بلکہ ظلم کے خلاف استقامت، استقلال اور حق پر ثابت قدم رہنا ہے۔
رہبرِ معظم انقلاب اور مزاحمتی فکر
آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ولایتِ فقیہ کے نظام کو مزید مضبوط کیا اور مزاحمت کی فکر کو عالمی سطح پر فروغ دیا۔
انہوں نے ہمیشہ امت مسلمہ کے اتحاد، اسلامی بیداری اور قومی خودمختاری پر زور دیا ہے۔ ان کے نزدیک استکبار کے مقابلے میں سب سے مؤثر ہتھیار ایمان، علم، اتحاد اور خوداعتمادی ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو علمی ترقی، ٹیکنالوجی اور خود کفالت کی طرف توجہ دلائی تاکہ اسلامی معاشرے بیرونی طاقتوں کے محتاج نہ رہیں۔
مزاحمتی محاذ کی تشکیل
ولایتِ فقیہ کی قیادت میں مزاحمت کا ایک وسیع محاذ وجود میں آیا جس کا مقصد مظلوم اقوام کی حمایت اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
اس مزاحمتی فکر کی چند خصوصیات:
ظلم کی مخالفت
مظلوموں کی حمایت
قومی خودمختاری کا دفاع
اسلامی وحدت کا فروغ
استکباری تسلط کی مخالفت
یہ مزاحمت صرف عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ فکری، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں بھی جاری ہے۔
نوجوانوں کا کردار
استکبار کے خلاف جدوجہد میں نوجوانوں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان قوم کو ترقی اور خودمختاری کی طرف لے جا سکتا ہے۔
رہبرِ معظم انقلاب ہمیشہ نوجوانوں کو امید، محنت، علم اور خود اعتمادی کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی تعمیر نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہے۔
اگر نوجوان اسلامی اقدار، علم اور قومی ذمہ داری کو اپنا شعار بنا لیں تو کوئی بھی استکباری طاقت ان پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتی۔
اسلامی وحدت اور مزاحمت
استکباری طاقتیں اکثر مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرکے اپنے مفادات حاصل کرتی ہیں۔ اس لیے ولایتِ فقیہ اسلامی وحدت کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔
مسلمانوں کے درمیان اتحاد نہ صرف استکبار کے منصوبوں کو ناکام بناتا ہے بلکہ امت مسلمہ کی سیاسی اور اقتصادی طاقت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
اسلامی وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مکاتب فکر اپنے عقائد ترک کر دیں بلکہ اس کا مطلب مشترکہ دشمنوں کے مقابلے میں متحد ہونا ہے۔
نتیجہ
ولایتِ فقیہ ایک ایسا اسلامی نظامِ قیادت ہے جو امت مسلمہ کی دینی، سیاسی اور سماجی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد عدل، آزادی، خودمختاری اور انسانی کرامت کا تحفظ ہے۔ استکبار ایک ایسی قوت اور ذہنیت کا نام ہے جو ظلم، استحصال اور تسلط کو فروغ دیتی ہے، جبکہ ولایتِ فقیہ انسانوں کو ظلم کے خلاف قیام اور حق کے دفاع کا درس دیتی ہے۔
اسلامی انقلابِ ایران نے عملی طور پر ثابت کیا کہ ایمان، بصیرت اور مضبوط قیادت کے ذریعے استکباری طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ رہبرِ معظم انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں مزاحمت کی فکر نے دنیا بھر کے مظلوموں کو امید، حوصلہ اور استقامت کا پیغام دیا ہے۔
آج کے دور میں امت مسلمہ کی عزت، آزادی اور ترقی کا راستہ اسلامی وحدت، علمی پیشرفت، خود اعتمادی اور استکبار کے خلاف شعوری مزاحمت میں پوشیدہ ہے۔ ولایتِ فقیہ اسی مقصد کی طرف رہنمائی کرنے والا ایک مؤثر اور جامع نظام ہے۔









آپ کا تبصرہ