جمعہ 3 اپریل 2026 - 20:44
میدان، سیاست اور عوامی حمایت، امریکہ تینوں محاذوں پر ایران سے شکست کھا چکا ہے: امام جمعہ تہران 

حوزہ/ تہران کے امام جمعہ حجت الاسلام والمسلمین سید محمد حسن ابوترابی فرد نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ میں امریکہ کو عسکری محاذ، سیاسی حکمتِ عملی اور عوامی حمایت—تینوں میدانوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایران ایک نئی عالمی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے مصلّیٰ امام خمینیؒ میں نماز جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین ابوترابی فرد نے کہا کہ اسلامی معاشرے کی ترقی، استحکام اور بقا کے لیے دفاعی طاقت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اور قرآن کریم امتِ مسلمہ کو سیاسی، عسکری اور دفاعی قوت کے اعلیٰ ترین درجے تک پہنچنے کی تلقین کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی صلاحیت میں توقف یا سستی کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ زمینی، فضائی اور بحری ہر سطح پر طاقت میں اضافہ ضروری ہے تاکہ دشمن کے عزائم کو روکا جا سکے۔ ان کے بقول امام خمینیؒ نے ایران میں اسلامی نظام کی بنیاد رکھی، جبکہ رہبر معظم نے گزشتہ چار دہائیوں میں اس نظام کو استحکام، دفاعی قوت اور عوامی پشت پناہی عطا کی۔

ابوترابی فرد نے کہا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ نے درحقیقت ایران کو عالمی سطح پر ایک نئی طاقت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلی بار امریکہ کی عسکری حکمتِ عملی اور طاقت کا فارمولہ ایران کے مقابلے میں ناکام ہوا اور واشنگٹن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی پالیسی ہمیشہ دباؤ، پابندیوں، سفارتی تنہائی، نفسیاتی جنگ اور عسکری جارحیت کے ذریعے اپنی بالادستی قائم رکھنے کی رہی ہے، مگر ایران نے ان تمام مراحل کا سامنا کرتے ہوئے اپنی مزاحمتی قوت میں اضافہ کیا ہے۔

خطیبِ نماز جمعہ تہران کے مطابق موجودہ جنگ میں امریکہ کو تین محاذوں پر شکست ہوئی۔ ان کے بقول پہلا محاذ میدانِ جنگ ہے، جہاں ایران نے امریکی اور صہیونی اہداف کو مسلسل نشانہ بنایا۔ دوسرا محاذ سیاست ہے، جہاں امریکی قیادت کی حکمتِ عملی پر خود مغربی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تیسرا محاذ عوامی حمایت ہے، جہاں ایران کے اندر عوامی موجودگی اور امریکہ کے اندر جنگ مخالف احتجاج نے نئی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران صرف اپنے دفاع کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کی عزت، خودمختاری اور محورِ مقاومت کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے۔ ان کے بقول خطے کا مستقبل میدان میں ہونے والی پیش رفت سے طے ہوگا، اور ایران ظلم و استکبار کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha