تحریر: سید انجم رضا
حوزہ نیوز ایجنسی| دنیا کی سیاسی و فکری تاریخ میں بعض نظریات ایسے ہوتے ہیں جو صرف حکمرانی کے اصول پیش نہیں کرتے، بلکہ اقوام کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظامِ حکومت اور بالخصوص “نظریۂ ولایتِ فقیہ” بھی ایک ایسا ہی جامع، متحرک اور انقلابی نظریہ ہے جس نے نہ صرف ایران کو عالمی استعمار کے مقابلے میں استقامت عطا کی بلکہ امتِ مسلمہ کو عزت، خودداری اور بیداری کا شعور بھی دیا۔ یہ نظریہ دراصل مکتبِ اہلِ بیتؑ کی سیاسی و اجتماعی فکر کا عملی مظہر ہے، جس کی بنیاد عدل، دیانت، عوامی خدمت، دینی قیادت اور ظلم کے خلاف مزاحمت پر قائم ہے۔
اسلامی انقلابِ ایران سے قبل ایران ایک ایسی ریاست بن چکا تھا جہاں بیرونی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور مغربی استعمار کا گہرا اثر و رسوخ موجود تھا۔ شاہی حکومت عوامی حقوق سلب کرچکی تھی، قومی وسائل پر بیرونی قبضہ مضبوط ہوچکا تھا اور اسلامی اقدار کو دبانے کی منظم کوششیں کی جارہی تھیں۔ ایسے ماحول میں امام خمینیؒ نے نظریۂ ولایتِ فقیہ کو عملی جدوجہد کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا اور یہ واضح کیا کہ اسلام صرف عبادات کا مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات اور نظامِ حکومت بھی ہے۔
نظریۂ ولایتِ فقیہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دینی قیادت کو عوامی حمایت اور اسلامی اصولوں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس نظام میں قیادت کا معیار دولت، طاقت یا خاندانی برتری نہیں بلکہ علم، تقویٰ، بصیرت، عدالت اور امت کی رہنمائی کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے انتہائی سخت پابندیوں، عالمی دباؤ، اقتصادی مشکلات اور بیرونی سازشوں کے باوجود اپنی آزادی اور خودمختاری کو محفوظ رکھا۔
ایرانی قوم کی استقامت دراصل اسی نظریے کی عملی تصویر ہے۔ آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ ہو یا اقتصادی پابندیاں، سائنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ہوں یا عالمی میڈیا کی یلغار، ایرانی عوام نے ہر محاذ پر صبر، بصیرت اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ دنیا نے دیکھا کہ ایک ایسی قوم جسے کمزور اور تنہا سمجھا جارہا تھا، وہ ایمان، قیادت اور عوامی وحدت کی طاقت سے عالمی قوتوں کے سامنے ڈٹ گئی۔
ولایتِ فقیہ نے صرف ایران ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں مزاحمتی فکر کو تقویت دی۔ فلسطین، لبنان، عراق، یمن اور دیگر مظلوم اقوام نے اس نظریے سے حوصلہ، شعور اور استقامت حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ استکباری طاقتیں اس نظریے سے خوفزدہ رہتی ہیں، کیونکہ یہ غلامی کے بجائے آزادی، مایوسی کے بجائے امید، اور خوف کے بجائے جرات و مقاومت کا درس دیتا ہے۔
رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران نے جس سیاسی بصیرت، علمی ترقی اور قومی وحدت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ آج دنیا کے سامنے ایک مثال ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، دفاعی قوت، تعلیمی میدان اور سائنسی پیش رفت میں ایران کی کامیابیاں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ جب قومیں اپنے نظریے پر اعتماد کرتی ہیں تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔
آج امتِ مسلمہ کو جس فکری انتشار، سیاسی کمزوری اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے، اس کے مقابلے کے لیے اتحاد، شعور، دینی بصیرت اور مزاحمتی فکر کی شدید ضرورت ہے۔ نظریۂ ولایتِ فقیہ دراصل اسی وحدتِ امت اور اسلامی بیداری کا پیغام دیتا ہے۔ یہ نظریہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان اگر اپنے دینی اصولوں پر ثابت قدم رہیں، قیادت پر اعتماد کریں اور اجتماعی مفاد کو مقدم رکھیں تو کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔
مختصراً یہ کہ نظریۂ ولایتِ فقیہ محض ایک سیاسی تصور نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور انقلابی فکر ہے جو امتِ مسلمہ کو عزت، استقلال اور بیداری عطا کرتی ہے۔ یہی نظریہ آج بھی مظلوموں کی امید، مستضعفین کی آواز اور اسلامی بیداری کا سب سے مضبوط مرکز بن چکا ہے۔









آپ کا تبصرہ