تحریر و ترتیب: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
حوزه نیوز ایجنسی | ایران کی تاریخِ حکمرانی میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہایؒ کی بعض اختصاصی خصوصیات ایسی ہیں جو انہیں دیگر شخصیات سے ممتاز کرتی ہیں۔ اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد صفات ہیں جو تاریخ میں اس کی شناخت اور امتیاز کا سبب بنتی ہیں۔ اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی خصوصیات کا جائزہ لے رہے ہیں؛ یعنی ان غیرمعمولی صفات کا، جنہیں اس سرزمین کی تاریخِ حکمرانی میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
پندرہویں خصوصیت: فقاہت و اجتہاد
شہید رہبر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہایؒ عصرِ حاضر کے برجستہ اور جامع الشرائط فقہاء میں شمار ہوتے تھے۔ آپ اپنی خداداد صلاحیت، غیر معمولی علمی استعداد اور مسلسل علمی و عملی جدوجہد کے نتیجے میں اجتہادِ مطلق کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ فقاہت و اجتہاد کا یہ مقام آپ کو اسلامی مملکت کی سربراہی یا رہبری کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد حاصل نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ نے فقہ و اجتہاد کے دشوار گزار میدان میں طویل عرصے کی عرق ریزی، تحقیق اور علمی ریاضت کے ذریعے یہ منزل حاصل کی تھی۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے تقریباً بیس برس قبل ہی آپ اس علمی مرتبے تک پہنچ چکے تھے۔یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ اجتہاد اور علمی و فقہی صلاحیتیں راتوں رات حاصل نہیں ہوتیں اور نہ ہی انہیں کسی ایک نشست میں کسی دوسرے شخص کو منتقل کیا جاسکتا ہے۔ یہ اہلیتیں مسلسل علمی محنت، فکری پختگی اور عملی مجاہدت کے ذریعے رفتہ رفتہ پروان چڑھتی ہیں۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے برسوں کی تعلیم، تحقیق، غوروفکر اور علمی ریاضت درکار ہوتی ہے۔ذیل میں فقاہت و اجتہاد کے میدان میں شہید رہبر کے علمی سفر، اساتذہ، تدریسی سرگرمیوں، تحقیقی آثار اور برجستہ فقہاء کی شہادتوں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
شہید رہبر آیت اللہ خامنہایؒ نے عالمِ تشیع کے تین ممتاز علمی مراکز میں حصولِ علم کے لیے اپنی زندگی کے تقریباً سترہ برس صرف کیے۔ اس دوران آپ نے اپنے زمانے کے نامور علماء اور فقہاء سے کسبِ فیض کرتے ہوئے فقہ و اجتہاد کے علمی مراحل طے کیے۔شہید رہبر آیت اللہ خامنہایؒ نے ابتدائی دینی تعلیم کا آغاز حوزہ علمیہ مشہد مقدس سے کیا۔ اپنی غیر معمولی استعداد اور علمی صلاحیت کے باعث تقریباً ساڑھے پانچ برس کے مختصر عرصے میں مقدمات کی تعلیم مکمل کرلی۔آپ کی علمی استعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف سولہ برس کی عمر میں آیت اللہ سید محمد ہادی حسینی میلانیؒ کے درسِ خارج میں شرکت کرتے تھے۔
عتباتِ عالیات کی زیارت کے موقع پر حوزہ علمیہ نجف اشرف کے علمی ماحول سے متاثر ہوکر آپ نے وہاں قیام کا فیصلہ کیا، لیکن والدِ بزرگوار کی اجازت نہ ملنے کے باعث مختصر عرصے کے بعد مشہد واپس آگئے۔نجف اشرف میں قیام کے دوران آپ نے آیت اللہ حکیمؒ اور آیت اللہ سید حسن بجنوردیؒ کے عربی زبان میں فقہ و اصول کے دروس سے استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ آیت اللہ خوئیؒ، آیت اللہ شاہرودیؒ، میرزا باقر زنجانیؒ اور میرزا حسن یزدیؒ کے دروس میں بھی شرکت کی۔
شہید رہبر آیت اللہ خامنہایؒ نے حصولِ علم کا ایک بڑا حصہ حوزہ علمیہ قم میں جلیل القدر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے ہوئے گزارا۔ اس دوران حضرت امام خمینیؒ، آیت اللہ بروجردیؒ، آیت اللہ میرزا احمد مدرس یزدیؒ، آیت اللہ میرزا جواد آقا تہرانیؒ اور آیت اللہ شیخ مرتضیٰ حائریؒ کے درسِ خارجِ فقہ و اصول سے استفادہ کیا۔ اسی طرح عظیم فلسفی علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ کے درسِ فلسفہ میں بھی شرکت کی۔حوزہ علمیہ قم میں قیام کے دوران پیچیدہ فقہی و اصولی مباحث کو تیزی سے سمجھنے، علمی گفتگو میں دلچسپی لینے اور درس و بحث میں فعال شرکت کے باعث آپ اپنے اساتذہ کی توجہ اور محبت کا مرکز بن گئے۔ آیت اللہ حائریؒ آپ کے لیے خصوصی طور پر الگ درس کا اہتمام کرتے تھے۔آپ اساتذہ کے دروس کو باقاعدگی سے قلم بند کرتے اور شب کے اوقات سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں عربی زبان میں ازسرِنو مرتب کرتے تھے۔ مزید یہ کہ استاد کے پیش کردہ مباحث کے مختلف پیراگراف کے ذیل میں نشان لگاتے اور حاشیے میں اپنے تبصرے اور تنقیدی نکات بھی تحریر کرتے تھے۔عالمِ تشیع کے ممتاز علمی مراکز سے استفادہ، جلیل القدر فقہاء کی شاگردی، حصولِ علم کے لیے غیر معمولی سنجیدگی، شوق و رغبت، خلوص اور مسلسل محنت کے نتیجے میں شہید رہبر آیت اللہ خامنہایؒ نے جوانی ہی میں اجتہاد کا عظیم مرتبہ حاصل کرلیا۔
کسی مجتہد کے اجتہاد کے ثبوت کے لیے شرعی معیار اور اہلِ علم کی گواہی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ شہید رہبر آیت اللہ خامنہایؒ کے اجتہاد کے بارے میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی گواہی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ آپ کی اجتہادی صلاحیت کے بارے میں جاری کردہ گواہی نامے پر آیاتِ عظام، مجتہدین اور اہلِ خبرہ میں سے سولہ افراد کے دستخط موجود تھے۔
ذیل میں اس سلسلے کی دو شہادتیں نقل کی جاتی ہیں:
پہلی شہادت: آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد فاضل لنکرانیؒ
آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد فاضل لنکرانیؒ، حضرت امام خمینیؒ کے برجستہ شاگرد اور اپنے زمانے کے مرجعِ تقلید تھے۔ انہوں نے آیت اللہ خامنہایؒ کے فقہی مقام اور اجتہاد کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:مجلس خبرگان کے رکن اور آیت اللہ خامنہای سے آشنائی رکھنے والے شخص کی حیثیت سے عرض کرتا ہوں کہ آپ اہلِ نظر اور اہلِ اجتہاد ہیں۔ انقلابِ اسلامی کی کامیابی سے بیس برس قبل ہم نے انہیں مشہد کی مسجد گوہر شاد میں دیکھا۔ اس وقت وہ مشہد کے محترم معلمین میں شمار ہوتے تھے اور مکاسب پڑھاتے تھے، جو ہماری اہم ترین اور مشکل ترین کتابوں میں سے ہے۔ میرے نزدیک وہ فقیہ اور مجتہد ہیں۔ انہیں سیاست کے میدان میں امام خمینیؒ جیسے استاد میسر آئے اور وہ خود بھی غیر معمولی استعداد کے مالک ہیں؛ اسی لیے سیاسی ادراک کے حوالے سے بھی بلند مرتبے پر فائز ہیں۔
دوسری شہادت: آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد مؤمن قمیؒ
آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد مؤمن قمیؒ مجلس خبرگان کے رکن اور حوزہ علمیہ قم کے مدیر تھے۔ آیت اللہ خامنہایؒ کی رہبری کے لیے مجلس خبرگان کے اراکین کی رائے لی گئی تو انہوں نے آپ کے اجتہاد کے بارے میں اپنی شہادت ان الفاظ میں بیان کی:ان کا اجتہاد پہلے تو میرے لیے شرعی بیّنہ، یعنی دوسرے فقہاء کی گواہی کے ذریعے ثابت تھا؛ لیکن بعد میں ان کے فقہی مباحثے پر مشتمل نشستوں میں شرکت کے باعث ذاتی طور پر بھی ان کے اجتہاد سے آشنائی حاصل ہوئی۔ اب اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر گواہی دیتا ہوں کہ وہ عادل اور جامع الشرائط مجتہد ہیں۔
رہبر شہید آیت اللہ خامنہایؒ کی فقہی سرگرمیوں کا آغاز انقلابِ اسلامی کی کامیابی سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ فقہ و اصول کی تدریس، درسِ خارج، علمی تحقیق اور دیگر مجتہدین کے ساتھ فقہی مباحثے آپ کی اہم علمی سرگرمیوں میں شامل تھے۔
رہبر شہید نے ۱۹۵۹ء میں ابتدائی درسی کتابوں کی تدریس سے اپنے تدریسی سفر کا آغاز کیا۔ ۱۹۶۵ء میں رسائل کی تدریس شروع کی، جو شیخ انصاریؒ کی اہم اصولی مباحث پر مشتمل کتاب ہے۔ اس کے بعد مکاسب اور کفایہ کی تدریس میں مشغول ہوئے۔تخصصی مجلے فقہ اہل بیتؑ کے ذمہ دار اور آپ کے شاگرد حجۃ الاسلام عبد الرضا ایزدپناہ کے مطابق، بہت کم عرصے میں آپ کا درس حوزہ علمیہ کی ممتاز کلاسوں میں شمار ہونے لگا۔ کفایہ کے متعدد دروس پڑھانے والے اساتذہ کے مقابلے میں آپ کے درس کو زیادہ جامع اور دقیق سمجھا جاتا تھا۔ آپ صاحبِ کفایہ کے نظریات کو مہارت کے ساتھ بیان کرتے اور ان پر علمی تنقید بھی کرتے تھے۔
رہبر شہید آیت اللہ خامنہایؒ نے ۱۹۹۰ء میں درسِ خارجِ فقہ کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں آپ نے اپنے اجتہادی مبانی کی روشنی میں جہاد، قصاص اور مکاسبِ محرمہ جیسے اہم فقہی موضوعات پر بحث کی۔ حجۃ الاسلام احمد مروی کے مطابق، آپ کے درس میں شرکت کرنے والے بعض شاگرد خود بھی مجتہد تھے، لیکن اس کے باوجود وہ کہتے تھے کہ ہم آپ کے درس سے حقیقی معنوں میں استفادہ کرتے ہیں۔
رہبر شہید آیت اللہ خامنہایؒ کی فقہی سرگرمیوں میں ایک اہم پہلو فقہی شوریٰ کا قیام اور اس کی علمی نشستوں میں آپ کا فعال کردار تھا۔ رہبری کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے ہی آپ نے یہ شوریٰ تشکیل دی تھی۔اس علمی حلقے میں بعض مجتہدین کے ساتھ فقہی مسائل، بالخصوص اسلامی نظام اور اسلامی معاشرے کو درپیش نئے مسائل پر اجتہادی نقطۂ نظر سے بحث و گفتگو کی جاتی تھی۔شورائے نگہبان کے فقہاء، چیف جسٹس، بعض دوسرے مجتہدین اور اساتذہ کے ساتھ تہران میں منعقد ہونے والی یہ ہفتہ وار علمی نشست اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھی۔ اس کی نوعیت، شرکاء کی تعداد اور مباحث کے دائرے کے لحاظ سے یہ نشست مراجعِ تقلید کی استفتاء کمیٹیوں اور فقہ کے معمول کے درسِ خارج سے مختلف تھی۔
رہبر شہید آیت اللہ خامنہایؒ کے فقہی آثار
اہلِ علم کی علمی وسعت اور فکری گہرائی ان کے قلمی آثار میں نمایاں ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کے منتخب کردہ موضوعات سے ان کی علمی ترجیحات اور معاشرتی مسائل کے بارے میں ان کی توجہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔رہبر شہید آیت اللہ خامنہایؒ نے اسلامی معاشرے کے بنیادی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے متعدد موضوعات پر تحریری کام کیا۔ ذیل میں ان آثار کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے جو فقہ و اجتہاد کے میدان میں آپ کی علمی کاوشوں اور تحقیقی اسلوب کی عکاسی کرتے ہیں۔
۱۔ اساتذہ کے دروس کی تقریرات
رہبر شہید آیت اللہ خامنہایؒ نے طالب علمی کے زمانے میں آیاتِ عظام میلانیؒ، حائریؒ، بروجردیؒ اور امام خمینیؒ جیسے بزرگ اساتذہ کے فقہی اور اصولی مباحث کو باقاعدہ قلم بند کیا۔ یہ تقریرات ایک منظم اور ذمہ دار طالب علم کی علمی کاوشوں کا حصہ تھیں۔ان نوشتہ جات کا ایک حصہ پہلوی حکومت کے اہلکاروں کی لوٹ مار کے نتیجے میں ضائع ہوگیا، تاہم کچھ تحریری مواد محفوظ رہا اور آپ کی دسترس میں موجود تھا۔
۲۔ کتاب الجہاد در فقہِ استدلالی
رہبر شہید آیت اللہ خامنہایؒ نے اپنے درسِ خارج کے دوران کتاب الجہاد کے مباحث کو اپنے اجتہادی اسلوب کے مطابق مرتب اور تنقیح کیا۔ اس علمی کاوش کے بعض حصے دو مقالات کی صورت میں تخصصی مجلے فقہ اہل بیتؑ میں شائع ہوچکے ہیں۔
۳۔ کتاب القصاص در فقہِ استدلالی
آپ کے فقہی آثار میں کتاب القصاص کے درسِ خارج پر مشتمل علمی مواد بھی شامل ہے۔ اس میں بابِ قصاص کے مختلف مباحث پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی فقہی تشریح و توضیح پیش کی گئی ہے۔
۴۔ کتاب المکاسب المحرمہ در فقہِ استدلالی
مکاسبِ محرمہ فقہ کا ایک اہم باب ہے، جس میں متعدد ایسے معاملات اور افعال زیرِ بحث آتے ہیں جن کے شرعی حکم کا تعین کیا جاتا ہے۔ان مباحث میں ناجائز حکومتوں کے ساتھ تعاون، سحر و جادو، شعبدہ، کہانت، رشوت، جوا، گمراہ کن کتابوں کی تجارت، غنا و موسیقی، مجسمہ سازی، نقاشی، غیبت، چغل خوری اور جھوٹ جیسے موضوعات شامل ہیں۔
رہبر شہید آیت اللہ خامنہایؒ نے ان میں سے بیشتر موضوعات پر درس دیا اور بعض مباحث پر تدریسی و تحقیقی کام بھی جاری رکھا۔
۵۔ فقہی مباحثوں کے مقالات
فقہاء اور مجتہدین کے ساتھ ہفتہ وار علمی نشستوں میں اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کو درپیش مسائل پر بحث و گفتگو کی جاتی تھی۔ ان مباحث کے حاصل کو فقہی مقالات کی صورت میں مرتب کیا جاتا تھا۔یہ تحریریں فقہی تحقیق کے باب میں اہم علمی آثار کی حیثیت رکھتی ہیں اور نئے مسائل کے بارے میں اجتہادی غوروفکر کی عکاسی کرتی ہیں۔
۶۔ اجوبۃ الاستفتاءات
اجوبۃ الاستفتاءات فقہی سوالات اور ان کے جوابات پر مشتمل کتاب ہے، جو آپ کے اعلانِ مرجعیت کے کچھ عرصے بعد عربی زبان میں شائع ہوئی۔ بعدازاں اس کا اردو سمیت مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی شائع ہوا۔فقہ کے متعدد ابواب سے متعلق آپ کے فتاویٰ کا ایک اہم حصہ اس کتاب میں موجود ہے۔
۷۔ مناسکِ حج
مناسکِ حج میں آیت اللہ خامنہایؒ کے فتاویٰ کی روشنی میں حج و عمرہ کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب اردو سمیت مختلف زبانوں میں متعدد مرتبہ شائع ہوچکی ہے۔
۸۔ فقہی اجلاسوں کے لیے مکتوب پیغامات
فقہ و فقاہت کے موضوع پر آیت اللہ خامنہایؒ کے علمی آثار میں وہ مکتوب پیغامات بھی شامل ہیں جو آپ نے مختلف فقہی اجلاسوں اور کانفرنسوں کے لیے ارسال کیے۔ان پیغامات میں فقہی نظریات اور فقہ و فقاہت کی تاریخ کے حوالے سے اہم اور عمیق نکات بیان کیے گئے ہیں۔
۹۔ علمِ رجال کی دو اہم کتابوں کا تعارف
اجتہاد کے مقدماتی علوم پر آیت اللہ خامنہایؒ کی دسترس کی ایک مثال وہ تحقیقی مقالہ ہے جو آپ نے معروف رجالی عالم شیخ طوسیؒ کی دو اہم کتابوں، اختیار معرفۃ الرجال اور الفہرست، کے تعارف کے لیے تحریر کیا۔اس مقالے میں علمِ رجال کی تعریف، اس کے موضوع اور اس علم کی ضرورت پر مدلل گفتگو کی گئی ہے۔ معاصر رجال شناس علامہ محمد تقی شوشتریؒ نے اس مقالے کے بارے میں تحسین آمیز کلمات کہتے ہوئے لکھا:بلاشبہ اس مقالے میں گفتگو کا حق ادا کردیا گیا ہے۔ ہر جملہ ہمہ جہت تحقیق اور انتہائی باریک بینی کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے۔
رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہایؒ کی علمی و فقہی شخصیت کا مطالعہ ان کے طویل علمی سفر، فقہی تعلیم، تدریسی سرگرمیوں، اجتہادی مباحث اور تحقیقی آثار کے متعدد پہلو سامنے لاتا ہے۔آپ نے حوزہ ہائے علمیہ مشہد، نجف اشرف اور قم کے علمی ماحول سے استفادہ کیا، ممتاز فقہاء و علماء سے تعلیم حاصل کی، فقہ و اصول کی تدریس کی، درسِ خارج کے ذریعے فقہی مباحث کو آگے بڑھایا اور دیگر مجتہدین کے ساتھ علمی نشستوں میں شرکت کی۔آپ کے فقہی آثار، تقریرات، دروس، مقالات اور استفتاءات فقہ و اجتہاد کے میدان میں آپ کی علمی سرگرمیوں کے مختلف پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسی طرح نامور فقہاء کی شہادتیں آپ کے اجتہادی مقام کے بارے میں معاصر علمی حلقوں میں موجود آراء کو بیان کرتی ہیں۔
رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہای کی فقہی شخصیت کا یہ پہلو ان کے علمی سفر اور اجتہادی جدوجہد کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ فقاہت و اجتہاد کا حصول محض کسی منصب یا ذمہ داری سے وابستہ نہیں، بلکہ اس کے لیے طویل علمی تربیت، مسلسل تحقیق، محنت اور فکری پختگی درکار ہوتی ہے۔









آپ کا تبصرہ