جمعرات 1 اکتوبر 2026 - 02:31
کربلا کو وسیلۂ نجات سمجھنے والے شاعر؛ سہ دیو رام کیف ؔ مبارکپوری

حوزہ/جناب سہ دیو رام، تخلص’’ کیف ‘‘ جناب منشی بلدیورام مبارکپوری کے فرزند ارجمند تھے۔آپ 1907ء میں مبارکپور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے حلیہ و مزاج کے بارے میں تذکرہ کیا جائے تو آپ گندمی رنگ، میانہ قد، صحت مند بدن، چہرے پر امتداد زمانہ کے گہرے نقوش، خوش مزاج اور خوش مذاق شاعر، جس نے ایک باعزت ہندو جیسوال خاندان میں جنم لیا۔

تحریر: مولانا محمدرضاایلیاؔ مبارکپوری

حوزہ نیوز ایجنسی| جناب سہ دیو رام، تخلص’’ کیف ‘‘ جناب منشی بلدیورام مبارکپوری کے فرزند ارجمندتھے ۔آپ 1907ء میں مبارکپور میں پیداہوئے ۔ آپ کے حلیہ و مزاج کے بارے میں تذکرہ کیا جائے تو آپ گندمی رنگ، میانہ قد، صحت مند بدن، چہرے پر امتداد زمانہ کے گہرے نقوش، خوش مزاج اور خوش مذاق شاعر، جس نے ایک باعزت ہندو جیسوال خاندان میں جنم لیا۔

آپ کا شمار مبارکپور کے معزز شہریوںمیںتھا ۔
آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ باب العلم، مبارکپور سے حاصل کی۔ معلم بے نظیر ، استاد الاساتذہ ، استاد الشعراءعلامہ فہامہ عبد الحمید ناظرؔ مبارکپوری اور مولانا اصغرعلی سے اردو، فارسی اور عربی میں استفادہ کیا۔ آپ نےناظرۂ قرآن مجید کی مکمل تعلیم علامہ فہامہ عبد الحمید ناظرؔ مبارکپوری سے حاصل کی ۔عربی نہ اچھی خاص جانتے تھے بلکہ ملکہ رکھتے تھے ۔ اس کےعلاوہ اردو اور فارسی میں بڑی اچھی استعدادرکھتے تھے۔شعر و شاعری بھی دونوں زبانوں میں کرتے تھے ۔ابتدائی شاعری میں علامہ فہامہ عبد الحمید ناظرؔ مبارکپوری اور مولاعلی اصغر مبارکپوری سے مشورہ ٔ سخن کرتے رہے۔چونکہ خالص اسلامی ماحول میں تربیت پائی اس لیے اسلامی علوم وفنون اور معاشرہ سے بہت زیادہ متاثرتھے ۔ اسی لیے ان کی شاعری میں اس کی جھلک مکمل طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
جہاں آج دو ر جدید میں ہر طرف ملحدوں کی باڑھ آئی ہوئی ہے اور سارے ملحدین اپنی کم علمی اور تنگ نظری کے شکار ہیں وہیں سہ دیو رام کیفؔ مبارکپوری اپنے شعری فکری کمال، توحیدی شعور اور قلبی یقین کا روشن ترین مینار تھے۔آپ نےوحدہٗ لاشریک کے بارے میں جس جرات اظہار اور فکری بلندی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ہر صاحب نظر کو دنگ کر دیتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں:
ملحد بے خبر اگر تاب نظر ہو دیکھ لے
پہنچا ہے کیفؔ سرمدی جلوۂ لاالٰہ تک
کیف مبارکپوری نے پہلے مصرعے میں ’’ملحد بے خبر اگر تاب نظر ہو دیکھ لے‘‘ کے ذریعے اپنے مخالفین اور ناقدین کو ایک للکار نما دعوت فکر دی ہے۔ یہ دراصل عشق حقیقی اور معرفت الٰہی کے اس معتبر مقام کا اعلان ہے جہاں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، کرنا آسان نہیں۔
دوسرے مصرعے میں جب کیفؔ یہ کہتے ہیں کہ’’پہنچا ہے کیفؔ سرمدی جلوۂ لاالٰہ تک‘‘، تو شعر اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ یہاں ’’سرمدی جلوہ‘‘ اور ’’لاالٰہ‘‘کی نسبت شاعر کے اس روحانی سفر کا غماز ہے جو کثرت سے نکل کر وحدت مطلق تک جا پہنچا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کیفؔ مبارکپوری کی شاعری محض الفاظ کا جوڑ توڑ نہیں، بلکہ ایک ایسا عارفانہ اعلان ہے جس نے بندگی کی اصل روح کو پا لیا تھا۔یہ شعر پڑھنے والے کے دل میں توحید کی حرارت اور عشق حقیقی کا ایک ایسا ولولہ پیدا کرتا ہے جو قاری کو فکری طمانیت اور روحانی سرور سے سرشار کر دیتا ہے۔
کیف مبارکپوری ادبی نشستوں و شعری محفلوں میںطالب علمی کے زمانہ ہی سے ہی دلچسپی لینے لگے تھےاور باصلاحیت سخنوروں اور شعری محفلوں میں حصہ لیتے تھے۔ مگرفرقہ وارانہ فسادات نے قصبے کی گنگا جمنی تہذیب، بھائی چارے اور روایتی ادبی فضا کو تہ و بالاکر دیا تھا۔ جب شعر و سخن اور میل جول کی محفلیں ختم ہو جائیں، تو ایک حساس ادیب کا دل لگنا مشکل ہو جاتا ہے۔لہٰذا 1967ء میں شیعہ- سنی فسادسے متاثر ہو کر مبارکپور سے ترک سکونت کر کے ضلع مئوتشریف لے گئے۔
کیف مبارکپوری کی شخصیت محض شعر و سخن کا ایک باب نہیں، بلکہ زندہ دلی اور کیف و سرور کی ایک چلتی پھرتی داستان تھی۔ وہ ایک ایسے جہاندیدہ اور پُرشوق انسان تھے جن کی رگوں میں زندگی کا جوش و ولولہ موجیں مارتا تھا۔ ان کی نگاہ میں حیات کوئی بوجھ نہیں، بلکہ ایک مسلسل جشن تھا، اور وہ ہر لمحے کو اس کی پوری رعنائی اور سرشاری کے ساتھ جینے کے قائل تھے۔کیفؔ مبارکپوری بڑے زندہ دل اور جہاندیدہ تھے۔ زندگی کو ہمیشہ پرکیف سرور آفریں اور سرشار دیکھنا چاہتے ہیں۔آپ اپنی جوانی کی سرمستیوں اور لذت انگیزنیوں کی داستان بڑے بے تکلفانہ انداز میں سناتے تھے اور اپنی پیرانہ سالی کو فریب دینے کے لئے بادہ و ساغر کا سہارا بھی لیتےتھے۔
پہنچے تھے شوق دید میں حسن کی بارگاہ تک
اٹھ نہ سکی نگاہ تک کرسکے نہ اک آہ تک
کیف مبارکپوری کی شاعری میں ندرت خیال اور نغمگی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ آپ بڑی شگفتہ اور دل آویز غزلیں کہنے کے ساتھ ساتھ بلند پایہ قصیدے اور روح پرور نعتیں لکھنے پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے۔ آپ کی زبان و بیان میں ایسی بے مثال صفائی، نفاست اور پرکاری ملتی ہے جو قاری کے دل پر سیدھا اثر کرتی ہے۔ آپ کے کلام میں تخیل کی دلاویزی اور فکر کی گہرائی کے نقوش اتنے نمایاں ہیں کہ آپ ایک کہنہ مشق، صاحب طرز اور بے پناہ باصلاحیت متبحر شاعر کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
’’تذکرہ سخنواران مئو‘‘ کے مصنف جناب اثر انصاری آپ کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں :
’’کیف مبارکپوری بڑی شگفتہ غزلیں کہتے ہیں، قصیدے اور نعت بڑی پاکیزہ لکھتے ہیں۔ زبان و بیان میں صفائی اور پرکاری ہے۔ انداز میں دلاویزی اور فکر میں گہرائی ہے۔آپ کہنہ مشق اور باصلاحیت شاعرتھے۔ ‘‘(تذکرہ سخنواران مئو، صفحہ نمبر 80)
سہ دیو رام کیف مبارکپوری کی شاعری کا کینوس جتنا رنگین اور رندانہ تھا، ان کی نعت نگاری اتنی ہی پاکیزہ، عقیدت کی معراج اور روحانی سرمایہ سے مالامال تھی۔ موصوف کی شاعری میں جہاں زبان و بیان کی صفائی اور فکری گہرائی ملتی ہے، وہیں ان کا نعت گو روپ دلوں کو مسخر کر لیتا ہے۔ ان کے نعتیہ اشعار ان کے خلوص نیت، عشق رسول ﷺ اور پختہ فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔آپ کی شاعری عشق رسولﷺ کو روح کی پیاس بجھانے کا واحد اور حسین ترین ذریعہ قرار دینے کی علامت ہے۔آپ کی نعتیہ شاعری ایک ایسا استعارہ ہے جو مدینہ طیبہ کی روحانی فیض رسانی کو کیف و سرور کے پیرائے میں ڈھال دیتا ہےاورحضور اکرم ﷺ کے منصب علم و حکمت کو فصاحت و بلاغت کے عربی شہواروں کے تناظر میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے بلیغ اور فصیح انسان بھی جس بحر بیکراں میں ڈوب گئے، وہ علم کا دریا دراصل ذات مصطفی ﷺ سے پھوٹا تھا۔

جہاں وہ مدینے کی نسبت سے کعبہ دل کے احترام کا درس دیتے ہیں، وہیں شاعرانہ انکساری اور قلبی آرزوکےآئینہ دار بھی ہیں، جہاں وہ مبالغے کو رد کرتے ہوئے اپنی دلی تمنا کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ
’’ جبیں کو اپنی ملا دوں حرم کے زینے سے‘‘
مختصر یہ کہ کیف مبارکپوری کی نعت نگاری محض روایتی لفاظی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی وہ سچی پکار ہے جو قاری کے باطن کو منور کر دیتی ہے۔بطور نمونہ ان کے نعت پاک کے چند شعر ملاحظہ کیجیے۔
بجھے گی اب تو مری تشنگی قرینے سے
گھٹائیں آتی ہیں ساغر بکف مدینے سے
عرب کے اہل فصاحت بھی جس میں ڈوب گئے
بہا وہ علم کا دریا تمہارے سینے سے
میں کیوں نہ کعبۂ دل کا بھی احترام کروں
کہ منسلک ہے یہ کعبہ ترے مدینے سے
مبالغہ یہ نہیں کیف آرزو ہے مری
جبیں کو اپنی ملا دوں حرم کے زینے سے
صرف سہ دیو رام مبارکپوری ہی کو آلِ اطہارؑ سے محبت اور عقیدت نہیں تھی، بلکہ آپ کے والد محترم جناب منشی بلدیو رام مبارکپوری کو بھی اہلِ بیتؑ سے خالص اور بے انتہا محبت تھی۔ وہ محرم الحرام کے ایام میں، بالخصوص روزِ عاشورہ جب عزادار امام حسینؑ کے سپاہی بن کر غمِ حسین میں شریک ہوتے، تو جناب منشی بلدیو رام مبارکپوری ’’شہادت نامہ‘‘ باقاعدہ بلند آواز میں پڑھتے تھے۔ اسے سن کر تمام عزادار زار و قطار گریہ و زاری کرتے ۔ جب ’’شہادت نامہ‘‘ اختتام کو پہنچتا، تو کوئی غمگین عزادار بلند آواز میں پکارتا: ’’بولو امام صاحب کے لشکر!‘‘ جس پر تمام عزادار یک زبان ہو کر بلند آواز میں کہتے: ’’یا حسینؑ!‘‘ اور یہ روایت آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے۔

جناب سہ دیو رام کیف مبارکپوری چونکہ مدرسہ باب العلم، مبارکپور کے بے نظیر معلم اور استادِ اساتذہ علامہ و فہامہ عبدالحمید ناظرؔ شاہ مبارکپوری سے فیض یافتہ تھے (جو مکتبِ تشیع کے معتبر ترین عالمِ باعمل تھے)، اس لیے ان کا اہلِ تشیع سے گہرا تعلق رہا۔ اسی نسبت سے وہ محمدؐ و آل محمدؑ سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے اور اپنے اشعار کے ذریعے بھی اس کا کھل کر اظہار کرتے۔

حضرت امام حسینؑ کی شان میں سہ دیو رام کیف مبارکپوری کی عقیدت اور آلِ اطہارؑ کی عظمت کا بیان ان کے کلام میں تحسین آمیز تراکیب کے ساتھ بہت خوبصورت انداز میں ملتا ہے۔ دریائے جہنم سے امت کی کشتی بچانے اور حضرت شبیرؑ کی ردائے مبارک کو بادبان بننے کا ان کا استعارہ نہایت بلیغ ہے۔ یہ اشعار اس بات کے غماز ہیں کہ موصوف نے کربلا کے استعارے کو نجات اور ہدایت کا وسیلہ سمجھا۔

مجموعی طور پر ان کا یہ کلام ایک ایسے ہندو نژاد شاعر کی عکاسی کرتا ہے جس نے اپنی شاعری میں مذہبی تعصبات سے بالاتر ہو کر محبت آل رسولؑ کو اپنا سرمایہ بنایا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عشق حسینی کسی خاص خطے یا مذہب کی قید سے آزاد ہے، بلکہ یہ انسانیت اور حق پرستی کا روشن استعارہ ہے۔ مبارکپور کی تہذیبی فضا میں اس قسم کی روایات کا پروان چڑھنا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہاں علم، ادب اور باہمی احترام کو ہمیشہ مقدم رکھا گیا۔

آپ کے قصیدہ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :

تعالیٰ اللہ جب تشریف شاہ انس و جاں آئی
بہر سو ایک اک ذرہ سے آواز اذاں آئی
بچانے کشتی امت کو دریائے جہنم سے
ردائے حضرت شبیر بن کر بادباں آئی
مندرجہ ذیل قطعہ عشق اہل بیتؑ اور عقیدت حسینیؑ کی اس معراج پر فائز ہیں جہاں شاعری محض فن نہیں رہتی بلکہ روح کا سجدہ بن جاتی ہے۔ قطعہ کےاس خوبصورت شعر میں شاعرباصفا ’’کیفؔ مبارکپوری‘‘ نے رسول خداﷺ سے جس والہانہ پن اور قلبی وابستگی کا اظہار کیا ہے، وہ قاری کے دل کو وجد میں لے آجاتا ہے۔
پہلے مصرعے میں ’’باغ امامت‘‘ اور’’آخری غنچہ‘‘ کی تراکیب اتنی بلیغ اور دلنشیں ہیں کہ چشم تخیل فوراً اس نورانی گلشن رسالت کا طواف کرنے لگتی ہے جہاں ولایت و امامت کے پھول کھلے ہیں۔ جب شاعر کہتا ہے کہ ’’بہارخلد سے کہہ دو نثار ہو جائے‘‘، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنت کی تمام رونقیں اور بہاریں بھی آل رسولؑ کے اس گل سرسبد کے سامنے ہیچ ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہ عقیدت کا وہ بلند مقام ہے جہاں دنیا کی ہر نعمت اور خلد کا ہر نظارہ حقیر معلوم ہوتا ہے۔
دوسرے شعر میں کیفؔ مبارکپوری عاجزی اور انکساری کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں دست بہ دعا ہیں کہ انہیں وہ ’’زورقلم‘‘ عطا ہو کہ ان کا شمار بھی درآل محمدؑ کے ثنا خوانوں میں ہو جائے۔ یہ آرزو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ شاعر کی سب سے بڑی تمنا دنیا کا کوئی صلہ نہیں، بلکہ شہزادی کونین کی مدح سرائی کا شرف پانا ہے۔
یہ اشعار پڑھ کر دل عشقِ حسینیؑ کی حرارت اور جوش و ولولے سے جھوم اٹھتا ہےملاحظہ فرمائیں:
کھلا ہے باغ امامت میں آخری غنچہ
بہار خلد سے کہہ دو نثار ہوجائے
ہو کیفؔ کو بھی وہ زور قلم عطا مولا
کہ مدح خوانوں میں اس کا شمار ہوجائے
سہ دیورام کیفؔ مبارک پوری کا تعلق ایک معزز ہندو گھرانے سے تھا۔ موصوف نے نہ صرف دنیائے تغزل میں روایتی انداز سے ہٹ کر غزل گوئی کی اور محض گل و بلبل ہی کا تذکرہ نہیں کیا، بلکہ موصوف شاعری کے ہر صنف اور فن میں یکتا و ممتاز مقام رکھتے تھے۔ بالخصوص آلِ اطہارؑ کے فضائل میں قصائد کہنا اور بارگاہِ رسالت میں نعتِ پاک پیش کرنا آپ کا خاص وطیرہ رہا ہے۔
محاربہ عظیم یعنی کربلا سے گہرا اثر قبول کرتے ہوئے درد ناک نوحے اور منقبتیں کہنا آپ کا پاکیزہ شیوہ رہا ہے۔ آپ کا بیشتر کلام مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی منقبت اور شان میں ہے۔ امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کے مصائب سے آپ کو قلبی لگاؤ اور والہانہ عقیدت تھی۔ عشرۂ محرم الحرام میں سوگواری، ذکر شہداء، نذر و نیاز اور مجالس عزا میں شرکت کرنا آپ کا خاندانی ورثہ تھا، جسے آپ نے تاحیات پوری عقیدت کے ساتھ نبھایا۔آپ کے خاندانی پس منظر کے حوالہ سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ کے پدربزرگوار بھی ایام محرم میں انتہائی عقیدت کے ساتھ غم حسینؑ کی مجالس میں شرکت کرتے تھے، جس کی چھاپ کیفؔ مبارک پوری کی پوری شاعری اور فکر پر بے حد واضح دکھائی دیتی ہے۔
شدت پیاس سے جب خیمہ میں اصغرؑ روئے
جام ہاتھوں میں لیے ساقی کوثر روئے
یاد کر کے ترے آلام و مصائب شبیرؑ
عمر بھر شام و سحر عابد مضطر روئے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha