تحریر : مولانا ظہور مہدی مولائی، قم المقدسہ
حوزه نیوز ایجنسی | شہید امت حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کی حیات و زندگی میں ان کے نائب و جانشین کے سلسلہ میں نہ ان کی اور نہ ہی مجلس خبرگان کی طرف سے بظاہر کوئی خاص اہتمام و اقدام نظر نہیں آیا ، لیکن رہبر موصوف کی شہادت کے بعد مجلس خبرگان نے اپنے قانونی فریضہ پر عمل کرتے ہوئے متعدد تحقیقی جلسات اور وسیع و عمیق جانچ پڑتال کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے بنیادی قانون کے معین کردہ معیارات کے تحت اپنے اکثر اراکین کی موافق آراء کی بنیاد پر عالم بصیر آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای حفظہ اللہ تعالی کو انقلاب اسلامی ایران کے تیسرے رھبر و قائد کے طور پر منتخب کیا ، جو بفضل اللہ تعالی فی زمانه نہایت شائستہ طور پر اپنے سلف صالحین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس اسلامی نظام و انقلاب کی بہترین قیادت و رھبری فرما رہے ہیں۔
موجودہ رھبر معظم کی شخصیت کا اجمالی تعارف اردو زبان حضرات بالخصوص اپنے نوجوانوں تک پہنچانے کے لئے یہ مقالہ تحریر کیا جار ہا ہے۔
گر قبول افتد زھی عز و شرف
تاریخ ولادت :
اسلامی جمہوریہ ایران کے موجودہ رھبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای حفظہ اللہ تعالی 17 شہریور 1348ہجرئ شمسی مطابق 8 ستمبر 1969عیسوی کو ایران کے نہایت عظیم و مبارک شہر"مشہد مقدس" میں پیدا ہوئے۔
اس حساب سے بحمد اللہ اس وقت آپ کی عمر مبارک57 سال ہے، متع اللہ المسلمین بطول بقائہ الشریف۔
والد گرانقدر:
آپ کے والد مکرم ، عالم اسلام کی نہایت عظیم اور موثر و معتبر شخصیت رھبر شہید انقلاب اسلامی ، مرجع بصیر و ولئ فقیہ سابق حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ الشریف تھے۔
جو اپنی ذوالجہات ذات اور عظیم و عمیق افکار و خدمات کے حوالہ سے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔
والدہ مکرمہ :
آپ کی والدہ محترمہ منصورہ خجستہ باقر زادہ ہیں جو مشہد مقدس کے ایک متدین و مذھبی کاسب و تاجر جناب محمد اسماعیل صاحب کی بیٹی ہیں اور ایک دیندار و پرہیزگار ، صبور و بردبار، اور بصیر و باوقار خاتون ہیں جو ھمیشہ سرد و گرم تمام حالات میں برضا و رغبت شہید امت علیہ الرحمہ کے شانہ بشانہ رہیں۔
واضح رہے کہ امور خانہ داری کی شائستہ انجام دہی کے ساتھ اپنی اولاد کی دینی ، اخلاقی اور سیاسی لحاظ سے بہترین تربیت بھی ان کا نمایاں کارنامہ ہے۔
جد بزرگوار:
آپ کے جد بزرگوار عالم باعمل ایت اللہ سید جواد خامنہ ای طاب ثراہ تھے جنھیں مشہد مقدس میں ان کے علم و فضل ، سادہ زیستی اور پرہیزگاری کی وجہ سے بہت اعتبار و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
جدہ ماجدہ :
آپ کی جدہ ماجدہ سیدہ خدیجہ میر دامادی ، آیت اللہ سید ہاشم نجف آبادی کی دختر نیک اختر تھیں جو نہایت دیندار ، متقی ، پرہیز گار، عقیل ، فہیم ، شجاع ، عشق اھل بیت سے سرشار اور قرآن دوست خاتون تھیں۔
نسل و نسب:
آپ فرزند رسول و بتول ، سیدالشہداء حضرت امام حسین ابن علی علیہم السلام کی نسل مبارک سے تعلق رکھتے ہیں یعنی حسینی ، علوی ، فاطمی و ہاشمی سید ہیں اور آپ کا سلسلہ نسب 36 واسطوں سے سرکار شہادت و شہامت مولا امام حسین علیہ الصلوة والسلام کی عظیم المرتبت ذات تک پہنچتا ہے۔
ابتدائی تعلیم :
آپ نے اپنی ابتدائی حوزوی تعلیم تہران میں معلم اخلاق و معنویت آیت اللہ مجتہدی علیہ الرحمہ کے عظیم الشان مدرسہ میں حاصل کی ہے۔
محاذ جنگ کی طرف روانگی:
ابھی آپ اپنی مقدماتی تحصیل و تعلیم میں مشغول تھے اور آپ کی عمر فقط 17 سال تھی کہ اپنے دینی و ملی فریضہ کو محسوس کرتے ہوئے 1365 ہجرئ شمسی میں محاذجنگ کی طرف روانہ ہوگئے اور 1367 میں تقریبا دو سال تک جہادی خدمت انجام دینے کے بعد تہران پلٹ آئے۔
حوزہ علمیہ قم کی طرف ہجرت:
1368ہجری شمسی میں آپ نے اعلی حوزوی تعلیم حاصل کرنے کے لئے حوزہ علمیہ قم کا رخ کیا اور وہاں کے بہت سے ماہر و معروف علما و مجتہدین کے دروس میں شرکت فرمائی ، تقریبا 3 سال تک قم مقدس میں رہنے کے بعد بعض وجوہات کی بنا پر پھر آپ کو تہران پلتنا پڑا۔
تہران واپسی:
آپ قم مقدس سے تہران واپسی کے بعد تقریبا 5 سال تک وہاں رہے ، البتہ اس دوران حوزوی علوم و معارف کی تحصیل و تعلیم کا سلسلہ وہاں بھی آپ نے شب و روز جاری و ساری رکھا اور اس دیار میں موجود جید و متبحر علما و اساتید سے مسلسل کسب فیض کرتے رہے ، جن میں آپ کے والد علام رھبر شہید علیہ الرحمہ اور آیت اللہ العظمی محمود ہاشمی شاھرودی علیہ الرحمہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
شادی خانہ آبادی:
ابھی آپ تہران ہی میں قیام فرما تھے کہ 1371 ھجرئ شمسی میں آپ کی شادی ایران کے معروف و معتبر دانشمند ڈاکٹر غلام علی حداد عادل کی عزیز و پاکدامن بیٹی شہیدہ زھرا حداد عادل سے کردی گئی اور پھر اسی سال آپ قم مقدس پلٹ آئے۔
اہم اساتذہ کرام :
دوبارہ قم پلٹنے کے بعد آپ نے جن اہم فقہا و مجتہدین سے اعلی فقہی و اصولی تعلیم حاصل کی ہے ، ان کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں:
1۔ آیت اللہ العظمی جواد تبریزی علیہ الرحمہ
2۔ آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی دام ظلہ
3۔ ایت اللہ العظمی وحید خراسانی دام ظلہ
4۔ آیت اللہ احمدی میانجی علیہ الرحمہ
5۔ آیت اللہ مومن علیہ الرحمہ
6۔ آیت اللہ مجتبی تہرانی علیہ الرحمہ
7۔ آیت اللہ رضا استادی دامت برکاتہ
طرز تحصیل و تعلیم :
آپ نے 17 سال تک فقہ و اصول کے درس خارج میں باضابطہ مسلسل فعال شرکت فرمائی ہے ، اس طرح کہ آپ ان کی تقریرات عربی میں لکھتے تھے اور ان سے مرتبط علمی نکات کو نقد و اشکالات کے پیرایہ میں ثبت و ضبط فرماتے تھے۔
اخلاق و عرفان :
رھبرمعظم انقلاب آقا سید مجتبی حسینی خامنہ ای دامت برکاتہ فقط صاحب نظر مجتہد و فقیہ ہی نہیں بلکہ بفضلہ تعالی ایک وارستہ اہل عرفان و اخلاق بھی ہیں چونکہ آپ نے اپنے کو اعلی عرفان و اخلاق سے آراستہ کرنے کے لئے عظیم اساتید اخلاق و عرفان سے استفاضہ فرمایا ہے ، جن میں بالخصوص عارفان گرانقدر آیت اللہ العظمی رضا بہاء الدینی ، آیت اللہ العظمی محمد تقی بہجت ، آیت اللہ کشمیری اور آیت اللہ جعفر مجتہدی علیہم الرحمہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
مزید یہ کہ ولئ فقیہ عصر آقا سید مجتبی دام ظلہ الوارف کے اہل معرفت کے ہونے کے حوالہ سے آپ کی خوش دامن محترمہ ڈاکٹر طیبہ ماھرو زادہ نے شہید امت علیہ الرحمہ کا یہ فرمان بھی نقل کیا ہے کہ : مجتبیٰ ، عارف ہیں۔
درس خارج فقہ و اصول:
آپ نے رسمی و قانونی طور پر حوزہ علمیہ قم میں فقہ کا عام درس خارج 1388ہجرئ شمسی سے شروع کیا جس کا سلسلہ 1402 ہجرئ شمسی تک جاری رہا اور اصول کے عمومی درس خارج کا آغاز 1389ھ ش سے کیا اور وہ بھی 1402 ھ ش تک ہوتا رہا، جن میں طلاب و افاضل حوزہ کی ایک بڑی تعداد شرکت کرتی تھی۔
مذکورہ اعتبار سے آپ نے تقریبا 14 سال فقہ کے درس خارج اور 13 سال اصول کے درس خارج کی تدریس فرمائی ہے ، جب کہ حوزہ علمیہ کی سطوح عالیہ کا درس تو آپ بہت پہلے یعنی 1370 ھ ش سے دیتے آرہے تھے۔
سیاسی سابقہ و تجربہ:
آپ دینی ، خاندانی ، سماجی ، ملکی ، سیاسی اور حکومتی امور و معاملات میں اپنے والد بزرگوار کے معتمد ، امین اور قوت بازو تھے۔
آپ نے بچپن ہی سے اپنے گھر کو دینی ، انقلابی اور سیاسی سرگرمیوں سے معمور دیکھا ہے اور اس فضا کو باقاعدہ محسوس کر کے اسے اپنے وجود کا حصہ بنایا ہے۔
اس لئے یہ کہنا حق بجانب ہے کہ آپ دینی ، علمی ، فقہی ، اخلاقی ، تجربی اور سیاسی ہر لحاظ سے ایک ایسی عظیم اور کم نظیر شخصیت ہیں جو انقلاب اسلامی کی قیادت و رھبری کے حوالہ سے واقعا مجلس خبرگان کے شائستہ انتخاب کی حقدار ہے اور اس مجلس محترم کا حق ہے کہ اسے اس لائق و شائستہ انتخاب پر دل کی تمامتر گہرائیوں سے تحسین و تبریک پیش کی جائے۔
آخر کلام میں حسن ختام کے طور بارگاہ ایزدی میں یہ اہم دعا کرتے ہیں: اللھم انصر الاسلام والمسلمین و اخذل الکفار و المنافقین الظالمین و اھلکھم اجمعین ، و عجل لمولانا و امامنا المھدی و ولیک الفرج وارزقہ العافیہ والنصر و اجعلنا من انصارہ و شیعتہ المخلصین و اید قائدنا الخامنه ای و نھضته و حزبه و عسکره المجاهدین ، آمین رب العالمین۔
مراجع و مآخذ :
1۔ خبر گزاری تسنیم۔
2۔ خبر گزارئ مہر۔
3۔ موسسہ رسانہ ای استاد فرج نژاد









آپ کا تبصرہ