جمعرات 24 ستمبر 2026 - 14:28
مغربی میڈیا اور مہدویت دشمنی

حوزه/ظہورِ امام مہدی (عج) اور اس کے انتظار کا عقیدہ اسلام، بالخصوص مکتبِ تشیع، کے بنیادی عقائد میں شمار ہوتا ہے، اور تقریباً تمام آسمانی ادیان میں ایک منجیِ موعود کا تصور مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا، خصوصاً صہیونی اثر و رسوخ رکھنے والے میڈیا اداروں نے، اس عقیدے کو محض ایک مذہبی روایت کے طور پر نظر انداز کرنے کے بجائے اسے ایک سنجیدہ نظریاتی چیلنج کے طور پر لیا ہے۔ چنانچہ ایک منظم اور کثیر الجہتی مہم کے ذریعے، سنیما، کمپیوٹر گیمز اور انٹرنیٹ جیسے طاقتور ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے، انتظار کے احساس کو کمزور کرنے اور عقیدۂ مہدویت کو خرافات اور توہم پرستی کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے.

تحریر:مولانا احمد فاطمی

حوزه نیوز ایجنسی| یہ مقالہ مغربی میڈیا، بالخصوص ہالی ووڈ سنیما، کمپیوٹر گیمز اور انٹرنیٹ ویب سائٹس کے ذریعے مہدویت اور عقیدۂ ظہور کے خلاف چلائی جانے والی منظم مہم کا جائزہ لیتا ہے۔ مضمون میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ہالی ووڈ کی آخرالزمانی فلمیں، مثلاً "نوسٹراڈیمس کی پیش گوئیاں" اور "آرماگیڈن"، منجیِ موعود کے تصور کو مسخ کر کے ایک امریکی یا یہودی نجات دہندہ کے تصور سے بدل دیتی ہیں، اور مسلمانوں کو ضدِ مسیح کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ اسی طرح کمپیوٹر گیمز اور انٹرنیٹ ویب سائٹس (وہابی، بہائی اور آخرالزمان نواز سائٹس) بھی اسی مہم کا حصہ ہیں۔ آخر میں اس دشمنی کے مقابلے کے لیے سات عملی تجاویز اور نوجوان نسل کی ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے۔ ظہورِ امام کی اہمیت اور منتظرین کے لیے فکری و عملی تیاری کی ضرورت ان حقائق میں سے ہے جو کسی بھی منتظر منجی موعود پر پوشیدہ نہیں۔ مغربی ممالک کے عالمی ذرائع ابلاغ کی کارکردگی پر ایک سرسری نظر ہی بتا دیتی ہے کہ وہ نجات دہندہ کے عقیدے کو ایک خطرہ سمجھ کر سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ عمومی طور پر منجی پر اعتقاد کو نفی اور توہم پرستی ثابت کرنے کے لیے وسیع تخریبی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، اور خصوصی طور پر مسئلۂ مہدویت کے گرد وسیع منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ انتظار کا گہرا احساس مٹایا جا سکے، اور یہی "مہدویت دشمنی" ہے۔

اہم الفاظ

مغربی میڈیا، امام مہدی، مہدویت، مہدویت دشمنی

مقدمہ

ظہورِ امام مہدی (عج) اور اس کے انتظار کا عقیدہ اسلام، بالخصوص مکتبِ تشیع، کے بنیادی عقائد میں شمار ہوتا ہے، اور تقریباً تمام آسمانی ادیان میں ایک منجیِ موعود کا تصور مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا، خصوصاً صہیونی اثر و رسوخ رکھنے والے میڈیا اداروں نے، اس عقیدے کو محض ایک مذہبی روایت کے طور پر نظر انداز کرنے کے بجائے اسے ایک سنجیدہ نظریاتی چیلنج کے طور پر لیا ہے۔ چنانچہ ایک منظم اور کثیر الجہتی مہم کے ذریعے، سنیما، کمپیوٹر گیمز اور انٹرنیٹ جیسے طاقتور ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے، انتظار کے احساس کو کمزور کرنے اور عقیدۂ مہدویت کو خرافات اور توہم پرستی کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ مضمون اسی مہم، یعنی "مہدویت دشمنی"، کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کرتا ہے۔ سب سے پہلے ہالی ووڈ سنیما میں آخرالزمانی موضوعات کی پیشکش، اس کے پیچھے کارفرما سرمائے اور مقاصد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے بعد کمپیوٹر گیمز اور انٹرنیٹ ویب سائٹس کے ذریعے نوجوان نسل کو نشانہ بنانے کے طریقوں کو بیان کیا گیا ہے۔ آخر میں اس دشمنی کے سدباب کے لیے عملی تجاویز اور نوجوانوں کی دینی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مغربی میڈیا اور آخرالزمانی سنیما

گزشتہ دہائیوں میں ہالی ووڈ کی مہنگی اور پُرکشش پروڈکشنز کا ایک حصہ آخرالزمانی فلموں کی تیاری کے لیے مخصوص ہو گیا ہے۔ یہ موضوع ان فلم سازوں کا سہارا بنا ہے جنہیں اپنے باکس آفس کی کمائی سے غرض ہے، اور اسی مقصد کے لیے وہ بصری اثرات اور جدید سنیمائی تکنیکوں سے کام لیتے ہیں۔

ہالی ووڈ کے صہیونی منتظمین کی سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ سیاسی محرکات کے تحت فلم سازوں کے اختیار میں دیا جاتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری یہودی لابی کی فرمائش پر زیادہ تر اسلام مخالف دلکش مصنوعات کی تیاری پر خرچ ہوتی ہے۔ اس تناظر میں ہالی ووڈ کی بعض فلموں کے بھاری اخراجات پر ہمیں کبھی تعجب نہیں ہوگا۔

ہالی ووڈ سنیما میں مہدویت دشمنی سن 2000ء کے بعد شدت اختیار کر گئی۔ اس میں ہدف آخرالزمانی منجی کا موضوع نہیں بلکہ "انتظار" کا عقیدہ بنا۔ چونکہ منجیِ آخرالزمان کا تصور تقریباً تمام ادیان میں مشترک اور ناقابلِ انکار ہے، اس لیے اس عقیدے کے انکار کے بجائے ہالی ووڈ سنیما میں "تورات" اور "انجیل" کا آخرالزمانی انتظار پیش کیا گیا۔

ہالی ووڈ امریکہ کا فلمی مرکز ہونے کے ناطے سالانہ سات سو فلمیں بناتا ہے، اور دنیا کے تقریباً 78 فیصد سنیما گھر اور ٹیلی ویژن اسی سے غذا پاتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ میں ہالی ووڈ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی 60 فیصد سے زائد فلمیں آخرالزمان کے موضوع پر ہیں۔ یہودی ہالی ووڈ سنیما کے اصل بانی رہے ہیں، اور چونکہ مغرب میں موعودگرائی اپنے تمام پہلوؤں میں نہایت سنجیدہ موضوع ہے، اسی لیے مغربی مفکرین اپنی فکر کا ایک اہم حصہ اسی مسئلے پر صرف کرتے ہیں۔

صہیونیوں کی جانب سے کچھ خرافات ہالی ووڈ میں در آئی ہیں، جیسے آخرالزمان کا افسانہ اور اس سے متعلق پیش گوئیاں، جن کی جھلک "نوسٹراڈیمس"، "آرماگیڈن" اور "انڈیپنڈنس ڈے" جیسی فلموں کے مضمون میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ایسی فلموں کا سب سے اہم اثر یہ ہے کہ وہ تیسری دنیا کے ناظرین میں خود اعتمادی کا احساس ختم کر دیتی ہیں، اور ساتھ ہی "اصل مالکوں" (جو ان فلموں کے بقول امریکی اور یہودی ہیں) پر اعتماد اور ان کی اطاعت کو فروغ دیتی ہیں۔(۱)

بعض اوقات ہالی ووڈ اسلامی اقدار کو نہایت لطیف انداز میں اپنے حق میں ہتھیا لیتا ہے اور انہیں اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ صہیونیوں نے جس ایک اور خرافے کو سنیمائی قالب میں اپنے مطلب کے مطابق ڈھالا ہے وہ منجی کے ظہور اور سرزمینِ موعود کی جانب سفر کا مسئلہ ہے۔ لیکن ایسی فلموں کا منجی وہ منجی نہیں جس کا انتظار بشریت کر رہی ہے۔(۲)

حالیہ برسوں میں، اور تیسری ہزاری کے آغاز کے بعد، بننے والی فلموں کی بڑی تعداد یا تو صہیونیوں کے آخرالزمانی عقائد کی تبلیغ کرتی ہے یا لوگوں کو ایک اور موعود سے ڈراتی ہے۔ یہ وہ موعود ہے جو اذنِ خداوندی سے تمام جنگ، قتل و غارت، خونریزی اور نام نہاد صہیونی "آرماگیڈن" کے مقابل کھڑا ہوگا۔

ہالی ووڈ کی فلموں میں کسی نہ کسی طرح دجال (ضدِ مسیح) کو مسلمانوں کے منجی کے طور پر دکھایا جاتا ہے، اور پھر اس شیطان کے مقابل ایک نجات دہندہ کو متعارف کرانا ضروری ٹھہرتا ہے۔ ہالی ووڈ کی فلموں میں زمین کا یہ نجات دہندہ، جسے کسی نہ کسی طرح انسانوں کا روحانی باپ بھی بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ایک امریکی یا ایک یہودی ہوتا ہے۔

امریکہ اپنی فلموں میں انسان کا تاریک اور خونی مستقبل دکھا کر خود کو بشریت کے آئندہ نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ آخرالزمان کو دنیا کے سامنے اس صورت میں رکھنا چاہتے ہیں کہ خیر و شر کی جنگ زمین کے ایک مخصوص جغرافیے میں برپا ہوگی۔

مہدویت کے حوالے سے ہالی ووڈ کی چند چیلنج خیز فلموں میں سے ایک "نوسٹراڈیمس کی پیش گوئیاں"(۳) ہے، جو چھبیس سال پہلے بنی تھی۔ یہ فلم دجال (ضدِ مسیح) کو ایسے شخص کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے جو اسلامی مشرق سے ظاہر ہوا، اسلامی لباس پہنتا ہے اور ایٹمی ہتھیار کے ساتھ دنیا کی تباہی کے ارادے سے امریکہ جاتا ہے۔ مگر امریکی صدر کی دانش مندی اور ذاتی انتظام سے وہ نابود ہو جاتا ہے۔

"آرماگیڈن"(۴) ہالی ووڈ کی ایک اور پیداوار ہے جو مسیح اور منجی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس میں امریکی تیل کمپنیوں کے ٹیکنیشن زمین کو بچانے آتے ہیں، جبکہ اسلامی ممالک انتہائی پسماندگی کے عالم میں ریاستہائے متحدہ کی مدد کے منتظر رہتے ہیں۔

آخرالزمان اور دنیا کے بحران کی طرف اشارہ کرنے والی فلموں میں "آرماگیڈن" کے نام سے فلموں کا ایک سلسلہ بھی ہے جو 1932ء سے 2005ء تک بنا۔ یہ فلمیں صہیونیوں کی سرگرمیوں اور پروٹسٹنٹ مسیحیت — جو صہیونی حمایت یافتہ ہے — کی بنیاد پرستی کی عکاس ہیں۔ درحقیقت "آرماگیڈن" آخرالزمانی جنگ کا نام ہے، یعنی حضرت مسیح (ع) کے ظہور اور دوسری بار واپسی، اور آرماگیڈن کے مقام (موجودہ بیت المقدس) پر ایٹمی جنگ کے چھڑنے کا نام، جو دنیا کے اکثر شہروں کی تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ خیر و شر کی تقدیر اور بشر کا انجام اسی آخری جنگ میں طے ہوتا ہے، جس میں مغرب اور اسرائیل کو خیر کی علامت اور مسلمانوں اور عربوں کو شر کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔(۵)

مغربی میڈیا کے حربے

مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ہالی ووڈ سنیما درج ذیل طریقوں سے اسلام دشمنی اور موعود دشمنی کے درپے ہے:

۱۔ کسی امریکی یا یہودی کو منجیِ آخرالزمان کے طور پر پیش کرنا؛

۲۔ مسلمانوں کو ضدِ مسیح اور ضدِ منجی کے طور پر دکھانا؛

۳۔ مغربی تمدن اور مغربی منجی کی حتمی فتح اور "شیطان صفت" مسلمانوں کی یقینی شکست کا تاثر دینا؛

۴۔ مادہ پرستانہ اقدار، جیسے جنسی بے راہ روی، تشدد اور جادوگری کو فروغ دے کر ثقافتی یلغار اور مسلمانوں کا مقابلہ کرنا؛

۵۔ اسلام کو ٹیکنالوجی اور ترقی کا مخالف ظاہر کرنا؛

۶۔ یہودیوں اور ان کے قوانین کو ہر میدان میں برتر دکھانا اور اسلام و مسیحیت کی تحقیر کرنا۔

بلاشبہ مغربی دنیا سنیما کے ذریعے آخرالزمان کے مفہوم کی تحقیر و تخریب اور عوامی اذہان کو آخرالزمان کی مغربی تفسیر قبول کرنے کے لیے تیار کرنے کے درپے ہے۔

کمپیوٹر گیمز اور انٹرنیٹ: مہدوی ثقافت کی تخریب کے ذرائع

ایک زمانہ تھا جب گیم کلبوں کی ایک مخصوص حیثیت تھی اور محدود لوگ ہی وہاں جاتے تھے۔ آج کمپیوٹر گھروں کے اندر ہے اور موبائل فون وغیرہ ایسے ذرائع ہیں جو لمحہ بھر بھی انسان کو تنہا نہیں چھوڑتے۔ گیمز بظاہر ایک تفریح ہیں، لیکن ان کی علامات، مواد اور پیغامات پر غور کیا جائے تو اس خطرے کا اندازہ ہو جاتا ہے جو ان کے ذریعے، براہِ راست یا بالواسطہ، افراد تک منتقل ہوتا ہے۔

آج دنیا کے لوگوں کی بڑی تعداد، بچے ہوں یا نوجوان، طرح طرح کے کمپیوٹر گیمز میں مشغول ہے۔ یہ مصنوعات بھی دیگر فنی و ثقافتی آثار کی طرح مغرب کی نجات دہندگی اور برتری کا پیغام دیتی ہیں، اور دوسروں کی بے شناختی، توہم پرستی، تشدد اور وحشی پن کا تاثر پھیلاتی ہیں۔

گیمز میں منجیِ موعود وہ نہیں ہوتا جسے شیعہ "مہدی"، مسیحی "یسوع مسیح"، زرتشتی "سوشیانت" اور دیگر اقوام دوسرے ناموں سے پکارتی ہیں۔ بہت سے کمپیوٹر گیمز ثقافت کی تخریب کے مقصد سے، مغربی ثقافتی مصنوعات کے قالب میں، مغرب کے اس آرمان کی تکمیل کے لیے کہ اسلام پر مغرب کا تسلط ہو، مسلم ممالک کی منڈیوں تک پہنچائے گئے ہیں۔ یہ ایسی مصنوعات ہیں جنہیں استعمال کرنے کے بعد انسان اپنی شناخت اور ثقافت سے بیزار ہو جاتا ہے۔ ان گیمز کا ہدف زیادہ تر عالمِ اسلام کا سماجی سرمایہ ہے۔

رہبرِ شہید آیت اللہ خامنہ ایؒ فرماتے ہیں: کمپیوٹر گیمز طاقتور اور پُرکشش مجازی شوالیوں (نائٹس) میں بدل گئے ہیں، جو ثقافتی ناٹو اور مغرب کی صلیبی جنگ کا حصہ ہیں، اور انقلابِ اسلامی اور عالمِ اسلام کی اقدار و معیارات کو بتدریج تباہ اور تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ کمپیوٹری شوالیے نئی صدی کی صلیبی جنگوں میں بغیر کسی حساسیت کے ہمارے گھروں کی گہرائی تک پہنچ گئے ہیں، اور ہم بے خبری میں کھلی بانہوں سے ان کا استقبال کرتے ہیں اور ان پر خرچ بھی کرتے ہیں۔

بعض کمپیوٹر گیمز صہیونی اور امریکی مواد کے ساتھ ڈیزائن کیے گئے ہیں، اور ان کی شکل، ہیئت اور مواد میں اسلام دشمنی اور مہدی دشمنی موجزن ہے۔ بچے تشدد بھرے گیمز کی کشمکش میں مقدس ناموں والے ہیڈ بینڈ پہنے مسلمانوں پر گولیاں چلاتے ہیں اور اگلے مراحل تک پہنچتے ہیں۔

تل ابیب کانفرنس(۶) (۱۳۶۵ ہجری شمسی) کے بعد "یا مہدی" نام کا ایک کمپیوٹر گیم بنایا گیا، جس کا اصل نام Persian Gulf Inferno (خلیج فارس کا جہنم) ہے۔ اس میں بچہ اس طرح مشروط ہو جاتا ہے کہ "اللہ اکبر" اور "یا مہدی" سنتے ہی فائرنگ کرتا ہے، اور یوں بچے کی روح میں ان دو الفاظ سے نفرت کا بیج بو دیا جاتا ہے تاکہ ایک دن استکبار اس کی فصل سے فائدہ اٹھا سکے۔(۷)

آخرالزمانی کمپیوٹر گیمز کی درجہ بندی

الف) ٹیکنالوجیکل آخرالزمان کی تلقین: ایک بہادر منجی "میٹرکس"(۸) گیم کی صورت میں پیش کیا گیا ہے (فلم میٹرکس کے لیے Enter The Matrix)۔ اس گیم میں کھلاڑی "زایون" (Zion) نامی مثالی شہر کے ایک گروہ کے ساتھ دنیا کو انسان نما مخلوق کے ہاتھوں سے بچانے کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔(۹)

ب) تخیلاتی آخرالزمان کی تلقین: اس میں نامعلوم خلائی مخلوقات زمین اور نسلِ انسانی کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں، اور اس بار ایک نہایت دانا منجی، ماورائی انسانی طاقت کے ساتھ، ان مخلوقات سے لڑتا ہے۔ مثال کے طور پر گیم "سام ماجراجو" میں کھلاڑی منجی کے طور پر "سام اسٹون" کے کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔ سام اپنی غیر معمولی شجاعت کی بدولت ایک دیومالائی ہیرو بن جاتا ہے اور ٹائم مشین کے ذریعے ماضی میں لوٹتا ہے تاکہ ان باغیوں کے خلاف جنگ کو بشریت کے حق میں ختم کر دے۔

ج) دینی آخرالزمان کی تلقین: اس قسم میں شیطان صفت انسان دہشت گرد گروہوں کی شکل میں اقتدار پر قبضے اور تمام پاک اور الٰہی عناصر کی نابودی کے درپے ہوتے ہیں۔ کھلاڑی اس گیم میں ایک ماہر اور باایمان جاسوس، یا ماہر اور راسخ العقیدہ سپاہیوں (عموماً امریکی اور برطانوی فوج کے) کے روپ میں عالمی امن کی پولیس بن کر انسانیت کے دشمنوں سے لڑتا ہے۔ "اسلحۂ مرگبار"، "گروہِ ضربت" اور "قلعۂ وولفن اشٹائن کی واپسی" جیسے گیمز اسی قسم سے ہیں۔ اسی طرح گیم "ڈیلٹا فورس"(۱۰) (Delta Force) میں دشمن کو عربی اور کبھی فارسی چہرے کے ساتھ دکھایا جاتا ہے، جو "حاجی، ایک آ رہا ہے" جیسے جملے بولتا ہے، اور دشمن کے صندوقوں پر "لا الہ الا اللہ" اور "محمد رسول اللہ" جیسی اسلامی علامات اور آستانِ قدس رضوی کے نشان سے مشابہ نشان بنے ہوتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے بچے اور نوجوان شوق سے ان گیمز کے زیرِ اثر آ جاتے ہیں۔(۱۱)

ان باتوں کے بعد کمپیوٹر گیمز کو محض بچوں کی تفریح کا دلکش ذریعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ انہیں اسلامی فکر کے دشمنوں کی نگاہ سے دیکھا جائے، اور قومی و مذہبی وسائل کی گہرائی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے گیمز کے مناسب متبادل تیار کر کے ان کا مقابلہ کیا جائے۔

انٹرنیٹ ویب سائٹس

مہدوی ثقافت کے مقابلے اور اس میں چیلنج پیدا کرنے کے دشمنی کے طریقوں میں سے ایک انٹرنیٹ اور ویب کے میدان سے فائدہ اٹھانا ہے۔ ویب سائٹس دو طرح سے صحیح مہدوی ثقافت کے خلاف موقف اختیار کرتی ہیں اور مواد لکھتی ہیں۔

بالواسطہ مقابلے سے مراد اسلام اور مکتب قرآن و اہل بیت علیہم السلام کے اصول و بنیادوں کی نفی کے ذریعے مہدوی ثقافت کا مقابلہ ہے، جو درحقیقت اس فکر کی پشت پناہ اور اسے مستحکم کرنے والی ہیں۔ شیعہ مخالف اور گمراہ فرقوں کی ویب سائٹس اس کی مثال ہیں۔

براہِ راست مقابلہ اس مقابلے کو کہتے ہیں جس کا ہدف براہِ راست مہدوی فکر کی مخالفت ہو۔ ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ میں پوری دنیا میں سب سے زیادہ اثر انگیز اور ہر گھر میں آسانی سے دستیاب ذریعہ انٹرنیٹ ہے۔ دشمنوں کے مجازی حملے سمجھی جانے والی ویب سائٹس میں سے درج ذیل کا ذکر کیا جا سکتا ہے:

۱۔ وہابی ناصبیت کی ویب سائٹس: وہابیت کو حاصل وسیع سیاسی حمایت کے باعث وہ اصیل شیعہ ثقافت پر سب سے زیادہ یلغار کرتی ہے۔ مہدویت کے چیلنج کے سلسلے میں مہدویت سے متعلق شبہات بڑی تعداد میں، کتاب، رسالے اور سی ڈی وغیرہ کی صورت میں، وہابیوں کی جانب سے شیعہ نشین علاقوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔

۲۔ بہائیت کی ویب سائٹس: بہائیت، جس کی تشکیل کی تاریخ تقریباً ڈیڑھ سو سال ہے، انگلستان، اسرائیل اور صہیونیوں کی مدد سے مادی اور تبلیغاتی اعتبار سے بہت ترقی کر چکی ہے۔ بہائیت کی جڑ مہدویت کی تعلیم کے غلط برداشت میں ہے۔ اسی لیے مہدوی فکر کے مقابل ان کے حملوں کے نمونے ان ویب سائٹس پر شائع ہوتے رہتے ہیں۔

۳۔ مہدویت کے بارے میں غلط افکار پیش کرنے والی ویب سائٹس: یہ سائٹس دانستہ یا نادانستہ مہدوی ثقافت کے بارے میں اپنی غلط سمجھ کو رواج دیتی ہیں اور اس راہ میں شیعوں کی مہدی (عج) سے وابستگی سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ان میں سے ایک قسم وہ ہے جو حضرت سے رابطے کے غلط افکار و طریقوں اور ملاقاتوں، مشاہدات، کرامات، خوابوں اور دیگر امور کی وسیع تبلیغ پر مشتمل ہوتی ہے۔ صحیح عقیدتی پشت پناہی نہ ہونے کی صورت میں ان تصورات کے تخریبی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری قسم ان سائٹس کی ہے جو حدیثی اور علمی تخصصی بحثوں کے بغیر موجودہ حالات کو ظہور کے وقت کے حالات پر منطبق کرتی ہیں اور ظہور کے لیے وقت مقرر کر دیتی ہیں۔

"آرماگیڈن نیوز" جیسی سائٹس ہر روز درجنوں صفحات پر مشتمل خبریں آخرالزمان کے بارے میں پیش کرتی ہیں، جو مکمل طور پر اجنبی خبریں ہوتی ہیں۔ اس سائٹ کی ایک ٹیم کا کام دنیا کے مختلف واقعات پر نظر رکھ کر انہیں آخرالزمان کے واقعات سے جوڑنا ہے۔ "آرماگیڈن الرٹ" (آخرالزمان کی وارننگ) تو اس سے بھی کہیں زیادہ انتہا پسند ہے، جو اپنی خبریں اس طرح شائع کرتی ہے گویا کل ہی آخرالزمان ہے اور حضرت مسیح (ع) کے ظہور کا وقت آ پہنچا ہے۔

ان سائٹس کو صہیونی اور مغربی مہدویت دشمنوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

ان مجازی حملوں کے مقابلے کا ایک مؤثر طریقہ دینی عقائد و باورات کو مضبوط کرنا ہے، بالخصوص ولایت اور مہدویت کے بارے میں، اور مہدویت کی تعلیم کی وضاحت کے لیے جامع، متحرک، تازہ ترین اور کثیر لسانی ویب سائٹس بنانا بھی مؤثر ہے۔

مہدویت دشمنی کے مقابلے کے مجوزہ راہ حل

استکباری فکر، جو غیبت اور ظہور دونوں ادوار میں امام سے دشمنی اور مخالفت کا اہم ترین سبب ہے، اس کے مقابل ضروری ہے کہ دشمن کے اہداف اور طریقوں کی شناخت کی جائے، افراد اور معاشروں کو اس سے آگاہ کیا جائے، اور دشمن کی سازشوں اور سرگرمیوں کے سامنے مزاحمت اور مقابلہ کیا جائے۔

اصلاح، وضاحت اور اعتماد سازی کے ذریعے دشمن کے تخریبی حربے کو ناکام بنانا چاہیے، اور روشن گری اور خرافات کے خاتمے کے ساتھ لوگوں کے ایمان و اعتقادات کو گہرا کرنے کے لیے قدم اٹھانا چاہیے تاکہ تحریف کی سازش جڑ سے اکھاڑ دی جائے۔

اہلِ علم، اہلِ فکر اور اہلِ استدلال مخاطبین کی علمی محفل میں اصلِ مہدویت کو ثابت کرنا آسان ترین کاموں میں سے ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ عوام کا ایمان و اعتقاد بھی اچھی چیز ہے، لیکن لوگوں کو امامِ زمانہ (ع) پر جو ایمان ہے اسے گہرا کرنا نہایت نازک کام ہے۔ مہدویت کے تخصصی مراکز کے قیام کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ لوگ فطری طور پر حضرت سے جو عشق، محبت اور سوز و گداز رکھتے ہیں، اسے عمومی سطح پر اور خصوصاً نوجوانوں میں عالمانہ اور آگاہانہ نگاہ کے ساتھ جوڑا جائے۔

ایک مناسب راہ حل یہ ہے کہ انحرافی فرقوں اور دھاروں کو متعارف کرایا جائے، لبرل ڈیموکریسی جیسے نظاموں کی کمزوریاں اور نقائص بیان کیے جائیں، روایات کے مطابق حکمتِ عملی پیش کر کے دوسری حکمتِ عملیوں کے مقابل قدم اٹھایا جائے، اور مہدوی فکر کو گہرا کرنے اور واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔ مہدوی ثقافت کے فروغ اور تفہیم کے اہم طریقوں میں درج ذیل قابلِ ذکر ہیں:

۱۔ مہدویت کے بارے میں نظریہ سازی

مہدویت کی دینی تعلیمات وسیع دامن اور تاریخی پس منظر رکھتی ہیں، مسلمانوں کے بنیادی ترین عقائد میں شمار ہوتی ہیں، اور دیگر ادیان میں بھی "مصلحِ عالم" کے عنوان سے توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ ادیان کے درمیان مصلحِ عالم کے موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ اہلِ فکر نظریہ پردازی، مکالموں، تنقیدوں، آراء، نکتہ سنجیوں اور گہرے اظہارِ خیال کے ذریعے تعلیمِ مہدویت کے بارے میں ادیان کے درمیان اس موضوع کی عملی قوت میں اضافہ کریں۔

مہدویت کی بحث کو روایتی میدانوں سے نکال کر علمی تحقیقی ماحول میں لانے سے مسئلۂ مہدویت انسانوں کی زندگی پر اثر ڈالتا ہے اور انہیں امامِ عصر (عج) سے جوڑتا ہے۔

۲۔ امام مہدی (عج) کی شخصیت اور مہدوی زمانے کے مخلتف پہلوؤں کو واضح کرنا

انسائیکلوپیڈیا، علمی لغات، مقالے اور تحصیلی رسالے لکھنا، مضبوط ویب سائٹس بنانا، تخصصی جرائد، فلم سازی اور ادبی و فنی آثار کی اشاعت اس سلسلے میں چارہ ساز ہے۔ مہدویت کے نظریے کو ناول، فلم، ڈرامے اور فنی آثار کی صورت میں عالمی سطح پر فروغ دینا مناسب ہے۔

۳۔ مہدوی ثقافت اور مفہومِ انتظار کی ترویج

اس سلسلے میں اعتقادی کتب اور اہم اسلامی مصادر میں موجود روایات اور تاریخی اقوال کا جائزہ لینا اور ان کی وضاحت کرنا مفید ثابت ہوگا۔

مہدویت کے موضوع کی غلط پیشکش لوگوں کے مسئلۂ مہدویت سے گریز، یا امامِ عصر (عج) پر گہرا اعتقاد نہ رکھنے کے مؤثر اسباب میں سے ہے۔ امام مہدی (عج) کی آسمانی شخصیت کے بارے میں بعض غلط اور بے بنیاد باتوں کے باعث ان کی ایک غیر حقیقی اور دیومالائی تصویر بن گئی ہے۔ لہٰذا کوشش کی جانی چاہیے کہ روایات کے تطبیقی جائزے اور ان میں دقتِ نظر کے ذریعے امامِ عصر (ع) کی ایک معقول، مہربان اور عصرِ حاضر سے ہم آہنگ تصویر پیش کی جائے۔

۴۔ مہدوی ثقافت کی توسیع

اس راہ میں حوزہ اور یونیورسٹی میں "مہدی شناسی" ڈپارٹمنٹ کا قیام راہ کشا قدم ہو سکتا ہے۔ دنیا کی تمام جامعات میں بڑے مفکرین کے افکار کو سمجھنے کے لیے تدریس و تحقیق کی کرسیاں موجود ہیں، اور بعض اساتذہ کی تخصص صرف ایک مفکر کے افکار کی تدریس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بعض اساتذہ ارسطو کے افکار پڑھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ہمارے عزیز اسلامی ملک میں بھی بہتر ہے کہ ائمۂ اطہار (ع) میں سے ہر ایک کے لیے، بشمول امام مہدی (ع)، امام شناسی اور مہدی شناسی کی کرسی قائم کی جائے اور ایسے افراد تربیت پائیں جو ہدایت و وحی کے بزرگوں کے بارے میں صاحبِ نظر ہوں۔

۵۔ دشمن کی شناخت، اور مہدویت دشمنوں کے مقابل فکری تیاری و دفاع کی ضرورت

مفہومِ مہدویت اور اسلام کے مقابل دشمنوں اور معاندین کے وجود کو پہچاننے اور مہدوی ثقافت کی تخریب کے لیے ان کی سرگرمیوں اور کوششوں سے آگاہ ہونے کے بعد، عقل اور دینِ اسلام کی رو سے جو چیز لازم اور حقیقی ہے وہ دشمن کی شناخت اور اس کے مقابلے کے لیے تیاری اور دفاع ہے۔ چنانچہ تمام انسانوں میں امام کی ضرورت کا شعور اور بیداری پیدا کرنے کے لیے پہلے کارآمد ذرائع سے امام کی ضرورت اور ان کی بے مثالی کی وضاحت کرنی چاہیے، اور دوسرے یہ کہ بشریت کی نجات کا دعویٰ کرنے والے دھاروں اور نظاموں کا تنقیدی جائزہ حکومتِ طیبۂ مہدوی کی قبولیت کے لیے مزید زمین ہموار کرتا ہے۔(۱۲)

۶۔ اسلام اور مہدویت دشمنوں کی حقیقت و ماہیت سے مومنین خصوصاً جوانوں کو آگاہ اور بیدار کرنا

دشمن کی ماہیت، اس کے طریقوں اور اہداف کی شناخت کے بعد ضروری ہے کہ مہدویت کے معارف کو خرافات پرستی اور بدعت گزاری سے دور رکھ کر، اور مسلمانوں کی عالمی اور عصری زبان میں پیش کر کے، مسلمانوں کو مہدویت کی حقیقت اور ماہیت سے آگاہ کیا جائے۔

۷۔ اہلِ فکر کا معاد پر یقین اور مخلصانہ عمل

معاد کے عقیدے پر تکیہ کر کے اور دوسری دنیا میں بشریت کے تسلسل پر توجہ رکھتے ہوئے دجال اور دجالوں کے فتنوں اور فساد انگیزیوں سے بے نیاز ہو کر راہ طے کی جا سکتی ہے اور خدا پرستوں اور مہدی کے یاوروں کے لشکر تک پہنچا جا سکتا ہے۔

نوجوان نسل میں مہدویت اور انتظار کے عقائد کو مضبوط کرنا، اور امتوں، خصوصاً نوجوان نسل، کو مہدوی ثقافتِ عالیہ کے آرمانوں، اقدار اور بنیادی باورات سے روشناس کرانا، منجیِ موعود کی سراپا عدل حکومت کے قیام کی زمینہ سازی کرے گا۔

نوجوانوں کی ذمہ داری

غیبت و انتظار کے دور میں نوجوانوں کی حساس اور عظیم ذمہ داری کا ایک بڑا پہلو دین کی حفاظت، عقیدتی سرحدوں کی نگہبانی اور مقدس اعتقادات کی پاسداری ہے۔ حضرت ولیِ عصر (عج) کی غیبت کے زمانے میں ممکن ہے ذہنوں میں شبہات پیدا ہوں، یا کچھ عوامل نوجوانوں کی اعتقادی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ ان شبہات کے مقابل ڈٹ جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں نوجوان دینی کتب کے مطالعے، مذہبی مجالس میں شرکت، اسلامی مفاہیم سے زیادہ آشنائی اور اصیل اسلامی و دینی اقدار کی شناخت و تحقیق کے ذریعے خود کو دشمنانِ دین کی یلغار سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

مومن نوجوانوں کی سب سے بھاری ذمہ داری حفاظتِ دین میں یہ ہے کہ وہ اہلِ بیت (ع) اور ان کی سیرت سے تمسک اختیار کریں اور دقیق مطالعے اور منطقی و عاقلانہ جائزے کے ذریعے حقیقتِ مہدوی تک پہنچیں تاکہ دینی اور اعتقادی لغزشوں سے محفوظ رہیں۔ ائمہ (ع) کی احادیث و تعلیمات میں اس پر تاکید کی گئی ہے کہ غیبت کے دور میں ائمہ کی راہ پر چلا جائے اور ان کی تعلیمات و احکام کی پیروی کی جائے۔ اس دور میں انبیاء کی تعلیمات کو نمونہ بنا کر اور ان سے سبق لے کر نوجوان اپنی دینداری اور دین باوری کے پہلو کو مضبوط اور بلند کر سکتے ہیں اور حضرت کے حقیقی منتظرین کے طور پر اپنی آمادگی کا اعلان کر سکتے ہیں۔

بلاشبہ کم سن بچوں اور نوجوانوں کی تربیت میں والدین اور خاندان کا کردار بنیادی اور اہم ہے، کیونکہ بچے والدین اور خاندان کے بزرگوں کے اعتقادات، باورات، اقدار، ایمان اور تربیت کا مکمل آئینہ ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر فکرِ مہدویت کو نہادینہ کرنے کے اہم طریقوں میں سے ایک والدین کا رفتار و کردار ہے، جس کا اثر گفتار سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ نوجوان جو یہ جانتے ہوں کہ حضرت مہدی (عج) سے محبت اور ان کا منتظر رہنا، ان کی رکاب میں شہادت کا ثواب اور بہت سی فضیلتیں رکھتا ہے، ان کے اندر امام کا رشتہ اور محبت راسخ ہو جاتی ہے اور ان کے مہدوی عقائد مضبوط ہوتے ہیں۔

مختلف تعلیمی مراحل اور جامعات کے اساتذہ اور معلمین کا کردار بھی مہدوی ثقافت کے فروغ میں مؤثر رہا ہے۔ اگر انہیں امام مہدی (عج) کی معرفت حاصل ہو اور وہ اس شناخت کو نوجوانوں اور نوعمروں میں منتقل کر سکیں تو اس میدان میں اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

محققین کی جمع کردہ معلومات کے مطابق قرآن میں حضرت حجت (عج) کے بارے میں دو سو سے زائد آیات موجود ہیں۔ بعض آیات براہِ راست امامِ عصر (عج) اور ان سے متعلق موضوعات پر دلالت کرتی ہیں۔ ان آیات سے آشنائی ہمیں امامِ عصر (عج) کے انصار کے اوصاف و خصوصیات، امامِ زمانہ (عج) کی شخصی خصوصیات اور حضرت سے متعلق دیگر امور سے مانوس کر سکتی ہے، اور بشریت کے اس منجی کے ظہور کی زمین جلد ہموار کر سکتی ہے، اور نوجوان نسل کو "مہدی باور، مہدی یاور" یعنی مہدویت پر ایمان اور امامِ عصر (عج) کی نصرت کے طور پر سامنے لا سکتی ہے۔

یہ چند مجوزہ راہ حل ہیں، ان کے علاوہ بھی یقیناً اہلِ علم و متخصص افراد کی نگاہ میں مزید حل موجود ہوں گے۔ مہدویت پر ایمان کو مضبوط کرنے اور ظہور کے بعد امام مہدی (عج) کی رکاب میں فداکاری کے لیے نسلِ مہدوی کی تربیت کا علمی راہ حل یہ ہے کہ ہمارے نوجوان نشاط، امید اور اقتدار کے ساتھ جسمانی طاقت، فوجی اور نفسیاتی آمادگی حاصل کریں تاکہ حضرت بقیۃ اللہ (عج) کی مدد کر سکیں اور حضرت کے مقدس آرمانوں اور اہداف کی راہ میں آگے بڑھیں۔

نتیجہ

مغربی میڈیا، بالخصوص ہالی ووڈ سنیما، کمپیوٹر گیمز اور انٹرنیٹ، محض تفریح کے ذرائع نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ثقافتی و نظریاتی مہم کا حصہ ہیں جو عقیدۂ مہدویت اور انتظار کے احساس کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ منجیِ موعود کے تصور کو مسخ کر کے اسے مغربی یا صہیونی مفادات سے ہم آہنگ کرنا، مسلمانوں کو منفی کردار میں پیش کرنا، اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا اس مہم کے بنیادی مقاصد ہیں۔

اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے محض دفاعی رویہ کافی نہیں، بلکہ علمی، تحقیقی اور تبلیغی سطح پر فعال کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ مہدویت پر نظریہ سازی، امام مہدی (عج) کی شخصیت کو معقول اور روزآمد انداز میں پیش کرنا، تخصصی مراکز اور کرسیوں کا قیام، دشمن کی شناخت اور اس کے مقابل فکری تیاری، اور سب سے بڑھ کر نوجوان نسل کی دینی و اعتقادی تربیت — یہ وہ راستے ہیں جن کے ذریعے اس ثقافتی یلغار کا مؤثر جواب دیا جا سکتا ہے۔ بالآخر، والدین، اساتذہ اور دینی اداروں کی مشترکہ کوشش ہی وہ نسل تیار کر سکتی ہے جو حقیقی معنوں میں منتظرِ امامِ زمانہ (عج) ہو اور ظہور کے وقت آپ کی نصرت کے لیے تیار ہو۔

حوالہ جات

۱۔ "استراتیجی دشمنانِ در جنگ علیہ امامِ زمانہ (ع)"، مجتبیٰ الساده، (۱۳۸۷ش)، ترجمہ: سید شاہ پور حسینی، ماہنامہ موعود، شمارہ ۹۴۔

۲۔ "تہاجم یا تفاوتِ فرہنگی"، حسن بلخاری، (۱۳۷۸ش)، تہران: نشر حسن افرا۔

۳۔ "تاریخِ عصرِ غیبت"، مسعود پورسیدآقایی، (۱۳۸۰ش)، جلد ۲۹، تہران: نشر مؤسسہ انتشاراتِ حضور۔

۴۔ "بازی ہای رایانہ ای از جنسِ آخرالزمان"، مہدی حق وردی، (۱۳۸۷ش)، ماہنامہ موعودِ عصر، شمارہ ۸۷۔

۵۔ دائرۃ المعارف بریٹانیکا، مادّہ "مہدی" و "اسلام" و "زرتشت"؛ دائرۃ المعارفِ دین و اخلاص، مادّہ "مہدی"؛ موسوعۃ المورد منیر بعلبکی۔

۶۔ اسماعیل شفیعی سروستانی، حسن بلخاری، علی کورانی، (۱۳۸۲ش)، "پیش گویی ہای آخرالزمان" (مجموعۂ مقالات)، تہران: نشر موعودِ عصر۔

۷۔ "غرب و آخرالزمان"، اسماعیل شفیعی سروستانی، (۱۳۹۰ش)، تہران: نشر ہلال۔

۸۔ "آخرالزمان در مذاہبِ غربِ بریٹانیکا"، مرتضیٰ دہقان، (۱۳۷۹ش)، دکترینِ مہدویت۔

۹۔ "تصویرِ منجی در رسانہ ہای غربی"، مجید شاہ حسینی، (۱۳۸۴ش)، تہران: نشر موعودِ عصر۔

۱۰۔ "ہالی ووڈ و فرجامِ جہان"، سید ابوالحسن علوی طباطبائی، (۱۳۸۷ش)، تہران: نشر ہلال۔

۱۱۔ "اسطورہ ہای صہیونیستیِ سینما"، محمد حسین فرج نژاد، (۱۳۸۷ش)، تہران: نشر ہلال۔

۱۲۔ "نقشِ ہالی ووڈ در اسلام ستیزی"، علی قاسمی، (۱۳۹۰ش)، تہران: فصل نامۂ مطالعاتِ سیاسی، سالِ چہارم، شمارہ ۱۷۔

۱۳۔ "صہیونیسمِ مسیحی و انگارۂ موعودگرایی"، محسن قنبری آلانق، (۱۳۸۸ش)، قم: نشر مؤسسۂ آموزشیِ امام خمینی (رہ)۔

۱۴۔ "مسیح و فرجامِ جہان (مسیحیتِ سیاسی و اصول گراییِ آمریکا)"، رضا ہلال، (۱۳۸۳ش)، ترجمہ: قیس زعفران، تہران: نشر ہلال۔

۱۵۔ "پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن" (پروتکل ہای دانشوران صہیون)، نویہض عجّاج، (۱۳۸۱ش)، ترجمہ: حمیدرضا شیخی، مشہد: نشر آستانِ قدس۔

۱۶۔ "زرسالارانِ یہودی و پارسیِ استعمارِ برطانیہ و ایران"، عبداللہ شہبازی، (۱۳۷۹ش)، جلد ۳، تہران: انتشاراتِ مؤسسۂ مطالعات و پژوہش ہای سیاسی۔

۱۷۔ "مثلثِ مقدس"، اسماعیل شفیعی سروستانی، (۱۳۸۸ش)، تہران: نشر ہلال۔

۱۸۔ "غرب شناسی"، سید احمد رہنمایی، (۱۳۸۲ش)، تہران: نشر صدف۔

۱۹۔ "مہدی آن گونہ کہ غرب معرفی می کند"، زہیر دہقان آرانی، (۱۳۹۱ش)، قم: دو ماہنامۂ امان، شمارہ ۳۶۔

۲۰۔ "آخرالزمان و آیندہ نگریِ سینمایی"، امین خندقی، (۱۳۹۱ش)، قم: انتشاراتِ مؤسسۂ فرہنگیِ ولاء منظر۔

۲۱۔ "مہدی انکاری، انتظارستیزی"، محمد صابر جعفری، (۱۳۸۱ش)، تہران: نشر انتظارِ موعود۔

۲۲۔ "اندیشۂ نوینِ اسلامی در رویارویی با استعمارِ غرب"، محمد بہی، (۱۳۷۷ش)، مشہد: نشر آستانِ قدسِ رضوی۔

۲۳۔ "عملکردِ صہیونیسم نسبت بہ جہانِ اسلام"، علی بناب، (۱۳۸۵ش)، قم: نشر مؤسسۂ امام خمینی (رہ)۔

۲۴۔ "پیش گویی ہای نوسترآداموس"، شرف الدین اعرجی، (۱۳۷۶ش)، ترجمہ: یوسف عزیزی، تہران: نشر ہاد۔

فہرست منابع

  1. ۱پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن، نویہض عجّاج، (۱۳۸۱ش)، ترجمہ: حمیدرضا شیخی، مشہد: نشر آستانِ قدس۔
  2. آخرالزمان در مذاہبِ غربِ بریٹانیکا، مرتضیٰ دہقان، (۱۳۷۹ش)، دکترینِ مہدویت۔
  3. آخرالزمان و آیندہ نگریِ سینمایی، امین خندقی، (۱۳۹۱ش)، قم: انتشاراتِ مؤسسۂ فرہنگیِ ولاء منظر۔
  4. استراتیجی دشمنانِ در جنگ علیہ امامِ زمانہ (ع)، مجتبیٰ الساده، (۱۳۸۷ش)، ترجمہ: سید شاہ پور حسینی، ماہنامہ موعود، شمارہ ۹۴۔
  5. اسطورہ ہای صہیونیستیِ سینما، محمد حسین فرج نژاد، (۱۳۸۷ش)، تہران: نشر ہلال۔
  6. اسماعیل شفیعی سروستانی، حسن بلخاری، علی کورانی، (۱۳۸۲ش)، "پیش گویی ہای آخرالزمان" (مجموعۂ مقالات)، تہران: نشر موعودِ عصر۔
  7. اندیشۂ نوینِ اسلامی در رویارویی با استعمارِ غرب، محمد بہی، (۱۳۷۷ش)، مشہد: نشر آستانِ قدسِ رضوی۔
  8. بازی ہای رایانہ ای از جنسِ آخرالزمان، مہدی حق وردی، (۱۳۸۷ش)، ماہنامہ موعودِ عصر، شمارہ ۸۷۔
  9. پیش گویی ہای نوسترآداموس، شرف الدین اعرجی، (۱۳۷۶ش)، ترجمہ: یوسف عزیزی، تہران: نشر ہاد۔
  10. تاریخِ عصرِ غیبت، مسعود پورسیدآقایی، (۱۳۸۰ش)، جلد ۲۹، تہران: نشر مؤسسہ انتشاراتِ حضور۔
  11. تصویرِ منجی در رسانہ ہای غربی، مجید شاہ حسینی، (۱۳۸۴ش)، تہران: نشر موعودِ عصر۔
  12. تہاجم یا تفاوتِ فرہنگی، حسن بلخاری، (۱۳۷۸ش)، تہران: نشر حسن افرا۔
  13. دائرۃ المعارف بریٹانیکا، مادّہ "مہدی" و "اسلام" و "زرتشت"؛ دائرۃ المعارفِ دین و اخلاص، مادّہ "مہدی"؛ موسوعۃ المورد منیر بعلبکی۔
  14. زرسالارانِ یہودی و پارسیِ استعمارِ برطانیہ و ایران، عبداللہ شہبازی، (۱۳۷۹ش)، جلد ۳، تہران: انتشاراتِ مؤسسۂ مطالعات و پژوہش ہای سیاسی۔
  15. صہیونیسمِ مسیحی و انگارۂ موعودگرایی، محسن قنبری آلانق، (۱۳۸۸ش)، قم: نشر مؤسسۂ آموزشیِ امام خمینی (رہ)۔
  16. عملکردِ صہیونیسم نسبت بہ جہانِ اسلام، علی بناب، (۱۳۸۵ش)، قم: نشر مؤسسۂ امام خمینی (رہ)۔
  17. غرب شناسی، سید احمد رہنمایی، (۱۳۸۲ش)، تہران: نشر صدف۔
  18. غرب و آخرالزمان، اسماعیل شفیعی سروستانی، (۱۳۹۰ش)، تہران: نشر ہلال۔
  19. مثلثِ مقدس،اسماعیل شفیعی سروستانی، (۱۳۸۸ش)، تہران: نشر ہلال۔
  20. مسیح و فرجامِ جہان (مسیحیتِ سیاسی و اصول گراییِ آمریکا)، رضا ہلال، (۱۳۸۳ش)، ترجمہ: قیس زعفران، تہران: نشر ہلال۔
  21. مہدی آن گونہ کہ غرب معرفی می کند، زہیر دہقان آرانی، (۱۳۹۱ش)، قم: دو ماہنامۂ امان، شمارہ ۳۶۔
  22. مہدی انکاری، انتظارستیزی، محمد صابر جعفری، (۱۳۸۱ش)، تہران: نشر انتظارِ موعود۔
  23. نقشِ ہالی ووڈ در اسلام ستیزی، علی قاسمی، (۱۳۹۰ش)، تہران: فصل نامۂ مطالعاتِ سیاسی، سالِ چہارم، شمارہ ۱۷۔
  24. ہالی ووڈ و فرجامِ جہان، سید ابوالحسن علوی طباطبائی، (۱۳۸۷ش)، تہران: نشر ہلال

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha