پیر 28 ستمبر 2026 - 13:56
اسلام اور آزادیِ بیان کی حقیقت

حوزہ/عصر حاضر میں بعض طبقات، اظہارِ رائے کی آزادی کو ایک مطلق اور غیر مشروط انسانی  حق سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ عام آدمی کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ آپ بالکل آزاد ہو، جو کرنا چاہو کر سکتے ہو، جو بولنا چاہو بول سکتے ہو، جس کی چاہو تعریف و توصیف کر سکتے ہو اور جس کی چاہو مذمت، توہین یا کردار کشی کر سکتے ہو اور بس اسی کا نام آزادی ہے۔

تحریر: مولانا محمد طاھا منتظری

حوزہ نیوز ایجنسی|

عصر حاضر میں بعض طبقات، اظہارِ رائے کی آزادی کو ایک مطلق اور غیر مشروط انسانی حق سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ عام آدمی کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ آپ بالکل آزاد ہو، جو کرنا چاہو کر سکتے ہو، جو بولنا چاہو بول سکتے ہو، جس کی چاہو تعریف و توصیف کر سکتے ہو اور جس کی چاہو مذمت، توہین یا کردار کشی کر سکتے ہو اور بس اسی کا نام آزادی ہے۔ آپ کو سوفیصد آزادی حاصل ہے کہ عظیم شخصیات کی توہین کرو، کسی مذہب یا فرقے کی مقدس شخصیات کی اہانت کرو، ملکی و ریاستی اسرار فاش کرو، یا کسی بھی عالمِ دین، فلسفی، ڈاکٹر، انجینیئر، قومی رہنما اور لیڈر کی محض اپنی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کردار کشی اور الزام تراشی کا حق استعمال کرو۔

یہاں تک کہ بعض نادان اس قدر اپنے آپ کو آزاد تصور کر بیٹھے ہیں کہ اللہ کی پاک ذات، آسمانی کتابوں اور انبیاء و ائمہ علیہم السلام کی اہانت کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اسے انسان کا فطری حق تصور کرتے ہیں۔

اس حوالے سے معروف مغربی مفکر روسو کہتا ہے: ”سارے انسان فطری طور پر یکساں خلق ہوئے ہیں۔ جو شخص آزادی کا انکار کرے، گویا اس نے انسانی مقام، حقوق اور فرائض کا انکار کیا ہے، اور کوئی بھی چیز اس خسارے کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ فطرت نے انسان کو آزاد خلق کیا ہے، مگر معاشرے نے اسے لگام دی ہے۔ فطرت نے انسان کو خوش نصیب خلق کیا ہے، مگر سماج اور معاشرے نے اسے بدنصیب اور مجبور بنا دیا ہے۔“

اسی طرح بہت سے دیگر مفکرین انسان کی مطلق العنان آزادی کے حامی ہیں، مگر ان کے فرسودہ نظریات پڑھنے کے بعد عقلاء کے ذہن میں کچھ سوالات خود بخود جنم لیتے ہیں؛

کیا دراصل آزادی کا یہی مفہوم ہے کہ انسان پدر و مادر سے آزاد ہو؟

کیا آزادی کی اس طرح تعریف کرنے سے معاشرے میں موجود دوسرے اشخاص کی آزادی اور حقوق سلب نہیں ہوتے؟

کیا اس طرح کی آزادی سے انسانی معاشرے میں امن و امان قائم رہ سکتا ہے، کہ ایک شخص یا گروہ اپنے مفادات یا دلچسپیوں کی خاطر پورے معاشرے کو نفرت، افراتفری اور جنگ کی آگ میں دھکیل دے؟

یقیناً کوئی بھی عاقل و حکیم شخص آزادی کے اس مفہوم سے موافقت نہیں کرتا اور انسان کی مطلق العنان آزادی کی کبھی حمایت نہیں کرتا، کیونکہ آزادی دراصل دوسروں کی آزادی اور اجتماعی و انفرادی حقوق کی رعایت کرنے سے ہی مشروط ہے۔ لہٰذا مطلق العنان آزادی نہ صرف درست نہیں، بلکہ اس سے انسانی معاشرہ تباہی و فساد کے دہانے پر پہنچ جائے گا اور نتیجتاً انسانیت کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔

دینِ مقدس اسلام نے سب سے زیادہ اظہارِ رائے کی آزادی پر توجہ دی ہے، یہاں تک کہ اسے فروعِ دین کا حصہ بنا دیا ہے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر فروعِ دین میں سے ہیں، جس کے مطابق ہر مسلمان کا فرض ہے کہ کسی برے فعل کو دیکھنے کے بعد اظہارِ نظر کرے اور اس کی مذمت کرے، اور اسی طرح معروف و نیک کاموں کو معاشرے میں عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی زبان، قلم و فعل کے ذریعے اقدام کرے۔ قرآن مجید نے آزادیِ بیان کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ بعض مقامات پر کفار، مشرکین اور اہلِ کتاب کے باطل بیانات و عقائد کو نقل کیا ہے اور مدلل جوابات کے ساتھ انہیں رد کیا ہے۔ بعض دیگر مقامات پر قرآن اہلِ کتاب کو اپنی دلائل اور برہان پیش کرنے کی دعوت دیتا ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 111 میں فرمایا گیا ہے: ”اور وہ کہتے ہیں: جنت میں یہودی یا نصرانی کے علاوہ کوئی ہرگز داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں۔ آپ کہہ دیجیے: اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔“

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انسانِ کامل اور عقلِ کل ہونے کے باوجود اپنے اصحاب سے مشورہ فرماتے اور ان کی باتوں کو پوری توجہ سے سنتے، جس کی ایک معروف مثال جنگِ احزاب کے موقع پر حضرت سلمان فارسی رحمۃ اللہ علیہ کے مشورے پر مدینہ کے اطراف میں خندق کھودنا ہے۔ اسی طرح ائمہ معصومین علیہم السلام کی عملی سیرت بھی یہی تھی کہ وہ اپنے اہل و معتمد اصحاب سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ مولائے کائنات امیر المومنین امام علی علیہ السّلام صاحبِ علمِ لدنی ہونے کے باوجود اپنی بابرکت دورِ خلافت میں اپنی حکومت کے ماتحت لوگوں اور اصحاب سے مشورے فرمایا کرتے تھے، اور اس حوالے سے آپ علیہ السّلام نے نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 214 میں فرمایا: ”مجھ سے ایسی باتیں نہ کیا کرو جیسی جابر و سرکش فرمانرواؤں سے کی جاتی ہیں، نہ مجھ سے اس طرح بچاؤ کرو جس طرح طیش کھانے والے حاکموں سے بچاؤ کیا جاتا ہے، اور مجھ سے اس طرح کا میل جول نہ رکھو جس سے چاپلوسی اور خوشامد کا پہلو نکلتا ہو۔“ اسی طرح آپ علیہ السّلام نے اپنے وفادار صحابی حضرت مالک اشتر رحمۃ اللہ علیہ کے مشورے پر کوفہ کے گورنر ابو موسیٰ اشعری کو کچھ مدت کے لیے اس کے منصب سے عزل نہ کرنا بھی اس بات کی تأیید کرتا ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام اپنی حیاتِ طیبہ میں عاقل اور اہل افراد سے مشورہ لیتے اور انہیں اظہارِ نظر کا موقع عطا فرماتے تھے۔

لہٰذا مغرب اور مغرب زدہ لوگوں کے وہ بیانات جو دینِ مقدس اسلام میں اظہارِ رائے کی آزادی کی نفی کرتے ہیں اور اسلام کے درخشاں چہرے کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں، سراسر جھوٹ اور الزام کے سوا کچھ نہیں۔ بے شک دینِ مقدس اسلام آزادیِ بیان کو انسان کا فطری حق سمجھتا ہے، مگر اس کی حدود و قیود بھی متعین کرتا ہے۔ اسلام ایسی مطلق آزادی کی کبھی اجازت نہیں دیتا جس سے دوسروں کی آزادی، عزتِ نفس، جان، مال اور ناموس کو خطرہ لاحق ہو، کیونکہ مطلق آزادی انسان کے لیے نہ صرف مضر ہے، بلکہ انسانی معاشرے کو تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہے۔ اسلام کے مقدس قوانین عقلانیت کی بنیاد پر مرتب ہیں، اور انسانی عقل کبھی بھی بشر کے لیے مطلق العنان آزادی کی اجازت نہیں دیتی۔ اسلام مقدسات کی توہین، اشخاص کی ہتکِ عزت، منفی پروپیگنڈا اور اسلامی معاشرے کے اسرار فاش کرنے کی کبھی اجازت نہیں دیتا، جس سے اسلامی ریاست اور اس کے مکینوں کی امن و امان اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔

یہاں تک کہ قرآن مجید مشرکین کے باطل خداؤں کو گالی دینے سے بھی منع فرماتا ہے۔ سورۂ انعام، آیت 108 میں خداوندِ متعال فرماتا ہے: ”تم ان کو گالی مت دو جنہیں یہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں، مبادا وہ عداوت اور نادانی میں اللہ کو برا کہنے لگیں۔ اسی طرح ہم نے ہر قوم کے لیے ان کے اپنے کردار کو دیدہ زیب بنا دیا ہے۔ پھر انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پس وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔“ اسی طرح قرآن مجید معاشرے میں فحشاء، قبیح افعال، افکار اور نظریات کے پرچار کی بھرپور مخالفت فرماتا ہے اور ان کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں دردناک عذاب کا وعدہ دیتا ہے، جیسا کہ سورۂ نور کی آیت نمبر 19 میں خداوندِ متعال فرماتا ہے: ”جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہلِ ایمان کے درمیان بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اللہ یقیناً جانتا ہے، مگر تم نہیں جانتے۔“

لہٰذا اسلام کی آزادیِ بیان سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر مقدس ہستیوں اور صحیح عقائد و نظریات کے خلاف جھوٹ اور منفی پروپیگنڈا شروع کر دے، یا ذاتی رنجشوں کی بنا پر اسلامی معاشرے کی سلامتی، امن و امان، اعلیٰ تہذیب و ثقافت اور بنیادی اصولوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرے، یا اسلامی ریاست کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے اور دشمن کی سازش کا حصہ بنے۔ بے شک اسلام اپنے مخالف نظریات رکھنے والوں کو علمی محافل میں مناظرے کی دعوت دیتا ہے، مگر انہیں اجازت نہیں دیتا کہ وہ واضح دلیل و برہان کے بغیر اپنے نظریات معاشرے میں پھیلائیں یا سازشیں کریں، کیونکہ اس سے معاشرے کا عام طبقہ لاعلمی یا کم علمی کی وجہ سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نابالغ چھوٹے بچے کے ہاتھ میں بغیر کسی تربیت کے بندوق تھما دی جائے، جو کسی بھی وقت اپنی یا دوسرے کی جان لے سکتی ہے۔

یہ بات بالکل بھی نامعقول اور نادرست ہے کہ انسانی معاشرے کی امن و امان کی خاطر مطلق آزادی پر لگائی جانے والی چند پابندیوں کو اصل آزادی پر پابندی سمجھا جائے، کیونکہ ایسی سوفیصد مطلق آزادی تو آزادیِ بشر کے دعویدار ممالک میں بھی نہیں ہے۔ ہر ملک میں کچھ قوانین عائد ہیں جن کی خلاف ورزی جرم سمجھی جاتی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جاتی ہے۔

مغرب، مغرب نواز اور اس کی متعفن تہذیب پر اگنے والی اَکاس بیل (بغیر جڑوں والے پودے) کی حقیقت تب سامنے آتی ہے جب آپ ان کے سماج کی طرف کھلی آنکھوں سے دیکھیں کہ آزادیِ بیان کے نام پر ان کی قانون ساز اسمبلیوں نے انسانیت کی تذلیل پر مبنی کیسے عجیب و نامعقول قوانین اور بلز بنائے ہیں۔ ایک سادہ مثال امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور ڈنمارک سمیت 25 ممالک کا ہم جنس پرستی کو قانونی شکل دینا اور اس کی حمایت کرنا ہے، جس کے مطابق مرد، مرد سے اور عورت، عورت سے شادی کر سکتی ہے۔

شراب اور نشہ آور اشیاء کا آزادانہ استعمال، خواتین کا مردوں کے ساتھ آزادانہ جنسی روابط رکھنا، ایک عورت کا بیک وقت کئی مردوں سے شادیاں کرنا وغیرہ — یہ سب آزادیِ اظہارِ رائے اور آزادیِ بیان کے نام پر بنائے گئے ناقص اور غیر انسانی قوانین ہیں جو انسان کے فطری تقاضوں کے مخالف ہیں۔ اس کے علاوہ انسانیت کے قتلِ عام اور عام تباہی والے کیمیائی، بائیو کیمیکل اور ایٹمی ہتھیاروں کی ساخت اور ان کے آزادانہ استعمال کے قوانین انہی برائے نام اسمبلیوں کے جدید جاہلیت کے افکار کے حامل ممبران نے بنائے ہیں، جو ظاہراً تھری پیس سوٹ اور ٹائی پہن کر عالمی میڈیا پر مسلط ہو کر پسماندہ ممالک کے عوام کی ذہنیت بدلنے اور ان کے قدرتی، معاشی اور انسانی ذرائع پر قبضہ کرنے کے لیے میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں۔ جبکہ میدانِ عمل میں دیکھیں تو خود انہی ممالک میں اپنے مخالفین کو بدترین جسمانی و روحانی ٹارچر کے ذریعے کچلا جاتا ہے۔ امریکہ میں آئے دن پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام افراد اور مہاجرین کا قتلِ عام اس کی واضح مثال ہے۔ حالیہ ایام میں ایپسٹن کیس کی لیک ہونے والی وحشت انگیز غیر انسانی مناظر، غزہ میں ستر ہزار بے گناہ افراد کا قتلِ عام، امریکی جاہل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے ہی ملک کے تین بڑے صحافتی چینلز — سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس این بی سی — پر پابندیاں لگانا، وینزویلا کے قانونی و جمہوری صدر کو دن دیہاڑے گرفتار کرنا، غزہ و لبنان میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتلِ عام ہونے والے سینکڑوں صحافیوں کا ناحق خون، اور امریکی سابقہ وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کا داعش کو خود امریکہ کی طرف سے تشکیل دینے کا اعتراف کرنا — یہ سب اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مغرب اور مغرب نواز افراد نے جو ناقابلِ تلافی نقصان انسانی معاشرے اور تہذیب کو پہنچایا ہے، اس کی پوری تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

دراصل یہ سب فاسد عقائد و نظریات اسی باطل و پوسیدہ کوکھ سے جنم لیتا ہے کہ ہر شخص کو ہر موضوع پر، ہر حالت میں اظہارِ نظر کا حق حاصل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha