بدھ 23 ستمبر 2026 - 11:03
سب مزدور ہیں!

حوزہ/اکثر ہمارے معاشرے میں ایک غلط فکر عام ہو گئی ہے، جس کے مطابق جب کسی شخص کو کوئی بظاہر معمولی یا ادنیٰ سطح کا کام کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے، تو اسے عیب اور ننگ و عار سمجھا جاتا ہے اور ایسے افراد کا مذاق اڑایا جاتا ہے؛ جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

تحریر: مولانا محمد طاھا منتظری

حوزہ نیوز ایجنسی| اکثر ہمارے معاشرے میں ایک غلط فکر عام ہو گئی ہے، جس کے مطابق جب کسی شخص کو کوئی بظاہر معمولی یا ادنیٰ سطح کا کام کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے، تو اسے عیب اور ننگ و عار سمجھا جاتا ہے اور ایسے افراد کا مذاق اڑایا جاتا ہے؛ جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

اسلامی عقیدے کے مطابق مزدوری کرنا نہ صرف ننگ و عار نہیں ہے، بلکہ حصولِ رزقِ حلال عبادت ہے۔ یہاں تک کہ بعض روایات میں ائمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص رزقِ حلال کی تلاش میں گھر سے باہر نکلے تو اس کی مثال راہ خدا میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مانند ہے۔

انبیائے الٰہی سے مقام و منزلت میں بڑھ کر اس دنیا میں کوئی شخص نہیں ہے، جبکہ یہی انبیاء علیہم السلام رزق و روزی کی خاطر مزدوری کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام زمینداری، حضرت نوح علیہ السلام بڑھئی (نجاری)، حضرت سلیمان علیہ السلام ٹوکریاں بناتے (زنبیل بافی)، حضرت داؤد علیہ السلام لوہار، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھیڑ بکریاں چراتے اور چرواہا تھے، جبکہ آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باغبانی، زمینداری، مستری، چکی اور تجارت کا کام کرتے تھے۔

اسی طرح ائمہ معصومین علیہم السلام زمینداری، تجارت یا باغبانی کا کام کرتے تھے۔ جیسا کہ مشہور ہے کہ مولائے کائنات امیر المومنین علی علیہ السلام پانی کے کنویں کھودنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے اور تاریخی منابع کے مطابق آپ ؑ نے ایک سو ستر کے قریب کنویں کھود کر خدا کی راہ میں وقف فرمائے جن کے آثار آج بھی مدینہ میں موجود ہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں روایت ہے کہ ایک دن آپ ؑ سخت دھوپ میں بیلچہ اٹھا کر اپنے باغ میں کام کررہے تھے ، کسی عقیدت مند نے آپ ؑ کو مدد کرنا چاہا مگر آپ ؑ نے فرمایا کہ ’’ مجھے پسند ہےکہ آدمی رزق و روزی کمانے کی خاطر دھوپ کی تپش کی تکلیف برداشت کرے‘‘۔

رزقِ حلال کمانے والے مزدور کی عظمت اس قدر زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدور کے ہاتھوں کو چوم لیا، اور کسی دوسرے موقع پر جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو پتا چلا کہ کوئی قدرت مند جوان بے کار ہے اور مزدوری نہیں کرتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جوان میری نظروں سے گر گیا۔

مجتہدین اور بزرگ علماء کرام بھی اکثر یا تدریس و تألیف فرماتے ہیں یا قضا کی نماز اور روزے رکھتے ہیں اور اس طرح اپنی زندگی کے مخارج پورے فرماتے ہیں۔ انقلابِ اسلامی کے اعلیٰ متفکر اور بزرگ دانشمند آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری کے بارے میں معروف ہے کہ طالب علمی کے دوران چھٹی اور فراغت کے ایام میں مزدوری فرماتے تھے۔

جب ہمارے انبیاء، ائمہ معصومین علیہم السلام اور مجتہدین عظام کا یہ روش ہے، تو ہم کیوں مزدوری کو عیب سمجھیں؟ ہم کیوں شرمندگی محسوس کریں؟ کیوں اپنی زندگی کا بوجھ دوسروں پر ڈالیں؟

کیوں نائی، موچی، قلی، زمینداری، باغ داری، ریڑھی لگانا، چپڑاسی، چرواہے کے پیشوں سمیت دیگر مشاغل کو عیب سمجھیں؟ حقیقت میں کام کرنا عیب نہیں ہے بلکہ مفت خوری (دوسروں پر بوجھ بننا)، چوری، رشوت، کرپشن، بخل و کنجوسی، جھوٹ، حسد، زنا، غیبت اور چغلی کھانا عیب اور شرمندگی کا سبب ہے۔

کوئی ملک کا صدر یا وزیراعظم ہو، وفاقی وزیر ہو یا پارلیمنٹ ممبر، ۲۲ گریڈ کا آفیسر ہو یا سرمایہ دار — سب کے سب مزدوری ہی کرتے ہیں، بس صرف انداز اور روش میں فرق ہے۔

سب کے سب نوکر ہیں، البتہ کوئی تعلیمی میدان میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر نسبتاً کسی اونچی سماجی مقام و مرتبہ پر فائز ہے، تو اس کا موضوع بحث الگ ہے؛ مگر دراصل سب مزدور ہیں۔ کوئی اپنی سابقہ محنت اور تلاش کی بنیاد پر آفس میں بیٹھ کر مزدوری کرتا ہے، تو کوئی ریڑھی لگا کر فٹ پاتھ پر؛ مگر دونوں اشخاص کا ہدف حصولِ معاش ہے۔ لہٰذا دراصل دنیا میں سب انسان مزدور ہی ہیں، اور اس میں کوئی قباحت یا شرمندگی کی بات نہیں جس کی بنا پر ہم جھجک اور شرمندگی محسوس کریں۔

نوٹ: مگر کچھ پیشہ شرعی اعتبار سے جائز نہیں ہیں، جیسا کہ حرام اشیاء کی خرید و فروخت کرنا، جو یہاں ہمارے موضوع بحث نہیں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha