تحریر: مولانا محمد طاھا منتظری
حوزہ نیوز ایجنسی| گلگت بلتستان اپنے وسیع معدنی ذخائر، قدرتی وسائل، تزویراتی محلِ وقوع اور جغرافیائی اہمیت کے باعث خطے اور عالمی طاقتوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے میں اس خطے کے قدرتی وسائل، قومی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی کو درپیش ممکنہ خطرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں خطرے کی گھنٹی اس وقت سے بجنا شروع ہوئی ہے جب سے اس خداداد خطے میں اہم معدنیات کی موجودگی عالمی استعماری طاقتوں کے علم میں آچکی ہے۔ متعدد جیولوجیکل سروے رپورٹس کے مطابق اس خطے میں بہت ہی اعلیٰ کوالٹی کا سونا پایا جاتا ہے اور اب تک کے مطالعے کے مطابق گلگت بلتستان میں ایک سو اڑسٹھ مقامات پر سونے کے ذخائر، ایک سو چھ مقامات پر پلاٹینم، چار سو ترانوے مقامات پر کاپر لیڈ، دو سو اسی مقامات پر زنک، تین سو باون مقامات پر کوہالیٹ، دو سو پچپن مقامات پر نیکل، چار سو ستاسی مقامات پر بسمتھ، سڑسٹھ مقامات پر مولیڈینم جبکہ آئرن کے ذخائر تین مقامات پر موجود ہیں۔ اسی طرح قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے بھی وسیع ذخائر گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔ گلگت بلتستان میں روبی کے تین، ایمیرالڈ کے دو، سوامائر کے دو، سپائل کے دو، ایکوامرین کے بارہ، ٹوپاز کے پندرہ، ٹورمالین کے چار، مون اسٹون کے چار، زرقون کے تین، پارگیسایٹ کے چار اور گرینائٹ کے پندرہ ذخائر موجود ہیں۔ جن کی تفصیلات کے لیے قارئینِ محترم معروف صحافی قاسم نسیم صاحب کا اس موضوع پر لکھا گیا مضمون ضرور مطالعہ فرمائیں۔
حالیہ ایام میں امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور وہاں کے گورنر اور کچھ وزرا سے ملاقات بھی کی۔ دورے کے دوران گلگت بلتستان کے اہم امور پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا، مگر جو دلچسپ اور اہم بات ہے وہ خود ان کے الفاظ ہیں جو مختلف میڈیا ذرائع میں نشر ہوچکے ہیں، جن میں انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ، امریکی اور مقامی جامعات (یونیورسٹیز) کے درمیان شراکت داری کے فروغ کے لیے فعال طور پر کام کر رہا ہے، جس میں کریٹیکل منرلز اور مائننگ کے شعبے میں ووکیشنل ٹریننگ کے لیے تعاون بھی شامل ہے۔‘‘
اس اہم ملاقات میں پس پردہ طے ہونے والے خفیہ امور اور منصوبہ بندیوں کا دقیق علم اب تک تو کسی کو حاصل نہیں، مگر امریکی نمائندہ کے بیان سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ گلگت بلتستان کی معدنیات اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کا مذموم ارادہ رکھتا ہے، جس کے لیے اس نے اپنی منصوبہ بندی کا عملی آغاز کر دیا ہے اور اس راہ میں اگر کچھ رقم مختلف فلاحی منصوبوں کی صورت میں خرچ بھی کر لے تو اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا؛ اربوں ڈالرز کے ذخائر کے لیے کچھ ملین ڈالر خرچ کرنے میں کوئی نقصان نہیں۔
امریکی نظام کی ذات ہی پلید اور استعماری ہے جو قوموں کی مادی اور معنوی سرمایہ لوٹنے پر قائم ہے اور اس کی ڈھائی سو سالہ تاریخ میں اس طرح کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں، جن کا مطالعہ کیے بغیر عام آدمی اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔ امریکی سرمایہ دارانہ نظام کی ابتدا ہی وسیع انسانی قتل عام اور غارت سے ہوئی ہے، جس میں امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن کے دور میں امریکہ کے اصیل باشندوں (ریڈ انڈینز) کو ختم کرنے کے لیے باقاعدہ ’’ریڈ انڈینز ریمو ایکٹ‘‘ کے نام سے قانون بنایا گیا اور ان کے قدرتی منابع پر قابض ہونے کے لیے انہیں بے دردی سے قتل عام کیا گیا۔ یہ تو پرانی مثالیں ہیں، مگر موجودہ صدی میں بھی امریکہ نے جہاں اپنا نحس قدم رکھا ہے وہاں کے لوگوں کو قتل و غارت کے سوا کچھ نہیں ملا۔ افغانستان، عراق، لیبیا، شام، غزہ اور ایران میں جنگ اور اس کے نتیجے میں قتل عام ہونے والے لاکھوں بے گناہ انسانوں اور امریکی بموں سے تباہ ہونے والی کھنڈرات، سب کے سب امریکی جرائم کی تازہ نشانات ہیں اور اتنی سی بات پر اگر کوئی شخص یا عہدہ دار امریکہ کو گلگت بلتستان کے مسلمان عوام کا خیر خواہ قرار دیتا ہے تو اس کے جاہل، مفاد پرست یا امریکی مفادات کا پٹھو ہونے پر کوئی شک نہیں رہتا۔ انقلابِ اسلامی کے بانی و بزرگ شیعہ فقیہ آیت اللہ امام خمینیؒ نے آج سے چالیس سال پہلے ہی امریکہ کو ’’شیطانِ بزرگ‘‘ قرار دے کر اسی وقت قصہ تمام کر دیا تھا، مگر یہ بے شعور مفاد پرست حکمران اپنی چند دنوں کی اقتدار اور دو ٹکے کی مفادات کی خاطر کسی بھی وقت پوری قوم کا سودا کر سکتے ہیں، جس کے لیے خطے کی عوام، خاص کر علما کرام، طلبا اور جوانوں کو بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔
اسی لیے امریکہ کی سابقہ بدعہدی، سیاہ چہرہ اور لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگین ماضی اور گلگت بلتستان میں حالیہ امریکی اعلیٰ عہدہ دار کے دورے کی تناظر میں مستقبلِ قریب کے بعض ممکنہ خدشات کو ذیل میں بیس نکات کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ نکات مفروضوں اور ممکنہ خدشات پر مبنی ہیں، جن کا جائزہ مستند شواہد اور زمینی حقائق کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔
۱۔ وسیع پیمانے پر اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینا۔
۲۔ بلتی، شینا اور بروشسکی زبان بولنے والے لوگوں کے درمیان لسانی تنازعات کو فروغ دینا۔
۳۔ زرد صحافت اور مفاد پرست ٹولوں کو علمائے حق اور حریت پسند قومی شخصیات کے خلاف بھرپور انداز میں استعمال کرنا۔
۴۔ مقامی بے ضمیر اور زر خرید عناصر کے ذریعے مجتہدین کی شخصیت کشی کرنا اور نوجوانوں کو تقلید سے دور کرنے کی کوشش کرنا۔
۵۔ سیاست کو دین سے جدا سمجھنے والے علماء اور مذہبی شخصیات کو بھرپور انداز میں استعمال کرنا اور انہیں اہم کلیدی سماجی و مذہبی عہدوں پر فائز کرنا۔
۶۔ اسد عاشوراء مجالس کو غیر محسوس انداز میں بتدریج ختم کرنے کی کوشش کرنا۔
۷۔ تعلیمی و تربیتی اداروں میں موجود ذمہ داران کو شعوری یا لاشعوری طور پر امریکہ نواز بنانے کے لیے مختلف پروگراموں، اسکالرشپس، اسٹڈی ٹورز اور ویزا آفرز کے ذریعے بلیک میل کرنا۔
۸۔ گلگت بلتستان کے طلبا و طالبات، بالخصوص شیعہ طلبا، کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے تعلیمی و تربیتی اداروں میں وسیع پیمانے پر مکمل اسکالرشپس فراہم کرنا۔
۹۔ پورے خطے میں منشیات کی بے تحاشا ترسیل، فحاشی اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں کو فروغ دینا، نیز رقص، گانے اور موسیقی کی محافل کا زیادہ سے زیادہ انعقاد کرنا۔
۱۰۔ خطے کو غیر قابلِ سکونت بنانے کے لیے وبائی امراض کے پھیلاؤ اور جراثیم سے آلودہ پانی و خوراک کی فراہمی جیسے ذرائع کو استعمال کرنا۔
۱۱۔ معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں، خصوصاً روندو اور شگر، میں بالترتیب بلتی و شینا لسانی تنازعات اور شیعہ و نوربخشی برادریوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینا۔
۱۲۔ عوام کو دھوکہ دینے کے لیے امریکہ نواز مقامی اور ہم مسلک صوبائی حکومتوں کو زیادہ سے زیادہ اقتدار میں لانا، یا خطے میں اسی فکر کے حامل افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کرنا۔
۱۳۔ مذہبی جماعتوں کو علاقائی سیاست سے بے دخل کرنا اور ان پر پابندیاں عائد کرنا۔
۱۴۔ خطے کی عوام کو مایوس کرنے اور انہیں پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کرنے کے لیے پانی، بجلی، گیس، صحت اور خوراک کی قلت جیسے مصنوعی بحران پیدا کرنا۔
۱۵۔ چین کے ساتھ روابط کو غیر مستحکم کرنے اور چینی باشندوں کو خطے سے نکلنے پر مجبور کرنے کے لیے چینی عملے پر دہشت گردانہ حملے کروانا۔
۱۶۔ خطے میں امریکہ کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے کنٹرولڈ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مخالفین کے خلاف پروپیگنڈا مشینری کو مؤثر بنانا، نیز اسٹارلنک یا قومی موبائل کمپنیوں کے ذریعے سستے یا مفت انٹرنیٹ پیکیجز کی خصوصی فراہمی کا اہتمام کرنا۔
۱۷۔ معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال علاقوں یا ان کے قرب و جوار میں واقع زمینوں کی بڑے پیمانے پر، غیر محسوس انداز میں، خرید و فروخت کرنا۔
۱۸۔ خطے میں اہم مذہبی شخصیات پر قاتلانہ حملے کروا کر شدید مذہبی کشیدگی اور بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔
۱۹۔ حق پرست، قوم پرست اور اہم سیاسی و مذہبی شخصیات کو وسیع پیمانے پر گرفتار کرنا۔
۲۰۔ صوبے میں عوامی مزاحمت اور بنیادی شہری حقوق کو معطل کرنے کے لیے ایمرجنسی یا اس سے مشابہ کسی قانونی دفعیے کا نفاذ کروانا۔
نوٹ: یہ بیس نکات محض ایک مفروضہ اور ممکنہ خدشات پر مبنی تجزیاتی خاکہ ہے، جس کا مقصد محض وطنِ عزیز پاکستان کے باشندوں کو ممکنہ امریکی سازشوں سے آگاہ کرنا ہے تاکہ مادرِ وطن کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچایا جا سکے۔










آپ کا تبصرہ