جمعہ 9 اکتوبر 2026 - 14:25
 ایران کے حالات، حجّتِ خدا کا عقیدہ اور امیدِ ظہورِ امام مہدی (عجل)

حوزہ/ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے حجّت مقرر فرمائی ہے۔ حجّتِ خدا کا وجود انسانی ہدایت کے الٰہی نظام سے وابستہ ہے اور امامِ معصوم  (عجل) کی غیبت اس کے وجود کے خاتمے کے مترادف نہیں۔

تحریر: حجت الاسلام غلام حسین معصومی

حوزہ نیوز ایجنسی | زمین کبھی حجّتِ خدا سے خالی نہیں رہتی! ہم امامِ زمانہ (عجل) کے ظہور کے منتظر ہیں لیکن ہمارا انتظار بے عملی نہیں۔ یہ اصلاحِ نفس، حق کی حمایت، مظلوموں کی خدمت اور عدل کے قیام کی جدوجہد ہے۔

دنیا کے موجودہ حالات، ایران کی صورتِ حال اور رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی کیفیت نے اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت رکھنے والے بہت سے دلوں کو غم، اضطراب اور انتظار کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 اکتوبر 2026ء کو ایران کی قیادت کے بارے میں یہ بیان دیا کہ کسی کو معلوم نہیں کہ ایران کو کون چلا رہا ہے۔ دوسری جانب سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی طویل عرصے سے آزادانہ اور قابلِ تصدیق عوامی موجودگی نہ ہونے کے باعث ان کے کردار اور حالات کے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کی کیفیت اور حکومتی فیصلوں میں ان کے عملی کردار کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، لیکن تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوئی۔

یہ صورتِ حال ہمارے سامنے ایک بنیادی دینی سوال بھی رکھتی ہے: کیا اہلِ ایمان کی امید صرف ظاہری حالات سے وابستہ ہے، یا ان کا ایمان اس سے کہیں زیادہ گہری بنیاد رکھتا ہے؟

اہلِ بیت علیہم السلام کے مکتب میں اس سوال کا جواب عقیدۂ امامت، حجّتِ خدا اور انتظارِ فرج میں ملتا ہے۔

1۔ زمین کبھی حجّتِ خدا سے خالی نہیں رہتی

مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے حجّت مقرر فرمائی ہے۔ حجّتِ خدا کا وجود انسانی ہدایت کے الٰہی نظام سے وابستہ ہے اور امامِ معصوم (عجل) کی غیبت اس کے وجود کے خاتمے کے مترادف نہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے:

«إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو إِلَّا وَفِيهَا إِمَامٌ»

مفہوم: زمین کبھی امام سے خالی نہیں رہتی۔

حوالہ: الکافی، شیخ کلینی، کتاب الحجة، ابوابِ حجّت و امامت۔ مختلف روایات کے الفاظ اور اسانید الگ الگ ہیں؛ تحقیق کے وقت متعلقہ روایت کا مکمل متن اور سند دیکھی جانی چاہیے۔

یہ عقیدہ ہمیں بتاتا ہے کہ حالات کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، مومن کا تعلق اللہ تعالیٰ، اس کی حجّت اور اس کی ہدایت سے منقطع نہیں ہوتا۔

قرآنِ مجید ارشاد فرماتا ہے: إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۔ ترجمہ: آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے ایک ہدایت کرنے والا ہے۔ (سورۂ رعد، آیت 7)

اس آیت کی تفسیر میں امامی روایات کے اندر ہادی کے مفہوم کو ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام سے بھی مربوط کیا گیا ہے۔ تاہم آیت کے الفاظ اور ان کی تفسیری تطبیق میں فرق ملحوظ رہنا چاہیے۔

2۔ امامِ زمانہ (عجل) کی غیبت، محرومی نہیں بلکہ امتحان بھی ہے

ہمارے بارہویں امام، حضرت حجّت بن الحسن العسکری، امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، اللہ تعالیٰ کے حکم سے غیبت میں ہیں۔ امامیہ عقیدے کے مطابق غیبت کا مطلب یہ نہیں کہ امام (عجل) کا وجود ختم ہوگیا یا انسانیت اللہ کی حجّت سے محروم ہوگئی۔

شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب کمال الدین و تمام النعمۃ میں غیبتِ امام مہدی (عجل) اور اس سے متعلق روایات کو جمع کیا ہے۔ شیخ طوسیؒ نے بھی کتاب الغیبۃ میں اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے۔

ان مصادر سے غیبت کے عقیدے، اس کی حکمتوں اور اہلِ ایمان کے فرائض کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

امام (عجل) کی غیبت کے زمانے میں ہماری ذمہ داری صرف انتظار کرنا نہیں، بلکہ اپنے عقیدے کی حفاظت، دینی شعور، اخلاقی اصلاح، مظلوموں کی مدد اور حق و انصاف کے قیام کے لیے کوشش کرنا بھی ہے۔

3۔ کیا ایران کے موجودہ حالات امامِ زمانہ (عجل) کی خصوصی مدد کا ثبوت ہیں؟

یہاں ایک اہم علمی اور اعتقادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی نصرت کے امیدوار ہیں۔ ہم امامِ زمانہ (عجل) کے ظہور کے منتظر ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین، اپنے بندوں اور مظلوموں کی حفاظت فرمائے۔ لیکن کسی خاص سیاسی واقعہ، کسی حکومتی فیصلے یا کسی جنگی صورتِ حال کو قطعی طور پر امامِ زمانہ (عجل) کی خصوصی مداخلت کا ثبوت قرار دینے کے لیے معتبر شرعی دلیل درکار ہے۔

لہٰذا زیادہ درست بات یہ ہے کہ ہم کہیں: ہم ایران اور تمام مظلوموں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت، امامِ زمانہ (عجل) کی دعاؤں اور ظہورِ فرج کے امیدوار ہیں۔ ہمارا ایمان ظاہری حالات سے بلند ایک الٰہی وعدے اور عدلِ الٰہی کی امید سے وابستہ ہے۔ یہ امید محض سیاسی تجزیہ نہیں، بلکہ ہمارے دینی عقیدے اور روحانی وابستگی کا حصہ ہے۔

4۔ امامِ زمانہ (عجل) کی معرفت اور انتظار

امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: «مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِمَامٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً» مفہوم: جو شخص اس حال میں مرے کہ اس کے لیے امام کی معرفت اور وابستگی نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔(الکافی، شیخ کلینی، کتاب الحجة، باب معرفۃ الإمام والردّ إليه)۔

اس روایت سے امام کی معرفت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ معرفتِ امام صرف نام جان لینے کا نام نہیں؛ اس میں امام (عجل) کی دینی رہنمائی کو پہچاننا، حق کی پیروی کرنا اور اپنی زندگی کو الٰہی ہدایت کے مطابق بنانے کی کوشش کرنا بھی شامل ہے۔

ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے: کیا ہمارا انتظار ہمیں سچ بولنے والا بناتا ہے؟ کیا ہم اپنے معاشرے میں عدل، امانت اور خدمتِ خلق کو فروغ دیتے ہیں؟ کیا ہم مظلوم عورتوں، یتیموں، غریبوں اور محروم افراد کے حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں؟

اگر ہم امامِ زمانہ (عجل) کے ظہور کے منتظر ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں عدل، تقویٰ، رحم اور خدمتِ انسانیت کے لیے جگہ پیدا کرنی چاہیے۔

5۔ انتظارِ فرج، امید اور ذمہ داری کا نام ہے

امامیہ روایتی ذخیرے میں انتظارِ فرج کی فضیلت پر متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ شیخ صدوقؒ کی کمال الدین و تمام النعمۃ اور نعمانیؒ کی کتاب الغیبۃ اس موضوع کے بنیادی مصادر میں شمار ہوتی ہیں۔

انتظار کا حقیقی مفہوم یہ نہیں کہ انسان حالات کے بدلنے کا انتظار کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ترک کردے۔ حقیقی انتظار انسان کو باعمل، بااخلاق اور حق کے لیے ثابت قدم بناتا ہے۔

ہماری دعائیں یہ ہونی چاہئیں:

اے اللہ! ہمارے دلوں کو حق پر ثابت قدم رکھ۔

اے اللہ! امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرما۔

اے اللہ! دنیا کے مظلوموں کی مدد فرما، جنگوں اور فتنوں سے انسانیت کی حفاظت فرما اور ہمیں عدل و انصاف کے قیام کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو امام (عجل) کے انتظار کو اپنی اصلاح، عبادت اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بناتے ہیں۔

6۔ فرزندِ زہرا (عجل) سے وابستگی اور ہماری امید

اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت رکھنے والوں کے لیے حضرت فاطمہ زہرا (س) کے فرزند، امامِ زمانہ (عجل)، امید اور عقیدت کا مرکز ہیں۔

ہم اس امید کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا دین سربلند ہو، مظلوموں کو انصاف ملے، ظلم و فساد کا خاتمہ ہو اور زمین عدل و قسط سے بھر جائے۔

امام مہدی (عجل) کے بارے میں معروف نبوی روایت میں آیا ہے کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ اس مضمون کی روایات اہلِ سنت اور شیعہ مصادر دونوں میں نقل ہوئی ہیں؛ ہر روایت کی سند اور الفاظ کا الگ علمی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

یہی وہ امید ہے جو مومن کو مایوسی سے بچاتی ہے۔ یہ امید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حالات کی سختی ہماری اخلاقی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرتی اور نہ ہی کسی سیاسی تبدیلی سے عقیدۂ امامت کی بنیاد متزلزل ہوتی ہے۔

ہم ایران، اس کے عوام، تمام مظلوموں اور پوری انسانیت کے لیے امن، سلامتی، عدل اور رحمتِ الٰہی کے طلب گار ہیں۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کے اضطراب کو سکون میں بدل دے، شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو شفا عطا کرے اور تمام انسانوں کو جنگ و خونریزی سے محفوظ رکھے۔

اختتامی پیغام

زمین حجّتِ خدا سے خالی نہیں رہتی؛ غیبت کے زمانے میں بھی امید کا چراغ روشن رہتا ہے۔

ہم امامِ زمانہ (عجل) کے ظہور کے منتظر ہیں لیکن ہمارا انتظار بے عملی نہیں؛ یہ اصلاحِ نفس، حق کی حمایت، مظلوموں کی خدمت اور عدل کے قیام کی جدوجہد ہے۔

ہماری آنکھیں ظہور کی امید میں نم ہیں، ہمارے دل اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت سے وابستہ ہیں اور ہماری زبانیں دعا میں مصروف ہیں۔

خدایا! بحقِ محمد و آلِ محمد، امامِ زمانہ (عجل) کے ظہور میں تعجیل فرما، ہمیں ان کے حقیقی منتظرین اور مخلص مددگاروں میں شمار فرما اور دنیا کو عدل، امن اور رحمت سے بھر دے۔ "اَللّٰهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَجَ"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha