تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
شیعہ علماء کی یہ اہم دینی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں موجود غلو اور غالیانہ عقائد کی نشاندہی کریں اور قرآن مجید، عقل اور تعلیماتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی روشنی میں ان کا جواب دیں۔ جس طرح اہلِ بیت علیہم السلام سے دشمنی اور ان کے مقام و حقوق کا انکار غلط ہے، اسی طرح محبت کے نام پر ان کے بارے میں ایسی باتیں کہنا بھی درست نہیں جو توحید کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوں۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت بیان کرنے کے لیے غلو کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کا حقیقی مقام اتنا بلند ہے کہ اسے ثابت کرنے کے لیے جھوٹی روایتوں، بے بنیاد باتوں اور غیر ضروری مبالغے کا سہارا لینا ضروری نہیں۔
افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بعض لوگ محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے نام پر ایسے عقائد پیش کر رہے ہیں جن کی کوئی مضبوط دینی دلیل نہیں ہوتی، لیکن ان پر علمی گفتگو کرنے کے بجائے انہیں مقدسات کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ ہمارے شیعہ معاشرے میں غلو پھیلانے والے بعض رجحانات ایسے بیرونی عناصر کے مفادات سے بھی میل کھا سکتے ہیں جو مسلمانوں کو اندر سے کمزور اور تقسیم دیکھنا چاہتے ہیں۔ استعماری طاقتیں مذہبی معاشروں میں اختلافات اور فکری گمراہیوں سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں؛ اس لیے ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ کہیں محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے نام پر پھیلنے والا غلو ہمارے مذہب کی حقیقی تعلیمات ہی کو نقصان نہ پہنچا دے۔ اس سلسلے میں منبر پر آنے والے بعض ذاکروں، خطیبوں اور شاعروں کا کردار بھی قابلِ توجہ ہے، جو تحقیق کے بغیر واقعات بیان کرتے، بے بنیاد روایتیں سناتے اور غلو پر مبنی باتوں کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ عوام انہیں دین کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔ البتہ ہر غلطی کو بیرونی سازش قرار دینے کے بجائے ہر دعوے کو دلیل اور تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ صاحبِان علم اور صاحبِ جرأت علماء و خطباء آگے بڑھیں، غلو کی حقیقت واضح کریں، ایسے عقائد کا علمی محاسبہ کریں اور عوام کو بتائیں کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی حقیقی تعلیمات کیا ہیں اور ان سے تجاوز کہاں شروع ہوتا ہے۔ جو عقائد واضح طور پر غلو پر مبنی ہوں، ان سے برائت کا اعلان کیا جائے اور انہیں مذہبِ تشیع کی حقیقی تعلیمات سے الگ کرکے پیش کیا جائے، تاکہ چند افراد کے نظریات کو پورے مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی نمائندگی نہ سمجھا جائے۔ البتہ یہ کام ذاتی اختلاف، جذبات یا الزام تراشی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قرآن، معتبر احادیث، عقل اور انصاف کے ساتھ ہونا چاہیے،
حقیقی دینی جرأت یہ نہیں کہ انسان صرف دوسروں کی غلطیوں پر انگلی اٹھائے، بلکہ یہ ہے کہ اپنے حلقے کی غلطیوں کو بھی حق و انصاف کے ساتھ سامنے لائے۔ اگر ناصبیت کی مذمت ضروری ہے تو غلو کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ اہلِ بیت علیہم السلام سے سچی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ان کی عظمت کا دفاع کرنے کے ساتھ ان کی تعلیمات کی حفاظت بھی کریں۔ ہمیں ایسا منبر چاہیے جو توحید کا درس دے، ایسا خطیب چاہیے جو تحقیق کے ساتھ بات کرے اور ایسا عالم چاہیے جو حق بیان کرنے میں مصلحت کا شکار نہ ہو۔ کیونکہ نہ اہلِ بیت علیہم السلام سے دشمنی دین ہے اور نہ ان کی محبت میں حد سے بڑھ جانا؛
دین وہی ہے جو توحید، عقل، حق اور تعلیماتِ رسول واہلِ بیت علیہم السلام کے مطابق ہو۔










آپ کا تبصرہ