تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی
دینی و اسلامی اعتبار سے خداوند سبحان کی شناخت و معرفت اتنی اہم اور ضروری ہے کہ قرآن حکیم نے اسے جن و انس کی خلقت و پیدائش کا مقصد و ہدف قرار دیا ہے، جیسا کہ سورہ ذاریات کی اس آیہ کریمہ"و ماخلقت الجن و الانس الا لیعبدون" (1) میں یوں ارشاد ہوا ہےکہ: میں نے جن و انس کو خلق نہیں کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔
بلاشبہ اس کلام الہی میں جن و انس کی پیدائش کا مقصد اللہ تعالی کی عبادت و بندگی بتایا گیا ہے لیکن سرکار سید الشہداء امام حسین علیہ الصلوة و السلام کے ارشاد مبارک کے مطابق مذکورہ آیت میں عبادت الہی سے مراد" معرفت الہی" ہے۔(2) چونکہ معرفت الہی کے بغیر حقیقی عبادت الہی ممکن نہیں ہے۔
جب ہم اس زاویہ نظر سے معرفت کو دیکھتے ہیں تو اس کی غیر معمولی حیثیت و عظمت اس طرح کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے کہ خلاق کائنات نے ساری کائنات کو ہمارے لئے پیدا کیا ہے اور ہمیں اپنی معرفت کے لئے پیدا فرمایا ہے اور ہمیں اس کی معرفت اس لئے حاصل کرنا ہے تاکہ واقعی طور پر اس کی عبادت و بندگی کر سکیں۔
اسی لئے یہ کہنا بر محل ہے کہ خداوند اعلی کی معرفت ، انسان کے لئے کمال انسانی کا سب سے پہلا اور سب سے باعظمت ذریعہ ہے۔
کیوں؟
اس لئے کہ در اصل انسان کا عروج و کمال، اس کے رب و معبود حقیقی کی عبادت و بندگی میں مضمر ہے اور وہ معرفت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
جب اللہ رب العزت کی شناخت و معرفت اتنی ضروری اور اہم ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے کیسے حاصل کریں اور اسے پانے کے ذریعے اور راستے کیا ہیں ؟
چونکہ یہ سوال بہت اہم ہے اس لئے اس کے جواب کے طور پر اس مقالہ میں حصول معرفت کے کچھ اہم ذریعے اور راستے بیان کئے جارہے ہیں:
1۔ تعقل اور غور و فکر:
خداوند متعال کی معرفت حاصل کرنے کا ایک اہم راستہ "تعقل اور غور و فکر " کرنا ہے اور قرآن حکیم نے ہمیں عقل و شعور اور غور و فکر سے کام لینے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے، اتنی زیادہ تاکید، کہ عقل و شعور سے کام نہ لینے والے انسانوں کی اس طرح بشدت مذمت کی ہے:"اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الۡبُکۡمُ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ " (3)یقینا اللہ کے نزدیک تمام جانداروں سے برے وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل و شعور سے کام نہیں لیتے!!
لہٰذا ہمیں تمام مسائل و حقائق کی شناخت حاصل کرنے کے لئے تعقل اور غور و فکر سے ضرور کام لینا چاہیئے اور چونکہ معرفت الہی ہمارے لئے سب سے پہلا اور بڑا اہم مسئلہ ہےوہ بھی اتنا بڑا اور اہم کہ سرکار امیر المومنین علیہ السلام کے قول " اول الدین معرفتہ" (4) کے مطابق دین کی ابتدا اور پہل ہی اس باعظمت مسئلہ سے ہوتی ہے۔
لہذا اس کےحصول کے لئے ہمیں ضرور عقل و شعور اور غور و فکر سےکام لینا چاہیئے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معرفت الہی حاصل کرنے کے لئے آخر کس چیز میں غور و فکر کریں ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالی کی عظمتوں، قدرتوں، نعمتوں، رحمتوں، حکمتوں اور نشانیوں سے بھری اس کائنات میں غور و فکر کرنا ہے تاکہ اس عظیم کائنات کو پہچان کر ہم خالق کائنات کی معرفت تک پہنچ سکیں۔
قرآن حکیم کے علاوہ روایات میں بھی ہمیں اسی امر پر ابھارا گیا ہے، چونکہ ہم خداوند متعال کی ذات اقدس پر غور و فکر کر کے اسے پہچاننے کی قوت و صلاحیت نہیں رکھتے، اس لئے ہمیں اس سے روک کر اللہ عز و جل کی مخلوقات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ، جیساکہ سرکار رسالتمآب صلی اللہ سے منقول اس روایت میں آیا ہے :"۔۔۔و تفکرو فی خلق اللہ و لاتفکروا فی اللہ۔۔۔"(5)۔یعنی اللہ کے بارے میں غورو فکر نہ کرو ، بلکہ اللہ کی مخلوق کے بارے میں غور و فکر کرو۔
اسی ضمن میں ایک اور روایت حضرت امام صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل کی گئی ہے:إيّاكم والتفكّر في الله، فإنّ التفكّر في الله لا يزيد إلا تيهاً، إنّ الله عزّ وجلّ لا تدركه الأبصار ولا يوصف بمقدار(6) یعنی: اللہ کے سلسلہ میں غور و فکر کرنے سے بچو کیونکہ اللہ کے بارے میں غور و فکر کرنا، حیرت و سرگردانی میں اضافہ کرتا ہے، بلاشبہ اللہ عز و جل کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا اور کسی مقدار سے اس کی توصیف نہیں کی جا سکتی۔
حقیقت یہی ہے اس لئے ہمیں اپنے وحید و عظیم خالق کی شناخت و معرفت کے لئے اس کی مخلوقات و کائنات کو اپنی گہری توجہ، سوچ اور فکر کا مرکز قرار دینا چاہیئے، چونکہ یہ کائنات در اصل خالق کائنات کی معرفت کی ایسی کھلی کتاب ہے کہ جس کی ہر ہر سطر نور معرفت سے بھری ہوئی ہے۔
مثلاً اس کائنات میں :
یہ بلا ستون کا وسیع و عریض نہایت بلند و بالا خوبصورت نیلگوں آسمان اور اس کا دلکش تاروں بھرا شامیانہ اللہ کے لامحدود جمال و کمال اور حول و قدرت کی ایسی کھلی نشانی ہے کہ جو ہمیں اس کی عظیم قدرت و خلقت کی طرف حتمی طور پر متوجہ کرتی ہے بشرطیکہ ہم اسے غور و فکر کی نگاہ سے دیکھیں۔
یہ زمین کا فرش اللہ کی صناعیت و حکمت کے ہمراہ اس کی رزاقیت کی واضح علامت ہے چونکہ اس نے اس کی آغوش کو بہت سی غذاوں، طرح طرح کے خوبصورت پھولوں، متعدد پودوں اور پیڑوں، متنوع خوش ذائقہ رسیلے اور میٹھے پھلوں، قسم قسم کے حبوبات اور سبزیوں ، دسیوں بیسویں قسم کے قیمتی معدنیات اور دھاتوں اور مختلف نمکین ، شیریں اور تلخ پانیوں جیسی نہ جانے کتنی نعمتوں کا منبع اور سرچشمہ قرار دیا ہے۔
خود ہمارا یہ وجود خداوند حکیم کی بہترین تخلیق و تدبیر اور ظرافت و لطافت کے ہمراہ اس کے سب پر حاوی علم و کمال کی بڑی روشن آیت ہے۔
اور یہ موت و حیات کا جاری و ساری نظام ، اس کے عظیم تسلط و اقتدار کی عظیم علامت و نشانی ہے اور ان سب میں تفکر و تدبر بیشک معرفت الہی کا ایک آسان اور اہم راستہ ہے۔
2۔ انسانی نفس و وجود:
ہمارا یہ انسانی وجود فقط گوشت، خون اور ہڈیوں وغیرہ پر مشتمل چند فٹ کا ڈھانچہ نہیں ہے بلکہ حضرت خلاق کائنات عز شانہ کی صنعت و خلقت کا وہ عظیم شاہکار ہے کہ جسے سرکار مولا علی علیہ السلام نے "عالم اکبر" (7) سے تعبیر فرمایا ہے، پس اس عالم اکبر کے اندر غور و فکر کرنا بھی "خالق اکبر" کو پہچاننے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔
لہٰذا ہمیں اس نفس و وجود کی حسین و خوبصورت اور نہایت موزوں ساخت ، بناوٹ اور اس کے اندر موجود نزاکتوں ، ظرافتوں، باریکیوں، قوتوں اور صلاحیتوں پر بہت توجہ اور فکر کرنی چاہئے۔
آئیے اپنا اہم فرض سمجھتے ہوئے ہم مل کر ان میں سے کچھ قوتوں اور صلاحیتوں کے بارے میں تھوڑا سی توجہ اور غور و فکر کرتے ہیں:
الف۔ عقل و شعور اور آگہی کی قوت:
اس خالق کریم و حکیم نے ہمارے اس وجود کے اندر عقل و شعور اور فکر و آگہی کی وہ عظیم قوت رکھی ہے کہ آج بجلی، ٹیلیفون، موبائل، ہوائی طیاروں، آبی جہازوں، کمپیوٹر، انٹرنیت، سیٹ لائٹ، اے آئی اور ایٹمی ٹیکنا لوجی جیسی ان گنت حیرت انگیز ترقیاں اسی کی کار فرمائی کا نتیجہ ہیں۔
بلاشبہ آج اس دنیا میں علم ، فن ، ھنر، کمال، بلندی اور ترقی کی جتنی بھی رونق اور چہل پہل پائی جاتی ہے وہ سب خداوند قدیر و عظیم کی اسی عطا کردہ دولت "عقل و آگہی" کی بدولت ہے۔
سوچیں جب اس وجود کے اندر اللہ رب العزت کی بخشی ہوئی ایک قوت کا یہ کرشمہ ہے تو ساری قوتوں کے کتنے کثیر اور عظیم کرشمے ہوں گے۔
ب ۔ دیکھنے کی قوت:
ہماری یہ آنکھیں بھی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہیں۔
ان میں جہاں دیکھنے اور بیشمار لوگوں کی شکلوں اور لاتعداد خوشگوار و ناگوار منظروں، حادثوں اور واقعوں کو اپنے اندر قید کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے، وہیں پڑھنے ، لکھنے، اشارے، راز و نیاز، افہام و تفہیم، محبت و نفرت اور حلال و حرام انجام دینے کی قوت بھی پائی جاتی ہے۔
واقعاً اس نعمت کو جتنا ہم گہرائی کے ساتھ سوچ کر محسوس کرتے جائیں گے، اتنے ہی اپنے کریم و حکیم اور قدیر و علیم رب و پروردگار کی معرفت کے نورانی دریچے ہم پر وا ہوتے چلے جائیں گے۔
ج: سونگھنے کی قوت :
بلاشبہ ناک بھی خداوند مہربان کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔
ظاہری طور پر یہ انسانی جسم کا ایک چھوٹا ساجز ہے لیکن ہمارے چہرے کی خوبصورتی میں اس کا بھی بڑا رول ہے۔
ناک کا کام بیشمار طرح طرح کی خوشبووں کو محسوس کرکے ہمارے وجود کو فرحت و لذت فراہم کرنا اور اسی طرح
مختلف و متعدد چیزوں کی بدبووں کو محسوس کر کے ہمیں ان کے خطرات اور آزار و وبال سے بچانا ہے۔
اگر ناک یہ کام انجام نہ دے تو کیا ہم خطرناک قسم کے گیسوں ، زہریلی ہواوں ، سڑے گلے کھانوں اور گندے پانیوں کے ضرر کو محسوس کر سکتے ہیں؟
نہیں ہرگز نہیں، تو سوچئے یہ ناک کتنی عظیم شے ہے سبحان اللہ والحمد للہ و لا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔
اور فقط اس کا ایک یہی کام نہیں ہے بلکہ اس کا اس سے بڑا بنیادی اور حیاتی کام "سانس" لینا ہے۔
یہ در حقیقت انسانی نظام تنفس کا ہر وقت اور ہرحال میں کھلا رہنے والا وہ دروازہ ہے جو باہر کی مفید اور تازہ ہوا کو اندر لے جانے اور اندر کی ہوا کو باہر لانے کا عمل انجام دیتا ہے اور اس کے اسی عمل کو ہم "سانس" کہکر پکارتے ہیں۔
اور یہ سب جانتے ہیں کہ سانس کا آنا جانا ہی انسانی زندگی کی بقا کا ضامن ہے اور اسی کو ہمارے زندہ ہونے کی نمایاں علامت سمجھاجاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ناک ہماری زندگی کی حفاظت میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس لحاظ سے یہ ہمارے محافظ کی حیثیت رکھتی ہے۔
مگر افسوس کہ ہم خود اپنے جسم کے اندر اس اور اس کے جیسی موجود بہت سی عظیم نعمتوں سے غافل ہیں اور اسی غفلت کی وجہ سے اللہ تعالی کی نہایت اطمینان آور اور لذت بخش معرفت سے محروم ہیں اور معرفت کی محرومی کے سبب اپنے مہربان پروردگار کے عشق و محبت اور اس کی حقیقی عبادت و بندگی کے بے انتہا لذید اور خوشگوار ذائقہ سے محروم ہیں۔
د۔سننے کی قوت:
کان بھی اللہ تعالی کی بخشی ہوئی ایک عظیم نعمت ہے، یہ انسانی جسم کا ایک انتہائی حیرت انگیز اور پیچیدہ حصہ ہے۔
ہمارے پروردگار نے ان دوکانوں کے اندر تلخی اور کڑواہٹ رکھی ہے تاکہ چیوٹیاں اور کیڑے مکوڑے ان کے اندر داخل نہ ہو سکیں اور اگر داخل ہوں بھی تو کڑواہٹ کی وجہ سے ان کا کام تمام ہوجائے۔
کان ہزارہا آوازوں، لہجوں اور نغموں کو سننے اور انھیں پوری خصوصیتوں کے ساتھ حافظہ تک پہچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کان تمام صوتی و لسانی علوم، فنون، مکالمات، نغمات اور ترنمات وغیرہ کو سیکھنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔
کان ایک ایسا آلہ سماعت ہے کہ جس کی بنا پر ہم قادرالکلامی، فصاحت و بلاغت اور خوش بیانی کے جوہر دکھاتے ہیں، چونکہ اگر کان سماعت اور سننے کا کام انجام نہ دیں تو ہم میں کلام و بیان کی قدرت پیدا ہونا محال نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے، شاید اسی لئے اکثر و بیشتر جو بچپن سے گونگے ہوتے ہیں وہ بہرے بھی ہوتے ہیں۔
کان ہمارے احساسات و جذبات پر بھی گہرا اثر ڈالتےہیں، چونکہ جب یہ اچھی، سچی، لطیف اور محبت آمیز باتیں سنتے ہیں تو ہمارے وجود کو نشاط و انبساط سے بھر دیتے ہیں لیکن جب یہی کان بری، جھوٹی، غلیظ، کثیف اور نفرت انگیز باتیں سنتے ہیں تو ہماری طبیعت کو رنج وغم میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ کان فقط آلہ سماعت ہی نہیں ہے بلکہ آلہ سعادت و شقاوت بھی ہے، چونکہ بہت سے افراد حق و صدق پر مشتمل باتیں سن کر ہدایت و سعادت حاصل کرلیتے ہیں اور بہت سے لوگ ناحق اور باطل مگر بظاہر خوشنما باتیں سن کر ضلالت و شقاوت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
انھیں کانوں سے ہم نشر ہونے والی قرآن حکیم کی تلاوت ، نہج البلاغہ کی وضاحت اور صحیفہ سجادیہ کی دعائیہ صراحت بھی سماعت کرسکتے ہیں اور لہو، لعب، گانے بجانے اور تہمت و غیبت جیسی حرام چیزیں بھی۔
ھ۔ بولنے کی قوت:
زبان بظاہر ہمارے منھ کے اندر رہنے والا خالص گوشت کا ایک لوتھرا ہے لیکن یہ ہمارے جسم میں پائے جانے والے دوسرے گوشت کے لوتھروں سے بہت مختلف ہے، چونکہ اس کے علاوہ گوشت کےکسی بھی لوتھرے میں وہ خوبیاں نہیں پائی جاتیں جو اس کے اندر پائی جاتی ہیں۔
اس کی چند خوبیاں یہ ہیں:
الف۔خوش کلامی و شیریں بیانی:
خداوند لطیف و حکیم نے زبان کو یہ قوت و صلاحیت اور خوبی عنایت کی ہے کہ اس کے ذریعہ ہر انسان اپنے مافی الضمیر کو کھل کر بیان کر سکتا ہے یعنی یہ انسانی نظریات، تصورات، افکار، خیالات، نفسیات، احساسات، جذبات، کیفیات، حالات، واقعات اور معلومات کی ترجمانی کا بہترین ذریعہ ہے، اس کے ذریعہ انسانی علوم و افکار اور بشری فنون و معلومات کو دوسروں تک پہنچانا کتابوں اور تحریروں وغیرہ کے بالمقابل زیادہ آسان، موثر، مفید اور جذاب و دلنشین ہوتا ہے۔
اس میں دو رائے نہیں ہے کہ جب گوشت کا یہ لوتھرا اپنی خوش کلامی اور شیریں بیانی کے جوہر دکھاتا ہے تو بڑے بڑے سنگ دلوں کے دل پگھلا دیتا ہے اور بڑے بڑے فولادی جگروں کو پانی بنا دیتا ہے۔
ب۔سخت کلامی اور تلخ بیانی:
بلاشبہ خالص گوشت کا یہ لوتھرا بہت مفید و موثر بھی ہے اور نہایت مضر اور خطرناک بھی۔
چونکہ زبان کو فقط قینچی کی طرح چلنا ہی نہیں آتا بلکہ اس کی طرح کاٹنا بھی آتا ہے، البتہ اس کی کاٹ کبھی درست ہوتی ہے اور کبھی نہایت نادرست اور بے جا۔
چونکہ یہ اپنی تلخ و تیز دھار سے بروں کے کلیجے بھی کاٹتی ہے اور اچھوں کے جگر بھی اور ظاہر ہے اچھوں کے جگر کاٹنا نہایت غلط لیکن بدکاروں کے کلیجے ان کی بدی کی وجہ سے کاٹنا کبھی کبھی نہایت اچھا اور ضروری عمل ہوتا ہے۔
اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ قینچی کی طرح چلنے اور کاٹنے والی اس زبان کی چال اور کاٹ زیادہ تر عدل و انصاف کی رعایت نہیں کرتی، شاید اسی لئے اسلامی روایات میں اس کی تعریف کم اور مذمت زیادہ بیان ہوئی ہے۔
ج۔ذائقہ شناسی:
زبان فقط خوش قولی کی سنہری کلید، شیریں بیانی کا شفاف دریا اور تلخ کلامی کی تیز دھار قینچی ہی نہیں ہے بلکہ ذائقہ شناسی کی ایک حیرت انگیز تجربہ گاہ بھی ہے۔
یہ کھانوں، پھلوں اور شربتوں کی مٹھاس، کٹھاس، نمکینی، اورکرواہٹ وغیرہ کو فقط محسوس نہیں کرتی بلکہ ان کی کمی، زیادتی اور اعتدال کو بھی پرکھ لیتی ہے، اسی لئے مناسب مٹھاس، کٹھاس اور نمکینیت سے ہمیں پورےطور پر محظوظ کرتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ان قوتوں کے علاوہ اور قوتیں بھی ہمارے انسانی وجود میں پائی جاتی ہیں کہ ان کا تذکرہ بھی بلاشبہ ہمیں ہمارے رئوف و مہربان پرورگار کی معرفت کی طرف متوجہ کرتا ہے، لیکن ان سب کو بیان کرنا یہاں مقدور نہیں ہے۔
لیکن ہم سب یہ فکر کر سکتے ہیں کہ جب اس کے اندر پائی جانے والی سوچنے، بولنے، دیکھنے، سونگھنے اور سننےکی قوتیں اتنی گرانقدر ہیں (کہ ان میں سے اگر کوئی کسی وجہ سے ضعیف، علیل یا بیکار ہوجائے تو اس کے علاج پر لاکھوں روپیئے خرچ ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھی ویسی قوت واپس نہیں آتی جیسی اللہ تعالی نے عنایت فرمائی تھی) تو پھر۔ طرح طرح کی کثیر قوتوں سے لبریز یہ پورا وجود کتنا قیمتی ہوگا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہمیں اللہ عز و جل کی کبریائی، بزرگواری، رحمت، رافت اور قدرت کے ہمراہ عظیم نوازش و فیاضی کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
امید ہے کہ ہمارے معزز قارئین اسی زاویہ سےخود اپنے وجود اور اس کے اندر پائی جانے والی غیر معمولی نزاکتوں اور ظرافتوں میں غور و فکر کرکے خداوند متعال کی ذات اقدس سے متعلق اپنی شناخت و معرفت میں اضافہ ضرور فرمائیں گے۔
3۔قرآن و اھل بیت کی ہدایات و تعلیمات:
درحقیقت معرفت الہی کے حوالہ سے علما، عرفا اور اسلامی متفکرین وغیرہ جو بھی بیان کرتے ہیں، وہ زیادہ تر قرآن حکیم اور حضرات محمد و آل محمد علیہم السلام کی ہدایات و تعلیمات ہی سے ماخوذ ہوتا ہے۔
البتہ قرآن حکیم نے معرفت الہی سے متعلق ہماری بنیادی رہنمائی اس طرح فرمائی ہے:
"لیس کمثلہ شی، و ھوالسمیع البصیر"(8)۔
کوئی شے اور کوئی وجود اس کے جیسا نہیں ہے اور وہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔
توجہ رہے کہ قرآن مجید نے معرفت الہی کا دروازہ کھولتے ہوئے اس آیہ کریمہ میں دو لطیف و ظریف نکتوں کی طرف اشارہ کیا ہے:
الف۔ تنزیہ: یعنی خداوند احد بے مثل و بے نظیر ہے اور ہر شے اور وجود سے بالاتر ہے، کوئی بھی ذات و صفات کے اعتبار سے اس کے جیسا نہیں ہے، وہ مستقل بالذات اور واجب الوجود ہے اور بلا استثناء تمامتر موجودات و مخلوقات ممکن الوجود یعنی اس کی خلق کی ہوئی ہیں۔
ب۔تثبیت: یعنی اللہ عز وجل ایسا زندہ حاضر اور غنی ہے جو خوب سنتا اور دیکھتا ہے مگر سننے کے لئے کان اور دیکھنے کے لئے آنکھ کا محتاج نہیں ہے چونکہ وہ کسی بھی اعتبار سے ہمارے جیسا نہیں ہے۔
اس آیہ کریمہ سے ایک عرفانی مطلب یہ بھی سامنے آتا ہے کہ جب کوئی شے اور مخلوق اس کے جیسی نہیں ہے تو اسے پہچاننے کا طریقہ بھی مخلوق کو پہچاننے کے عام طریقہ جیسا نہیں ہے، چونکہ عام طور سے مخلوقات کو آنکھوں سے دیکھ کر پہچانا جاتا ہے جبکہ حضرت خلاق کائنات عز اسمہ کےحوالہ سے سرور عترت و اھل بیت نبوت، امام الموحدین مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
"لَا تُدْرِكُهُ الْعُيُونُ بِمُشَاهَدَةِ الْعِيَانِ، وَلَكِنْ تُدْرِكُهُ الْقُلُوبُ بِحَقَائِقِ الْإِيمَانِ"(9)
اسے(خداوند متعال کو) آنکھیں ظاہری مشاہدہ سے نہیں پا سکتیں، لیکن دل اسے ایمان کی حقیقتوں کے ذریعہ پا لیتے ہیں۔
یعنی ہم جیسی مخلوقات و موجودات کو سر کی آنکھوں سے دیکھا اور پہچانا جاسکتا ہے لیکن خداوند وحید و لطیف کو اگر کوئی دیکھنا اور پہچاننا چاہتا ہے تو ان آنکھوں کے بجائے اسے قلب و دل کی آنکھوں کا سہارا لینا ہوگا۔
آخرکلام میں رب العالمین سے عاجزانہ دعا ہے کہ وہ خود اپنے بے نہایت لطف و کرم سے ہم سب کو اپنی زیادہ سے زیادہ معرفت، محبت اور طاعت و عبادت کی گرانقدر سوغات عنایت فرمائے۔آمین۔
حوالہ جات:
1۔قرآن حکیم ، پارہ 27 ، سورہ ذاریات، آیت 56۔
2۔ فیض کاشانی، تفسیر صافی ، ج 5، ص 345۔
3۔ قرآن حکیم ، پارہ 9 ، سورہ انفال ، آیت 22۔
4۔ سید رضی، نہج البلاغہ ، خطبہ اول۔
5۔محمد باقر مجلسی ، بحارالانوار ، ج54 ، ح 43 ، ص 384۔
6۔شیخ صدوق، ، الأمالي، مجلس 65، حدیث 3، ص 503۔
7۔ سيد محسن امين عاملي، أعيان الشيعة، ج 14، ص 552۔
8۔ قرآن حکیم، پارہ 25، سورہ شوری، آیت 11۔
9۔ سید رضی، نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 179۔










آپ کا تبصرہ