بدھ 14 اکتوبر 2026 - 14:14
حضرت زینب کبریٰ (س) محراب عبادت سے میدان استقامت تک

حوزہ/کیا کہنا بی بی کی اس نورانی حیات کا جو ابتدا سے لے کر انتہا تک دین و شریعت کی تمامتر اعتقادی و ایمانی اور عملی تجلیوں سے جگماتی ہوئی نظر آتی ہے البتہ ان تجلیوں کے درمیان تجلئ "عبادت و استقامت" ایسی تجلی ہےجو زیادہ نمایاں طور پرجلوہ افشانی کرتی دکھائی دیتی ہے۔

تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی

حوزہ نیوز ایجنسی |

خداوند ذوالجلال کی جلیل القدر کنیز، افضل المرسلین کی طیب و طاہر بیٹی، امیرالمومنین کی نجیب و شریف نور نظر، شہزادی جنت کی مایہ ناز یادگار اور حسنین کریمین کی معین و مددگار اور شیردل بہن عقیلہ بنی ہاشم ، مبلغ و مفسر نہضت حسینی حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کی دین و ایمان، معرفت و عقیدت، طاعت و عبادت، صبر و شجاعت اور جہاد و استقامت جیسی اعلی قدروں سے مزین و منور زندگی میں آج بھی کاروان آنسانیت کو عز و شرف اور سعادت و نجات کے راستہ کی طرف ہدایت و راہنمائی کرنے کی پوری پوری قوت پائی جاتی ہے۔

کیا کہنا بی بی کی اس نورانی حیات کا جو ابتدا سے لے کر انتہا تک دین و شریعت کی تمامتر اعتقادی و ایمانی اور عملی تجلیوں سے جگماتی ہوئی نظر آتی ہے البتہ ان تجلیوں کے درمیان تجلئ "عبادت و استقامت" ایسی تجلی ہےجو زیادہ نمایاں طور پرجلوہ افشانی کرتی دکھائی دیتی ہے۔

شہزادی کربلا اور عبادت و بندگی:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کوئی بھی اللہ رب العزت کے تقرب اور اس کی رضا و خوشنودی کو اس کی عبادت و بندگی کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا۔

حقیقت یہی ہے کہ جو بھی اس کائنات میں کسی الہی و معنوی مقام و مرتبہ تک پہچا ہے وہ معبود برحق کی خالصانہ عبادت و بندگی ہی کی وجہ سے پہچا ہے۔

البتہ عبادت و بندگی فقط چند رکعت نماز پڑھنے اور کچھ روزے رکھ لینے تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک نہایت وسیع مفہوم اور عمل کا نام ہے کہ جو نہایت تذلل اور خضوع کے ساتھ اللہ تعالی کی بے چون و چرا اطاعت کرنے سے عبارت ہے۔

یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ جس باعظمت گھرانے میں بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے آنکھیں کھولی تھیں اس کی ہوا و فضا عبادت و بندگئ الہی کی جانفزا خوشبو سے ہمیشہ معطر رہتی تھی۔

اس مقدس گھر میں اس رسول کی شب و روز آمد و رفت رہتی تھی جس کی عبادت و بندگی کا یہ عالم تھا کہ خود معبود برحق نے اسے خطاب کر کے فرمایا تھا:

"یایھا المزمل قم اللیل الا قلیلا "(1)۔

اے چادر اوڑھنے والے رات میں( عبادت و نماز) کے لئے قیام کریں مگر کچھ کم"۔

یہ گھر اسی علی کا گھر تھا جس کی خندق کے دن عمرو ابن عبد ود کے سر پہ پڑنے والی ایک ضربت کو اللہ کے رسول نے جن و انس کی عبادت سے افضل و برتر بتایا(2) فقط یہی نہیں بلکہ احادیث نبوی نے اس کے چہرہ کی طرف دیکھنا (3) اس کی محبت دل میں رکھنا(4) اور اسے یاد کرنا بھی عبادت قرار دیا ہے(5)۔

یہ گھر اسی بضة الرسول کا گھر تھا جسے محراب میں معبود برحق کی عبادت و بندگی میں غرق دیکھ کر ستر ہزار مقرب فرشتے سلام کرنے کے لئے حاضر ہوتے تھے(6)۔

یہ گھر اسی حسن کا گھر تھا جس کے حسن عبادت و بندگی کی وجہ سے اسے"اعبد الناس فی زمانہ" اس کے زمانہ کا سب سے بڑا عبادت گزار کہا جاتا تھا۔(7)

اور یہ گھر اسی حسین کا گھر تھا جس کی عبادت و بندگی کے سلسلہ میں دشمن کا یہ اعتراف موجود ہے:

"وَاللَّهِ لَقَدْ قَتَلُوهُ، وَإِنَّهُ لَقَوَّامٌ بِاللَّيْلِ، صَوَّامٌ بِالنَّهَارِ"(8)۔

قسم بخدا!! انھوں (یزیدی فوجیوں) نے انھیں (امام حسین) کو قتل کرڈالا حالانکہ وہ راتوں کو بہت زیادہ عبادت کرنے والے اور دنوں کو کثرت سے روزہ رکھنے والے تھے۔

سبحان اللہ جس بی بی نے ایسے عبادتوں سے معمور گھر میں نشو و نما پائی ہو اگر وہ قیامت خیز آلام و مصائب میں بھی اللہ رب العزت کے ذکر و شکر اور اس کی طاعت و بندگی میں غرق نظر آئے تو اس میں شک و حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔

توجہ ر ہے کہ بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی اپنے والدین گرامی اور باعظمت بھائیوں کی طرح شدید سختیوں اور مصیبتوں میں گزری ہے اس کے باوجود آپ ہر مقام پر الہی ذکر و شکر اور طاعت و بندگی کا مرقع بنی رہیں اور کمرشکن مرحلوں میں بھی الہی و دینی واجبات و فرائض کے ہمراہ مستحبات و مسنوتات کو بھی انجام دیتی رہیں۔

جیساکہ مورخین نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے :

"إنها صلوات الله عليها ما تركت تهجدها لله تعالى طول دهرها، حتى ليلة الحادي عشر من المحرم"(9)۔

بیشک ان بی بی صلوات اللہ علیہا نے زندگی میں کبھی نماز شب ترک نہیں فرمائی یہانتک کہ گیارہویں محرم کی رات (شام غریباں میں) بھی۔

خود حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے شب عاشورہ آپ کی ذکر اور عبادت میں گہری مشغولیت کا آنکھوں دیکھا حال اس طرح بیان فرمایا ہے:

"و اما عمتی زینب فانها لم تزل قائمه فی تلک الیله ای عاشره من المحرم فی محرابها تستضیث الی ربهاف و ماهدات لنا عین و لا سکنت لنا زخره(10)۔

میری پھوپھی زینب اس رات محراب میں مسلسل عبادت الہی کے لئے کھڑی رہیں اور اپنے پروردگار سے استغاثہ کرتی رہیں ، اس رات ہم میں سے کسی کو نیند نہیں آئی اور کسی کے نالہ و فریاد کی آواز منقطع نہیں ہوئی۔

یہ تو کربلا کے قیامت خیز اور مصائب لبریز دشت و جنگل کی بات تھی لیکن کوفہ و شام کے خطروں اور بے چینیوں سے بھرے راستوں میں شریکة الحسین بی بی زینب علیھما السلام کی طاعت و عبادت کی کیا کیفیت تھی اس کا بھی سرکار امام سجاد علیہ السلام ہی نے یوں اظہار فرمایا ہے:

"ان عمتی زینب کانت تودی صلواتها من قیام الفرائض و النوافل عند مسیرنا من الکوفة الی الشام، و فی بعض المنازل تصلی من جلوس لشده الجوع و الضعف منذ ثلاث لیال، لانها تقسم ما یصیبها من الطعام علی الاطفال، لان القوم کانوایدفعون لکل واحد منا رعنفا واحدا من الخبز فی الیوم واللیلہ"(11)۔

یعنی بلاشبہ میری پھوپھی زینب یوں تو تمام فریضہ و نافلہ نمازیں کوفہ و شام کے راستوں میں بھی کھڑی ہوکر ادا کرتی تھیں لیکن اثنائے سفر میں بعض مقامات پر شدید بھوک اور کمزوری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھتی تھیں، چونکہ تین راتوں سے ہمیں اتنا کم کھانا دیا جارہا تھا کہ وہ سارے کھانے کو بچوں میں تقسیم کر دیتی تھیں ، وہ لوگ ہم میں سے ہر ایک کو دن رات میں فقط ایک ایک روٹی دیتے تھے۔

ان روایتوں سے جہاں بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے شدید اہتمام طاعت و عبادت کا پتہ چلتا ہے وہیں آپ کے عظیم ایثار اور جذبہ صبر و استقامت کا بھی علم ہوتا ہے۔

بی بی زینب کی مثالی استقامت:

بچپن سے لے کر آخر حیات تک بی بی نے ایسے دردناک حادثات و مصائب کا سامنا کیا ہے کہ ان میں سے چند اور بہت کم حادثے اگر ہم جیسوں کو پیش آجاتے تو اوسان خطا ہو جاتے اور قلب و جگر پھٹ کے رہ جاتے!!لیکن کیا کہنا اس شہزادی کا جس نے ہر مقام پر ایسی شہامت و استقامت سے کام لیا ہے کہ حضرت زھرا سلام اللہ علیہا کا سراپا سامنے آگیا اسی لئے تو آج بھی انھیں بصد احترام و ادب " ثانئ زھرا" کے باعظمت لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

مدینہ ہو یا مکہ ، کربلا ہو یا کوفہ و شام ہر جگہ آپ نے علوی و فاطمی شہامت اور حسنی و حسینی غیرت و استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، فقط یہی نہیں بلکہ دین و شریعت کی حفظ و بقا کی راہ میں پیش آنے والی ہر شدت و سختی اور بلا و مصیبت کو نعمت و رحمت اور "حسن و جمال" سے تعبیر فرمایا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کربلا ، کوفہ اور شام میں سفیر و مبلغ قیام کربلا زینب عالی مقام کو اپنے بھائیوں، بھتیجوں، عزیزوں اور چاہنے والوں کے ساتھ ایسے المناک حادثات و مصائب سے گزرنا پڑا ہے کہ جن کا تصور ہی انسان کے وجود میں لرزہ پیدا کردیتا ہے، لیکن شہزادی کے پختہ عزم و ثبات ، قوی ایمان و اعتقاد اور علوی و حسینی جذبہ استقامت نے ہجوم آلام و مصائب کو آپ کی الہی و دینی اور ایمانی و انسانی ذمہ داریوں پر غالب نہیں آنے دیا۔

یہی تو وجہ ہے کہ جب کوفہ میں وہاں کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حرم کو یزیدی درندوں کی حراست و اسارت میں دیکھ کر بے تحاشا رو رہے تھے تو آپ نے ان کی نا اھلی، بزدلی ، بے حیائی اور نصرت و حمایت حق سے روگردانی پر انھیں مجرم قرار دیتے ہوئے اتنا جھنجھوڑا کہ ان کے پاس اپنے نفسوں کو کوسنے اور ملامت کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا۔

کوفہ کے مجمع عام میں آپ نے علوی و حیدری شجاعت و شہامت اور فاطمی سوز و حرارت سے لبریز ایسا خطبہ دیا ہے جو اہل کوفہ بلکہ ہم سب کو منزل محاسبہ میں کھڑا لاکر اس حقیقت کو ہمارے ذہنوں میں راسخ کرنا چاہتا ہے کہ:

حق کی نصرت و حمایت فقط عشق و محبت کے دعوے کرنے، آنسو بہانے، ماتم کرنے اور نعرے لگانے نہیں ہوتی بلکہ ان سب کے ہمراہ باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے کھلی بیزاری و بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے میدان عمل میں اترنے سے ہوتی ہے۔

اس کے بعد حالت بیکسی و اسیری میں جب آپ کو دربار ابن زیاد میں لے جایا گیا اور اس دشمن خدا نے آپ کی تحقیر یہ کہکر کرنا چاہی کہ:

"اللہ نے تم لوگوں کو رسوا کیا اور تمہاری بات کو جھوٹا ثابت کیا" تو آپ نے ایسے پر خطر ماحول میں سہمنے یا ڈرنے کے بجائے بڑی شہامت و استقامت کے ساتھ یہ جواب دیا:

"إِنَّمَا يَفْتَضِحُ الْفَاسِقُ، وَيَكْذِبُ الْفَاجِرُ، وَهُوَ غَيْرُنَا"(12)

فقط فاسق ذلیل و رسوا ہوتا ہے اور فاجر و بدکردار جھوٹ بولتا ہے اور وہ ہم نہیں بلکہ ہمارا غیر اور مخالف ہے۔

اس کے بعد ملعون ابن زیاد نے طعن و طنز کے لہجہ میں بی بی سے یہ سوال کیا:

"كَيْفَ رَأَيْتِ صُنْعَ اللَّهِ بِأَخِيكِ وَأَهْلِ بَيْتِكِ"؟(13)۔

تم نے اپنے بھائی اور اہل بیت کے ساتھ اللہ کا سلوک کیسا دیکھا؟

شہزادی نے اللہ تعالی کی معرفت و محبت میں غرق ہوکر نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا:

"ما رایت الا جمیلا" (14)۔

میں نے تو اللہ کی طرف سے خیر اور حسن و جمال کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔

صرف کوفہ کے بازار و دربار ہی نہیں بلکہ شام اور دمشق کے خون آشام بازار و دربار بھی ثانئ زھرا سلام اللہ علیہا کو ان کے الہی و دینی عزم و ثبات ، نبوی و علوی صداقت و شجاعت اور فاطمی و حسینی جوش و حرارت سے بھرے باطل و استبداد شکن خطابات و مبارزات کو دیکھ کر داد شہامت و استقامت دینے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں اور ان کا یہی عظیم الشان جذبہ شہامت و استقامت ہمیں آیہ"إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ" (15) سے بھی خراج تحسین وصول کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

سلام اللہ علیھا یوم ولدت و یوم ارتحلت و یوم تبعث حیة.

حوالہ جات

1۔ قرآن حکیم ، پارہ 29، سورہ مزمل ، آیت 1۔

2۔ حاکم نیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین، جلد 3، ص 34۔

3۔ طبرانی، المعجم الکبیر،ج 10، ص 93، ح 10006۔

4۔محمد طبري، بشارة المصطفى لشيعة المرتضى، ج ۲، ص ۱۴۱–۱۴۲۔

5۔ ابن مغازلی، مناقب علي، ص268، ح 243۔

6۔ محمد باقر مجلسی ، بحار الأنوار، جلد 37، ص 87۔

7۔ شیخ صدوق ، الامالی، حدیث نمبر: 262، مجلس نمبر 10

ص: 244۔

8۔ ابن جریر طبری، تاریخ الرسل والملوک، جلد 4، ص364، واقعات سنہ 61ھ۔

9۔ شیخ جعفر النقدی، زینب الکبری، ص 63۔

10۔ محمد بن جعفر ابن نما حلی، مثیر الأحزان، ص 56۔

11۔ محمد مہدی حائری، شجرة طوبى، جلد 2، ص 393۔

12۔ سید ابن طاوس، اللهوف في قتلى الطفوف، ص 86۔

13۔ حوالہ سابق۔

14۔ حوالہ سابق

15۔ قرآن حکیم، پارہ 24، سورہ فصلت ، آیت30۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha