تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی
حوزہ نیوز ایجنسی| محاسبہ نفس ایک ایسی دینی و اسلامی تعلیم و ہدایت ہے کہ جسے عقل و شعور بھی ضروری سمجھتے ہیں اور وہ بھی قرآن و اھل بیت طاہرین علیہم السلام کی طرح اس کا تقاضا کرتے ہیں۔
محاسبہ نفس کی تعریف
اپنے اعمال کی جانچ پڑتال اور ان کا نہایت توجہ کے ساتھ حساب و کتاب کرنا " محاسبہ نفس" کہلاتا ہے اور اس کی ایک جامع تعریف ہمارے معتبر عالم اخلاق ملا محمد مہدی نراقی علیہ الرحمہ نے فرمائی ہے جسے ان کے دانشمند بیٹے علامہ احمد نراقی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب میں اس طرح تحریر کیا ہے:
محاسبہ نفس یہ ہے کہ انسان روزانہ ایک وقت معین کرے کہ جس میں اپنے نفس کا حساب و کتاب کرتے ہوئے طاعات و عبادات اور ذنوب و معاصی کا موازنہ کرے، اگر نفس کو قصور وار پائے تو اسے عتاب و سرزنش کرے ورنہ شکر پروردگار بجالائے۔(1)
محاسبہ نفس کے فائدے
محاسبہ نفس کے کم از کم چار عظیم فائدے واضح انداز میں ہمارے سامنے آتے ہیں:
1۔پروردگار کا شکر و سپاس:
آپ جانتے ہیں کہ محاسبہ نفس کرنے والے کو یہ حکم ہے کہ اپنے نیک اعمال کا مشاھدہ کرے تو شکر پروردگار بجائے لائے۔
ظاہر ہے اسے جب ہر روز محاسبہ نفس کرنا ہے تو ہر روز اللہ تعالی کا شکر بھی بجالانا ہے اور یہ بہت بڑی سعادت ہے، چونکہ وہ اس طرح ناشکری کے شدید عذاب سے دور ہوکر شکر گزاری کی عظیم برکتوں اور رحمتوں سے فیضاب ہو سکتا ہے۔
2۔ توبہ و استغفار:
اسے یہ بھی حکم ہے کہ اپنے اعمال کی جانچ پڑتال کرتے وقت جب برائیاں اور نافرمانیاں دیکھے تو اپنے آپ کو عتاب و سرزنش کرے یعنی خود کو قصور وار و خطا کار ٹھہرا کر اپنے خالق و مالک اللہ رب العزت سے نہایت شرمندگی کے ساتھ معافی مانگے اور سچے دل سے استغفار اور توبہ کرے۔
اس طرح اسے ہردن توبہ و استغفار کی توفیق حاصل ہو گی جو اس کی دنیوی و اخروی فلاح و کامیابی کے حوالہ سے نہایت گرانقدر شے ہے۔
3۔ دوسروں کی عیب جوئی اور بدگوئی سے نجات:
محاسبہ نفس کرنے والا جب پابندی اور توجہ کے ساتھ روز یہ نہایت مفید و مبارک عمل انجام دے گا تو یہ مشغولیت یعنی اپنے عیبوں اور گناہوں کی طرف توجہ اور ان پر ندامت و شرمندگی کا احساس اسے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے اور ان کی غیبت و بدگوئی کرنے سے باز رکھے گا۔
4۔طہارت و پاکیزگی:
محاسبہ نفس کے نتیجہ میں جب ہم روز اپنے پروردگار کا شکر بجالانے اور اس کی بارگاہ اقدس میں توبہ و استغفار کرنے کے عادی بن جاتے ہیں تو اس سے ہمارے نفس کے اندر ایسی طہارت و پاکیزگی پیدا ہوتی ہے کہ جس کے معنوی کیف و احساس کو لفظوں میں بیان کرنا بہت مشکل کام ہے۔
قرآن حکیم اور محاسبہ نفس
قرآن حکیم کی ایسی بہت سی آیتیں ہیں کہ جن سے محاسبہ نفس کی تعلیم و ھدایت حاصل کی جا سکتی اور اس عمل کی ضرورت اور عظمت و اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن یہاں فقط تین آیتیں پیش کی جا رہی ہیں:
پہلی آیہ کریمہ:
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ۔(2)
ترجمہ : پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔
اس آیہ کریمہ سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالی کے یہاں ہمارے تمام اعمال و افعال کا مکمل حساب و کتاب ثبت و ضبط کیا جا رہا ہے۔
جب مسئلہ اتنا اہم ہے تو کیا ہمیں اپنے اعمال و افعال کی جانچ پڑتال اور ان کا حساب و کتاب پوری شدت و قوت کے ساتھ نہیں کرنا چاہیئے۔
چونکہ بات صرف گناہان صغیرہ و کبیرہ کی نہیں ہے بلکہ ذرے ذرے کے حساب و کتاب کی ہے۔
واقعاً قانون عدالت پروردگار بہت سخت ہے لیکن عین حق ہے۔
اللہ بہت رحم فرمائے ہم پر اور ہر روز ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی توفیق دے۔
دوسری آیہ کریمہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔(3)
ترجمہ: اے وہ لوگو! جو ایمان لاچکے ہو، اللہ سے ڈرور اور ہر ایک نفس کو چاہیئے کہ وہ نظر کرے کہ اس نے آگے کل (قیامت) کے لئے کیا بھیجا ہے اور تم سب اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ خوب آگاہ و باخبر ہے اس سے جو تم انجام دیتے پو۔
اس آیہ کریمہ میں اہل ایمان سے تین اہم باتیں کہی گئی ہیں:
1۔تقوائے الہی:
یعنی اللہ رب العزت کی بزرگی، عظمت اور کبریائی سے ڈرتے رہو اس طرح کہ جس کام میں اس کی رضا و خوشنودی ہو اسے بجالاو اور جس عمل سے وہ ناراض و غضب ناک ہو ہرگز اس کے قریب نہ جاو۔
2۔عمل کا محاسبہ:
یعنی سختی کے ساتھ یہ چیک کرتے رہو کہ اپنے اعمال و افعال کی شکل میں قبر و قیامت اور حشر و آخرت کے لئے کیا بھیج رہے رہو خیر و ثواب یا وبال و عذاب ؟ چونکہ ہر نیک عمل، سفر آخرت کے لئے زاد خیر ہے اور ہر برا عمل اس سفر کے لئے توشہ شر و آفت ہے۔
3۔ جواب دہی کی تیاری:
یعنی یہ یقین رکھیں کہ خداوند علیم و خبیر کا علم تمام موجودات و مخلوقات اور کائنات پر محیط ہے۔
اس لئے وہ ہمارے تمامتر تصورات، افکار، احساسات، جذبات، اقوال اور اعمال و افعال سے پوری طرح واقف ہے اور ہم میں کسی کی کوئی نیت کوئی ارادہ کوئی تصور کوئی خیال کوئی گمان کوئی احساس کوئی قول اور کوئی فعل و عمل ایسا نہیں ہے جس سے وہ مکمل طور پر آگاہ و باخبر نہ ہو۔
جب ایسا ہے کہ یقیناً ایسا ہی ہے تو اس کی بارگاہ اقدس میں اپنے تمام غلط اعمال اور برے افعال کا جواب دینے کے لئے تیار رہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس قہار وجبار پروردگار کی بارگاہ اقدس میں جوابدہی بہت ہولناک شے ہے اتنی ہولناک کہ اس کی شدت و سختی کا اگر انسان احساس کرلے تو کم از کم محاسبہ نفس کا پابند بنے بغیر نہیں رہے گا۔
تیسری آیہ کریمہ:
اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا(4)۔
ترجمہ: پڑھ اپنے نامہ اعمال کو کہ آج تیرا نفس ہی تیرے حساب و کتاب کے لئے کافی ہے۔
خدا نخواستہ اگر کوئی خداوند متعال، انبیا و مرسلین، ائمہ طاھرین علیہم السلام اور عقل و نفس لوامہ کی ہدایات و تاکیدات کے باوجود اس دنیا میں محاسبہ نفس نہ کرے یہانتک کہ یہاں سے چل بسے تو قصہ تمام نہیں ہوگا بلکہ اسے بارگاہ الہی میں کھڑے ہوکر روز قیامت اپنا حساب و کتاب کرنا ہوگا اور اس بارگاہ کی بے پناہ ھیبت کی وجہ سے وہاں یہ نفس فیصلہ کرنے میں کسی قسم کے بے جا بہانے اور جھوٹے عذر سے ہرگز کام نہیں لے گا۔
البتہ وہاں حساب و کتاب کرنا بہت ہی زیادہ سخت و شدید ہوگا اور برائیوں اور گناہوں پر پچھتانے اور گڑگڑا کر توبہ و استغفار کرنے کا وہاں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، چونکہ آخرت دار جزاو سزا ہے دار کار و عمل نہیں۔
احادیث اھل بیت اور محاسبہ نفس
امامیہ ذخیرہ احادیث میں متعدد حدیثیں اور روایتیں محاسبہ نفس سے متعلق موجود ہیں لیکن ہم خوف طوالت کی وجہ سے یہاں فقط چند روایتوں پر اکتفا کر رہے ہیں:
پہلی روایت:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم:
حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا، وَزِنُوهَا قَبْلَ أَنْ تُوزَنُوا، وَتَجَهَّزُوا لِلْعَرْضِ الْأَكْبَرِ(5)۔
سرکار رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد مبارک ہے:
تم اپنے نفسوں کا حساب و کتاب کرو اس سے پہلے کہ حساب و کتاب کیا جائے اور تم ان کو تولو اس سے پہلے کہ تولا جائے اور اپنے کو بڑی پیشی کے لئے تیار کرو۔
اس روایت سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنے اعمال و افعال کو سامنے رکھ کر عقل و انصاف سے کام لیتے ہوئے خود ان کی جانچ پڑتال کرنی چاہیئے۔
اگر عوام، دوست، احباب اور رشتہ دار اس کے اعمال و کردار کی تعریفیں کریں تو اسے خوش اور مطمئن ہوکر اپنے کو دودھ کا دھلا ہوا نہیں سمجھنا چاہیئے اور اگر وہ برائیاں کریں تو بھی اپنے کو بالکل بدکردار سمجھ کر سماج کا فالتو حصہ نہیں سمجھنا چاہیئے بلکہ دونوں صورتوں میں اپنے نفس کا جج خود اپنے آپ کو قرار دینا چاہیئے اور ہواو ہوس سے دور ہوکر خود اپنے کردار و اخلاق کا جائزہ لینا چاہیئے چونکہ دوسروں کے بالمقابل ہر انسان اپنے نفس کو زیادہ بہتر جانتا اور پہچانتا ہے" بل الانسان علی نفسه بصيرة"(6).
دوسری روایت :
قال مولانا امیر المومنین علیہ السلام :
مَا مِنْ يَوْمٍ يَمُرُّ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا قَالَ لَهُ ذَلِكَ الْيَوْمُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَنَا يَوْمٌ جَدِيدٌ، وَأَنَا عَلَيْكَ شَهِيدٌ، فَقُلْ فِيَّ خَيْرًا، وَاعْمَلْ فِيَّ خَيْرًا، أَشْهَدْ لَكَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَإِنَّكَ لَنْ تَرَانِي بَعْدَهُ أَبَدًا.(7)
حضرت مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
کوئی دن فرزند آدم پر ایسا نہیں گزرتا جو اس سے یہ نہ کہتا ہو :
اے فرزند آدم !! میں نیا دن ہوں اور میں تیرا مخالف گواہ ہوں پس میرے اندر نیک گفتگو کر اور نیک عمل انجام دے تاکہ روز قیامت تیرے حق میں گواہی دے سکوں چونکہ اس کے بعد تو مجھے کبھی نہیں دیکھے گا۔
اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ ہر آنے والے دن کو بہت سوچ سمجھ کر گزارو، اسے گناہوں سے آلودہ نہ کرو بلکہ نیکیوں سے زینت دو چونکہ دن تو بہت بڑی بات ہے گزرا ہوا ایک لمحہ بھی کبھی واپس نہیں آئے گا۔
پس خیریت اسی میں ہے کہ انسان دین و شریعت کی کی ہوئی اس تاکید (محاسبہ نفس) پر پابندی کے ساتھ عمل کرے تاکہ اسے اس کے نتیجہ میں شکر گزاری اور توبہ و استغفار کی توفیق حاصل ہوتی رہے اور اس طرح وہ گناہوں کا کمر شکن بوجھ اٹھا کر قبر تک لے جانے سے بچ جائے۔
تیسری روایت :
قال امامنا الکاظم علیہ السلام :
لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُحَاسِبْ نَفْسَهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ، فَإِنْ عَمِلَ حَسَنًا اسْتَزَادَ اللَّهَ، وَإِنْ عَمِلَ سَيِّئًا اسْتَغْفَرَ اللَّهَ مِنْهُ وَتَابَ إِلَيْهِ۔(8)
حضرت امام کاظم علیہ السلام کا ارشاد مبارک ہے کہ:
ہم سے رشتہ و تعلق نہیں ہے اس کا جو ہر دن اپنے نفس کا حساب و کتاب نہ کرے۔
اگر اس نے نیکی کی ہو تو اللہ سے مزید توفیق طلب کرے، اور اگر برائی کی ہو تو اللہ سے اس کی معافی و مغفرت چاہے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرے۔
گویا اس مبارک روایت میں مولا نے محاسبہ نفس کا پورا طریقہ اور اس کا مقصد و فائدہ سب کچھ بیان فرما دیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ علامہ نراقی علیہ الرحمہ نے مولا علیہ السلام کے اسی ارشاد مبارک سے فیض حاصل کر کے محاسبہ نفس کی تعریف کی ہے۔
اس عظیم ارشاد سے یہ سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ محاسبہ نفس فقط ہر دن نیکیوں اور گناہوں کو شمار کر کے ان کی لسٹ اور فہرست تیار کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے مہربان پروردگار سے عاشقانہ تعلق و رابطہ برقرار کرنے کا نام ہے اس طرح کہ اگر محاسبہ کے وقت نیکیوں کی طرف متوجہ ہو تو ہر نیکی کو اس کی توفیق قرار دے کر دل، زبان اور عمل سے اس کا شکر بجا لائے چونکہ اس کی توفیق کے بغیر بندہ نیکی بجالانے میں کامیاب نہیں ہوتا اور اگر برائیوں کا مشاھدہ کرے تو ہر برائی کو اپنے نفس کا قصور سمجھے چونکہ اللہ رب العزت نہ کوئی برائی کرتا ہے اور نہ ہمارے برائی کرنے سے راضی ہوتا ہے وہ خود ہر برائی سے پاک و منزہ ہے اور ہمیں بھی ہر برائی سے دور اور پاک رہنے کی تاکید فرماتا ہے۔
محاسبہ نفس کا عملی طریقہ اور نمونہ:
وقت:
مثلا رات کے 11 بجے وضو کرنے کے بعد بستر پر لیٹ کر اس طرح اپنا حساب و کتاب شروع کریں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نیک کام :
کیا میں نے آج اپنے تمام واجب کاموں کو انجام دیا ہے:
حقوق اللہ :
مثلا کیا نماز پڑھی اور ہر نیک عمل اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے انجام دیا ہے یا تمام نیک کام قوم اور سماج میں عزت و شہرت حاصل کرنے کے لئے کئے ہیں؟۔
حقوق العباد:
آج میں نے اپنے ماں باپ، بیوی بچوں، رشتہ دا روں، پڑوسیوں اور اللہ کے دیگر بندوں کے ساتھ کیسا برتاو کیا؟
آج میں نے کسی کی غیبت تو نہیں کی؟
آج میں نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟
آج میں نے کوئی حرام کام یا گناہ کبیرہ تو نہیں کیا؟
وغیرہ۔۔۔
رزق و روزی:
آج میں نے جو کچھ کمایا وہ حلال طریقہ سے کمایا تھا یا حرام طریقہ سے؟
یعنی جھوٹ بول کر یا دھوکہ دے کر تو نہیں کمایا؟
آج میں نے جوکچھ کھایا اور کھلایا وہ پاک اور حلال تھا یا معاذاللہ حرام یا نجس؟
تین ضروری کام:
1۔ اللہ تعالی کا شکر و سپاس:
محاسبہ کرتے وقت جب متوجہ ہوں کہ آج سارے واجبات و فرائض انجام دیئے ہیں تو دل سے اللہ رب العزت کا شکر بجا لائیں اور اس سے مزید توفیقات کی دعا مانگیں۔
2۔ استغفار اور توبہ:
جب آج کئے ہوئے گناہوں اور برائیوں کی طرف متوجہ ہوں تو ان پر افسوس کرتے ہوئے دل سے پشیمان ہوکر خداوند مہربان سے معافی مانگیں اور اس کی بارگاہ اقدس میں حقیقی طور پر توبہ کریں۔
3۔ تدارک اور تلافی:
اگر ہم متوجہ ہوں کہ کسی مومن کا دل دکھایا ہے، یا غیبت و بدگوئی وغیرہ کر کے اس کی عزت پامال کی ہے تو مناسب وقت نکال کر اسے خوش کرنے، اس سے معافی مانگنے اور اس کی پامال کی ہوئی عزت سماج میں بحال کرنے کی کوشش کریں۔
البتہ اگر اس کا کوئی مالی نقصان کیا ہو تو معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اس کی بھرپائی بھی ضرور کریں۔
انتباہ:
توجہ رہے کہ محاسبہ نفس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان بے کیف و نشاط اور یاس و حسرت بھری زندگی گزارے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان غفلت سے نجات پاکر پوری بیداری کے ساتھ اپنے نفس کی اصلاح و ہدایت کرتا رہے تاکہ دنیا و آخرت کی سعادت و خوشبختی سے بہرہ مند ہو سکے۔
آخر میں حسن ختام کے طور پر بارگاہ قاضی الحاجات میں
یہ دعا کرتے ہیں:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ يُحَاسِبُونَ أَنْفُسَهُمْ قَبْلَ أَنْ يُحَاسَبُوا، ووفقنا لماتحب و ترضی واجعل عواقب امورنا خیرا و جنبنا من معاصیک و ادخلنا فی عبادک الشاکرین الصالحین بجاہ نبیک المصطفی و آلہ الطاھرین و صل علیھم اجمعین آمین یا رب العالمین۔
حوالہ جات
1۔ ملا احمد نراقی، معراج السعادہ، باب چہارم، فصل محاسبہ و مراقبہ۔
2۔ قرآن حکیم، پارہ 30، سورہ زلزال، آیت 7، 8۔
3۔ قرآن حکیم، پارہ 28، سورہ حشر، آیت18۔
4۔ قرآن حکیم، پارہ 15، سورہ اسراء، آیت 14۔
5۔حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج ۱۶، باب وجوب محاسبۃ النفس۔
6۔قرآن حکیم، پارہ 29، سورہ القیامہ، آیہ 14۔
7۔ وسائل الشیعہ، ج16، باب وجوب محاسبةالنفس، ص ۹۹۔
8۔محمد بن یعقوب الکلینی، الکافی، ج 2، صفحہ 453، ح 2۔










آپ کا تبصرہ