تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی
حوزہ نیوز ایجنسی| کفران نعمت ایک نہایت پست اور قابل نفرت صفت ہے جسے قرآن و سنت کے علاوہ عقل و فطرت بھی بہت بری نگاہ سے دیکھتی ہیں۔
کفران نعمت کسے کہتے ہیں؟
عالم اخلاق ملا احمد نراقی علیہ الرحمہ نے اس کی تعریف اس طرح فرمائی ہے:
کفران نعمت: نعمت کو نہ پہچاننے، اس سے خوش نہ ہونے اور اسے اس جگہ استعمال نہ کرنے کو کہتے ہیں، جہاں اسے استعمال کرنے سے نعمت دینے والا راضی اور خوش ہوتا ہے۔(1)
اس تعریف کے بعد انھوں نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ:
اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ایسی ہلاک کرنے والی خصلت ہے جو آدمی کو آخرت میں ابدی بدبختی، دنیا میں سزا ملنے اور نعمتوں سے محرومی کا سبب بنتی ہے۔(2)
علامہ نراقی علیہ الرحمہ نے کفران نعمت کی جو تعریف بیان کی ہے وہ تین اہم نکتوں پر مشتمل ہے:
1۔ نعمت کی ناقدری :
یعنی انسان کا اپنی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے نعمتوں کو نعمت نہ سمجھنا۔
2۔ نعمت سے ناراضگی :
یعنی انسان کا نعمتیں دینے والے کے انعام و اکرام اور احسان پر خوشی کا اظہار نہ کرنا۔
3۔ نعمتوں کا غلط استعمال:
یعنی انسان کا نعمتوں کو وہاں صرف کرنا، جہاں نعمتیں عطا کرنے والا انھیں خرچ ہوتا دیکھ کر ناراض ہو۔
بلاشبہ یہ نہایت بری صفت و خصلت ہے، لہذا ہمیں اس سے بچنا چاہیئے اور خدا نخواستہ اگر کسی کے اندر یہ صفت پائی جاتی ہو تو حقیقی استغفار اور توبہ کر کے اس سے اپنے وجود کو پاک کرنا چاہیئے۔
کفران نعمت کی وجوہات:
ممکن ہے نفس انفسانی میں اس منحوس صفت کے جنم لینے کے بہت سے سبب ہوں، لیکن یہاں اس کی فقط چند وجوہات ذکر کی جا رہی ہیں:
1۔ جہالت و حماقت:
جو نعمتیں انسان کو مفت اور آسانی سے مل جاتی ہیں چاہے وہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہوں، وہ اپنی جہالت و حماقت کی وجہ سے انھیں معمولی سمجھ کر کوئی اہمیت نہیں دیتا، اسی لئے ان پر اپنے پروردگار کا شکر ادا نہیں کرتا اور کفران نعمت یعنی ناشکری کی خطرناک بلا میں گرفتار ہوجاتا ہے، لیکن اس کی مذموم حرکت کی وجہ سے جب اس سے وہ نعمتیں چھین لی جاتی ہیں تو بلبلا اٹھتا ہے اور جزع و فزع کرنے لگتا ہے۔
2۔نافرمانی و گناھگاری:
جو بندہ اللہ تعالی کی نافرمانی اور گناہ کرنے کا عادی ہوتا ہے، اس کی یہ خبیث عادت اسے کفران نعمت اور ناشکری جیسی پست برائی میں بھی مبتلا کر دیتی ہے۔
اس کا اشارہ ہمیں مولا امام صادق علیہ السلام سے منقول اس روایت سے ملتا ہے:
شکر النعمہ، اجتناب المحارم (3)۔
یعنی نعمتوں کا شکر، حرام کاموں سے پرہیز کرنا ہے۔
اس مبارک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ رب العزت کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر حقیقت میں اسی وقت ادا ہوتا ہے، جب بندہ اس کے حرام کئے ہوئے کاموں یعنی گناہوں سے دور رہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں میں ملوث رہنے والا بندہ ہی در حقیقت اللہ تعالی کی ناشکری میں مبتلا ہوتا ہے۔
3۔ خیانت و غداری:
جس کے اندر خیایت و غداری جیسی پست صفت پائی جاتی ہے وہی نعمات و احسنانات کے بدلہ میں اپنے منعم و محسن پروردگار کی ناقدری اور نا شکری کرتا ہے اور وہی اس کی دی ہوئی نعمتوں کا اس کی مرضی کے خلاف ناجائز استعمال کرتا ہے۔
کفران نعمت، واقعاً کھلی خیانت اور غداری ہے اور اس کے بارے میں حضرت مولا امیر المومنین علیہ السلام کا فرمان ہے:
"اقبح الاخلاق الخیانہ"(4) یعنی خیانت، بدترین عادت و خصلت ہے۔
4۔ فریب نفس:
ممکن ہے بعض لوگ اپنے پاس پائی جانے والی نعمتوں کو خداوند مہربان کی عطاو بخشش کے بجائے اپنی محنت و مشقت اور ہوشیاری و ذہانت کا نتیجہ سمجھتے ہوں اور اس غلط سوچ، شیطانی وسوسہ، فریب نفس اور خناس نے انھیں اللہ رب العزت کے شکر و سپاس سے دور کر رکھا ہو، لیکن ایسے لوگوں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ دل، دماغ، سوچنے، سمجھنے کی قوت اور محنت و مشقت کرنے والے تمام اعضا و جوارح انھیں خداوند رحیم و کریم ہی نے تو عنایت فرمائے ہیں، لہذا قرآن حکیم کا یہ ارشاد بالکل سچ اور حق ہے:
"و ما بکم من نعمة فمن اللہ"(5)۔
اور تمھارے پاس جو بھی نعمتیں ہیں وہ اللہ ہی طرف سے ہیں۔
اب چاہے وہ دل، دماغ، عقل، ذہانت، علم، ھنر، ہوش و حواس اور جسم و بدن کی شکل میں ہوں یا رزق و روزی اور جوپ، نوکری اور ملازمت کے روپ میں۔
البتہ ہم سب کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالی کی ناشکری خواہ کسی سبب سے ہو، اس سے ذرہ برابر خداوند عالم کا کچھ نہیں بگڑتا، جبکہ اس کی وجہ سے ہمیں شدید خسارات و نقصانات ضرور اٹھانے پڑتے ہیں۔
کفران نعمت کے شدید نقصانات:
قرآن حکیم کی آیات اور معصومین علیہم السلام کی روایات میں کفران نعمت کے بہت سے نقصانات بیان کئے گئے ہیں کہ جن میں سے کچھ یہاں بیان کئے جا رہے ہیں:
1۔ نعمتوں کا مصیبتوں میں بدل جانا:
جب کوئی سماج اجتماعی طور پر کفران نعمت پر اتر آتا ہے تو خداوند عزیز و قدیر اس کے لئے اپنی نعمتوں کو سختیوں اور مصیبتوں میں تبدیل فرما دیتا ہے، جیساکہ سورہ نحل میں ارشاد ہوا ہے:
"وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ"(6)۔
اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن و اطمینان میں تھی، ہر طرف سے اس کا رزق فراوانی کے ساتھ اس کے پاس آتا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ نے ان کے اعمال کے سبب اسے بھوک اور خوف کا مزہ چکھایا۔
اس آیہ کریمہ میں اگرچہ پوری بستی کا ذکر ہے کہ جس نے خداوند متعال کی نعمتوں کی ناشکری و ناقدری کی تو اسے سزا کے طور پر بھوک اور خوف جیسی مصیبتوں میں گرفتار کر دیا گیا، لیکن کوئی شخص اگر انفرادی طور پر یہی پلید عمل انجام دے تو اسے بھی اس قسم کی مصیبتوں سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔
2۔ الہی عذاب کا سخت و شدید ہونا:
اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں واضح طور پر کفران نعمت کرنے والوں کو اپنے سخت و شدید عذاب کی دھمکی دی ہے، چنانچہ سورہ ابراھیم میں فرمایا ہے:
"۔۔۔۔و لئن کفرتم ان عذابی لشدید"(7) یعنی اور اگر تم کفر و ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب سخت و شدید ہے۔
بہت غور و فکر کی بات یہ ہے کہ اس آیہ کریمہ میں ناشکری سے پہلے شکر گزاری کی بات کرتے ہوئے یوں فرمایا گیا ہے:
"لئن شکرتم لازیدنکم۔۔۔" یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں ضرور زیادتی(فراوانئ نعمت) سے نوازوں گا، لیکن جب اس کے فوراً بعد ناشکری کی بات کی گئی تو یہ نہیں کہا گیا کہ اگر تم ناشکری کرو گے تو میں ضرور نعمتوں کو کم کر دوں گا یا تم سے چھین لوں گا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اگر تم ناشکری کرو گے تو اس کے بدلہ میں یقینی طور پر تمھیں میرے سخت و شدید عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس اللہ کی نگاہ میں جو رحمان و رحیم اور رئوف و غفور ہے ناشکری اتنی ناپسندیدہ اور بری چیز ہے کہ اس پر وہ ڈریکٹ اپنے سخت و شدید عذاب کی دھمکی دیتا ہے۔
جس سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ اس منحوس عمل سے ہمارا نہایت مہربان پروردگار سخت ناراض اور غضبناک ہوتا ہے، لہذا ہم بندوں کو اس بھیانک گناہ سےبہت زیادہ ڈرنا اور پرھیز کرنا چاہیئے۔
3۔ نعمتوں کی آفت و تباھی:
ہر شے کے لئے ایک آفت اور تباہی ہوتی ہے اور نعمتوں کی آفت و تباھی، کفران نعمت اور ناشکری ہے چنانچہ مولا امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے:
آفة النعم، الکفران(8)۔
نعمتوں کی آفت و تباہی، کفران نعمت ہے۔
پس نعمتیں خواہ وہ صحت و سلامتی اور عزت و شوکت کی صورت میں ہوں یا رزق و روزی اور مال و دولت کی شکل میں خواہ مخواہ تباہ و برباد نہیں ہوتیں بلکہ اس کی کچھ علتیں ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک اہم علت کفران نعمت ہے۔
4۔ الہی نفرت و عداوت:
کفران نعمت اور ناشکری ایسی پلید حرکت ہے کہ جس کی وجہ سے ہم سے بے پناہ محبت کرنے والا ہمارا عطوف و مہربان پروردگار شدید نفرت کرنے لگتا ہے، جیسا کہ حضرت مولائے کائنات علیہ السلام کے اس ارشاد گرامی سے آشکار ہے:
"وَأَبْغَضُهُمْ إِلَيْهِ الْعَامِلُ فِي نِعَمِهِ بِالْكُفْرِ"(9)۔
اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو اس کی نعمتوں میں ناشکری کا عمل انجام دیتا ہے۔
5۔پستی و کم ظرفی:
جو بندہ اپنے خالق و مالک کے انعامات و احسانات اور عنایات و نوازشات کی قدر و عزت نہیں کرتا اور انھیں پاکر اپنے جواد و کریم سید و آقا اور رب و پروردگار کے عشق و محبت میں ڈوب کر اس کا شکر اور احترام و اکرام نہیں بجالاتا، واقعا وہ نہایت کم ظرف، ذلیل، پست اور حقیر ہوتا ہے، جس کا بلیغ اشارہ مولا علی علیہ السلام کے اس نہایت مختصر قول میں پایا جاتا ہے:
"کفر النعمہ، لوم"(10) یعنی نعمتوں کی ناشکری، پستی و کم ظرفی کی علامت ہے۔
آخرکلام میں خود خداوند قادر و متعال ہی سے پناہ طلب کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس ناشائستہ اور پلید عمل سے محفوظ رکھے اور تمام تر نعمتوں پر ھمیشہ اپنا شکر و سپاس بجالانے کی توفیق کرامت فرمائے۔
اللھم وفقنا لماتحب و ترضی وا جعل عواقب امورنا خیرا۔آمین
حوالہ جات:
1۔ ملا احمد نراقی، معراج السعادہ، باب4، صفت 31، شکران نعمت و کفران نعمت۔
2۔ حوالہ سابق۔
3۔ یعقوب کلینی، الکافی، ج 2، کتاب الإيمان والكفر، باب الشكر، حدیث 10، ص 95۔
4۔عبدالواحد آمدی ، غرر الحکم و درر الکلم ، ص 188، حدیث 2906۔
5۔قرآن حکیم ، پارہ 14، سورہ نحل، آیت 53۔
6۔ حوالہ سابق ، آیت 112۔
7۔ قرآن حکیم، پارہ 13، سورہ ابراھیم، آیت 7۔
8۔ غرر الحکم ، ج 1،ص304 ، ح 3۔
9۔ حوالہ سابق ، ح 526، ص2011۔
10۔ حوالہ سابق ، ج 2، ص 575، حکمت 43۔










آپ کا تبصرہ